1 جولائی
1 جولائی 1646 ع کو جرمن ریاضی داں او فلسفی گولفریڈ ویلیم لایب نیتز جرمنی کے شہر لائپزیگ میں پیدا ہوئے.
انہوں نے پہلے فلسفے کی اور بعد میں ریاضی کی تعلیم حاصل کی . اسی مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی . لائب نیتز نیوٹن کے زمانے میں ہی ریاضی میں اصول تحلیل کا انکشاف کرنے میں کامیاب ہواتھا - اس جرمن ریاضی داں کی کتابوں میں '' شعور آدمی سے متعلق جدید تحقیقات '' '' بحث'' ''ماوراء الطبیعہ ''، '' اخلاق'' اور خیرو شر '' قابل ذکر ہیں .
1 جولائی 1852 ع کو بر صغیر کا پہلا ڈاک ٹکٹ جاری ہوا - یہ ڈاک ٹکٹ تاریخ میں سندھ ڈاک ٹکٹ کے نام سے معروف ہے جو ایسٹ انڈ یا کمپنی کے زیر اہتمام کراچی سے شائع ہواتھا -یہ ڈاک ٹکٹ نہ حروف یہ کد برصغیر بلکہ براعظم ایشیا کا بھی پہلد ڈاک ٹکٹ تھا - اس ٹکٹ پر الیسٹ انڈ یا کمپنی کا منو گرام اور سندھ ڈسڑکٹ ڈاک کے الفاظ چھپے ہوئے تھے .
1 جولائی 1867 ع کو کنیڈا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی . کینڈا 15 وین صدی عیسوی کے اواخر میں دریافت ہواتھا اور اس کے بعد سے دوصدیوں سے زیادہ تک کینڈا پر قبضے کے لئے برطانیہ اور فرانس کے در میان رسہ کشی جاری رہی - یہ رسہ کشی ان دونوں سامراجی ممالک کے در میان جنگوں کا سبب بنی جو 1689 ع سے تقریباَ 75 سال تک جاری رہی تھیں اور ان جنگوں میں بالآخرہ فرانس کو شکست ہوئی تھی.
19وین صدی کے اوائل سے کینڈا کی آزادی کی تحریک شروع ہوئی اور 1867 ع میں اسکو آزادی ملی.
1 جولائی 1960 ع کو برطانوی صومالیہ اور اطالوی صومالیہ کے ادغام سی صومالیہ کا ملک وجود میں آیا .
1884 ع میں برطانیہ نے صومالیہ کے ایک حصے کو اپنی نو آبادیات میں شامل کیا ، اس کے بعد اس کے بعض دیگر علاقوں پرایٹلی قابض ہوا 1901 ع سے 1920 ع تک حریت پسند لیڈر محمدبن عبداللہ حسان نے برطانوی سامراج کے ضدف تحریک چلائی لیکن کامیاب نہ ہوسکے .
اقوام متحدہ نے 1950ع میں اٹیلی سے صومالیہ کو آزاد کرنے کی اپیل کی 1960ع میں برطانوی صومالیہ اور اطالوی صومالیہ آزاد ہوئے اور دونوں کے ادغام کے بعد یکم جولائی 1960 ع کو مملکت صومالیہ معرض وجود میں آیا 1969 ع سے صومالی عوام ''محمد زیاد بارے '' کی آمریت تلے دبے رہے اس دور کا اہم واقعہ صحرائے اوگاڈن کی ملکیت کے بارے میں صومالیہ کی ایتھویو پیا کے ساتھ 1977 ع کی سات ماہیہ جنگ ہے.
جس میں ایتھیوپیا کو کامیابی حاصل ہوئی.
زیاد بارے کی حکومت 1991ع میں مخالفین کے ہاتھوں سرنگوں ہوئی .
صومالیہ شمال مشرقی افریقہ کے اس علاقے میں واقع ہے جیسے افریقہ کاسینگ کہاجاتاہے . اس کی سرحدیں ایتھوپیا ، کنیا اور جیبوئی سے ملتی ہیں.
صومالیہ بحر ہند اور خلیج عدن کے ساحل پر واقع ہے.
یکم جولائی 1997 ع کو برطانیہ نے ہانگ کانگ کا اہم جزیرہ چین کو واپس کردیا.
1842 ع میں جنگ افیون کے دوران برطانوی فوج نے اس جزیرے پرقبضہ کیا اور چین نے اس کو واپس لینے کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا چنانچہ 1898 ع میں ایک معاہد ے کے تحت ہانگ کانگ 99 سال کے پٹے پر برطانیہ کے حوالے کیاگیا.
1985 ع میں دونوں ملکوں نے ایک معاہدے پردستخط کئے جس کی روسے برطانیہ ہانگ کانگ پر اپنی اجارہ داری ختم کرکے اس کو چین کے حوالے کرنے پر مجبور ہوا.
1 جولائی 2003 ع کو معروف سندھی افسانہ نگار جمال ابڑو نے 80 سال کی عمر میں وفات پائی - جمال ابڑو پاکستان کے ممتاز ماہر تعلیم علی خان ابڑو کے بیٹے تھے .انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سانگی میں حاصل کی اور کچھ عرصہ جوناگڑ ھ میں بھی زیر تعلیم رہے.
تعلیم مکمل کرنے کے بعد جمال ابڑو 1948 ع میں وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے اور سندھ ہائی کورٹ کے حج کے طورپر ریٹائر ہوٹے - اس دوران وہ سندھ اسمبلی کے سیکریٹری اور سوسنر ٹر بیوتل کے چیڑ میں بھی رہی البتہ ان کی پہنچان ادب اور ان کے ترقی پسند خیالات سے تھی - جمال ابڑو نے اسکول کے زمانے سے ہی لکھنا شروع کردیاتھا . ان کی پہلی کتاب '' پشتو پاشا'' افسانوں کا مجموعہ تھی . جس نے انہیں امر کردیا - ان کی کہانیوں نے مواد 'اسلوب' فن اور خیالات کے حوالے سے سندھی ادب میں ایک انقلاب بر پا کردیا - ان کے بعض افسانوں کاترجمہ اردو انگریزی روسی اور جرمن زبانوں میں بھی ہوچکاہے.