31 جولائی
31 جولائی 1736 عیسوی کو فرانس کے ماہر طبیعیات چارلس اگوسٹین کولن پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد الیکٹریسٹی اور مقناطیس کے شعبوں میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور ان موضوعات پر بہت سی کتابیں تحریر کیں ۔ انہوں نے درس و تدریس کے ساتھ اپنی تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور آخر کار علم فزکس میں قوانین مرتب کرنے میں کامیاب ہوگئے جنہیں قوانین کولن کے نام سے موسوم کیا گیا انہوں نے ستر سال کی عمر میں وفات پائی ۔
31 جولائی 1713 ء کو فرانسیسی ریاضی داں " آلکسی کلرو " پیرس میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد ریاضی کے استاد تھے اور انہیں سے آلکسی کلرو نے ریاضی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی وہ 18 سال کی عمر میں فرانس کی سائنس اکیڈمی کے رکن بنے ۔ 1765 ء میں آلکسی کلرو کا انتقال ہوا ۔
31 جولائی 1806 عیسوی کو جنوبی افریقہ کے جنوبی علاقے کیپ ٹاؤن پر برطانوی فوجیوں نے قبضہ کرلیا ۔ اس طرح افریقہ کے جنوبی علاقوں پر برطانیہ کے استعماری دور کا آغاز ہوا ۔ یہ علاقہ سونے اور ہیروں کی کانوں سے مالامال ہے اسی بناپر استعماری طاقتوں کی لالچی نظریں ہمیشہ اس علاقے پر رہی ہیں ۔
31 جولائی 1880 ء کو اردو کے عظیم افسانہ نگار منشی پریم چند پیدا ہوئے ۔ وہ بنارس کے ایک گاؤں پانڈے پور میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بنارس میں ہی حاصل کی ۔ 1908 ء میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ " سوز وطن " شائع ہوا جسے انگریز حکومت نے ضبط کرلیا ۔ اس کے بعد وہ منشی پریم چند کے قلمی نام سے لکھنے لگے جبکہ اس سے پہلے وہ نواب رائے کے قلمی نام سے لکھتے تھے ۔ ان کے افسانوں کے مجموعوں میں سوز وطن کے علاوہ پریم پچیسی، پریم تبیسی ، پریم چالیسی ، زاد راہ ، واردات ، خواب و خیال اور ناولوں میں ہم خرما و ہم ثواب ، اسرار محبت ، بازار حسن ، میدان عمل ، گوشۂ عافیت اور جلوۂ ایثار شامل ہیں ۔ پریم چند کا شمار اردو کی ترقی پسند تحریک کے بانیوں میں ہوتاہے۔ ان کا انتقال 8 اکتوبر 1936 ء کو ہوا ۔
31 جولائی 1953 ء کو دنیا کا دوسرا اور پاکستان کا بلندترین پہاڑ کو ٹو سر کیا گیا ۔ سطح سمندر سے اسکی بلندی 28 ہزار 250 فٹ یا 8 ہزار چھے سو سات میٹر ہے ۔ کے ٹوسر کرنے کی مہم کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل سے ہواتھا لیکن 1939ء تک ہونے والی تمام مہمات ناکام رہیں ۔ تاہم 1953 ء میں اٹلی کے کوہ پیماؤں کی ایک پندرہ رکنی ٹیم جس کی قیادت پروفیسر دے سیو ( DESIO) کررہے تھے پاکستان پہنچی ۔ اس ٹیم کے دو ارکان اس چوٹی کو سر کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس کے بعد بھی کے ٹو کو کئی بار سرکیاگيا کے ٹو کی اہمیت صرف اسکی بلندی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ خوبصورت چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے اردگرد قطبین کے بعد دنیا کی سب سے بڑی وادی گلیشئیرز اور بلتستان کی حسین وادیاں بھی واقع ہیں ۔