3 جولائی
3 جولائی سنہ 1883 ع کو چیکوسلواکیہ کا معروف ادیب فرانس کافکا پیدا ہوا ۔ اس کو بڑے بڑے ادیبوں کی تخلیقات پڑھنے کا بہت شوق تھا اور پھر خود نے بھی لکھنا شروع کیا ۔
کافکا نے اپنا بچپن مشکل حالات میں گزارا ۔وہ ہر چیز کو مایوس کن اور پست سمجھتا تھا اور اس مایوسی کواس کے آثار میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔کافکا کا سنہ 1924 ع میں انتقال ہوا ۔
3 جولائی 1904 ع کو عالمی صیہونزم تحریک کے بانی تھئوڈر ہرٹزل کا انتقال ہوا ۔
وہ 1860 ع میں ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ میں پیدا ہوئے تھے ۔ہرٹزل بعد میں آسٹریا چلے گئے جہاں ان میں یہودیوں کو ایک علیحدہ و آزاد ملک میں جمع کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور اس نظریئے کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں انہوں نے 1895 ع میں " یہودی حکومت " نامی کتاب لکھ ڈالی اس کتاب میں انہوں نے صیہونی نظریئے کو پیش کیا جس کی بنیادیں توسیع پسندی اور نسلی برتری پر استوار ہیں ۔
ہرٹزل اور ان کے ہم خیالوں نے 1897 ع میں سوئٹزرلینڈ کے شہر " بال " میں ایک کانفرنس منعقد کی جس کے دوران انہوں نے " عالمی صیہونی تنظیم " کی بنیاد ڈالی ۔
ہرٹزل نے فلسطین کو غصب کرنے کےناجائز یہودی مقصد کی تکمیل کے لئے سلطنت عثمانیہ کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کی ، لیکن وہ اس میں ناکام رہے ۔
اگر چہ تھئوڈر ہرٹزل 1904 ع میں انتقال کرگئے لیکن غیر قانونی اور نسل پرست صیہونی حکومت ( اسرائیل ) کے قیام میں ان کے افکار و نظریات کا کردار بنیادی رہا ہے ۔
3 جولائی سنہ 1953 ع کو پاکستان کی دوسری بلندترین چوٹی نانگاپربت کو سرکیا گیا ۔نانگا پربت دنیا کی 10 بلندترین چوٹیوں میں سے نویں بلندترین چوٹی ہے ۔اس کی بلندی چھبیس ہزار چھ سو ساٹھ فٹ ہے ۔یہ شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں واقع ہے ۔اس سے پہلے نانگا پربت چوٹی کو سرکرنے کی کوشش میں کئی مہم جو ہلاک ہوچکے تھے ۔اس چوٹی کو سرکرنے کی پہلی کوشش 1895 ع میں ایک برطانوی مہم جو نے کی تھی جس کے دوران دو افراد مارے گئے تھے ۔اس چوٹی کو سرکرنے کی متعدد بار ناکام کوششیں ہوچکی تھیں لیکن پھر بھی لوگوں نے کوشش جاری رکھی اور بالآخر 3 جولائي سنہ 1953 ع کو ایک جرمن مہم جو ہرمن بوہل اس چوٹی کو سرکرنے میں کامیاب ہوگیا۔