19 مارچ
19 مارچ 19 سال قبل مسیح کو قدیم روم جسے اب اٹلی کہا جاتا ہے کہ عظیم شاعر ویرژیل کا انتقال ہوا ۔
ویرژیل سنہ 70 قبل مسیح میں ایک دیہات میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد نے ان کی تعلیم کے تمام وسائل فراہم کئے ۔کچھ عرصے تک دوسرے شاعروں کی پیروی کے بعد انہوں نے اپنے عظیم شاہکار انہ آئیڈ ( ENEIDE ) کا آغاز کردیا ۔اگر چہ موت نے ان کو اس کی تکمیل کی مہلت نہ دی لیکن ان کی یہ کتاب عظيم ادبی شاہکار شمار ہوتی ہے ۔ویرژیل کو شاعری کے علاوہ مصوری ، موسیقی اور گلوکاری میں بھی مہارت حاصل تھی ۔
19 مارچ سنہ 1863 کو برصغیر کے مشہور عالم دین اشرف علی تھانوی یوپی ہندوستان کے ضلع مظفرنگر میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر ، میرٹھ اور دہلی میں حاصل کی اور تعلیم کی تکمیل دار العلوم دیوبند میں کی ۔فارغ التحصیل ہوکر کانپور کے مدرسے فیض عام میں تدریس کا پیشہ اختیار کیا اور ایک مدرسہ جامع العلوم قائم کیا ۔ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر ہے جس کا نام بیان القرآن ہے ۔یہ تفسیر بارہ جلدوں میں ہے اور اس کی تکمیل اڑھائي سال میں ہوئی ۔ان کا انتقال 9 جولائي سنہ 1943 کو ہوا ۔
19 مارچ 1821 ع کو مشہور انگریز مستشرق مہم جو اور سیّاح سررچرڈ برٹن پیدا ہوئے ۔انہوں نے 8 ، 9 سال ہندوستان میں فوجی ملازمت کی اور ایک عرصے تک کراچی میں رہے ۔
1853 ع میں انہوں نے عبداللہ البشریٰ کے فرضی اسلامی نام سے حج کیا اور اپنے سفر حجاز کی روداد کو " پلگریمیج ٹو المدینہ اینڈ مکّہ " نامی کتاب میں بیان کی ہے ۔
سررچرڈ برٹن نے افریقہ کی سیاحت کے دوران ایک اور مشہور سیاح " ایس پیسکے " کی معیت میں دریائے نیل سرچشمہ دریافت کیا ۔
وہ جہاں جاتے اس ملک کی زبانیں بھی سیکھتے تھے ، یہاں تک کہ عمر کے آخر میں ان کو 29 زبانوں پر عبور حاصل تھا ، ان میں عربی ، اردو ، فارسی ، گجراتی ، مرہٹی ، سندھی ،پنجابی ، سنسکرٹ اور سرائیکی زبانیں بھی شامل تھیں ۔سررچرڈ برٹن نے غزلیات حافظ ، الف لیلہ اور بہادر علی حسینی کی کتاب اخلاق حسینی کا انگریزی میں ترجمہ کیا ۔مجموعی طور پر انہوں نے 50 کتابیں لکھیں ۔اس معروف سیاح کا انتقال 20 اکتوبر 1890 ع میں ہوا ۔