9 جنوری

9 جنوری سنہ 1960 کو مصر میں دریائے نیل پر آسوان بند کی تعمیر شروع ہوئی ۔اس بند کی تعمیر کا کام مصر کا ایک اہم اقتصادی منصوبہ تھا جس کا اعلان سنہ 1953 میں مصر کے اس وقت کے صدر جمال عبدالناصر نے کیا تھا اور مغربی ممالک نے بھی اس میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔لیکن سنہ 1956 میں جمال عبدالناصر کی طرف سے نہر سویز کو قومی تحویل میں لینے اور مصر پر فرانس ، برطانیہ اور صیہونی حکومت کے مشترکہ حملے کے بعد مغربی حکومتوں نے جمال عبدالناصر پر دباؤ ڈالنے کے لئے آسوان بند کی تعمیر میں مدد دینے سے انکار کردیا ۔دوسری طرف روس نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سلسلے میں مصر کو مالی اور تکنیکی امداد فراہم کی۔جس کےبعد جمال عبدالناصر کا رجحان روس کی طرف ہوگیا۔آسوان بند مصر کے جنوب میں واقع ہے ۔اس کی اونچائی 114 میٹر اور لمبائی 3600 میٹر ہے اور اس سے 2100 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جبکہ بہت سی زرعی زمینیں بھی اس سے سیراب ہوتی ہیں ۔

 

 


 

41 سال قبل 9 جنوری سنہ 1964 کو نہر پاناما کے علاقے میں امریکی پرچم لہرائے جانے کی وجہ سے پاناما میں زبردست شورشوں کا آغاز ہوگیا جس کے نتیجے میں اس ملک کے کچھ لوگ امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاک اور زخمی ہوگئے ۔

واضح رہے کہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران پاناما کے 134 علاقوں میں فوجی اڈے قائم کئے اور عملا" اس ملک پر فوجی قبضہ کرلیا۔

 

 


 

9 جنوری سنہ 1841 ع کو ڈاکٹر جان گل کرسٹ کا انتقال ہوا ۔وہ سنہ 1759 میں ایڈنبرا میں پیدا ہوئے ۔جہاں انہوں نے طب کی تعلیم حاصل کی اور 1782 ع میں ہندوستان چلے گئے ۔

گل کرسٹ بے حد ذہین اور دوراندیش تھے ۔بمبئی کے ساحل پر قدم رکھتے ہی انہوں نے اس حقیقت کو محسوس کرلیا کہ جب تک وہ ہندوستانی زبان پر مکمل عبور حاصل نہ کریں گے اس وقت تک وہ وہاں کی زندگي سے لطف اندوز نہ ہوسکیں گے اور انہوں نے اپنی طبی پریکٹس چھوڑکر لسانیات میں مہارت حاصل کرنا شروع کردی ۔3 سال کی قلیل مدت میں انہوں نے نہ صرف یہ کہ ہندوستانی زبان پر عبور حاصل کرلیا بلکہ ہندوستانی زبان کے قواعد اور لغت پر ایک کتاب کے لئے خاصہ مواد بھی اکٹھا کرلیا۔اس دوران وہ غازی پور میں مقیم رہے اور یہیں ان کی پہلی کتاب انگریزی ہندوستانی لغت چھپ کر منظر عام پر آئی ۔ان کی تصنیف ، تالیف یا ترجمہ شدہ کتابوں کی تعداد 60 سے زیادہ تھی ۔

 

 


 

9 جنوری سنہ 1792 ع کو سلطنت عثمانیہ اور روسی بادشاہت کے درمیان جاسی کے مقام پر ایک امن معاہدے پر دستخط ہوئے ۔اس معاہدے پر دستخط کے بعد اٹھارہويں صدی میں یورپ کی جنگوں کا خاتمہ ہوگیا۔

واضح رہے کہ یہ جنگيں اگست سنہ 1787 میں روسی اور آسٹریائی سلطنت کے اتحاد کے خلاف اعلان جنگ کے بعد شروع ہوئیں ۔جنگ ختم ہونے کے بعد روسیوں نے جزیرہ نمائے کریمیہ سمیت سلطنت عثمانیہ کے وسیع علاقے پر قبضہ کرلیا۔

 

 


 

9 جنوری سنہ 1768 کو فرانس کے انقلابی سردار لازار ہوش پیدا ہوئے ۔انہوں نے انقلاب فرانس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔لازار ہوش کی اصل شہرت مہاجرین کے نام سے مشہور انقلاب فرانس کے مخالفین کو کچلنے کی وجہ سے ہے ۔

برطانیہ بھاگ جانے والے مہاجرین برطانیہ کی مدد سے جون سنہ 1795 میں فرانس کے مغربی ساحلوں پر اترے تاکہ جمہوری نظام کا خاتمہ کرسکیں ۔لیکن انقلاب کے حامیوں نے لازار ہوش کی قیادت میں انہیں شکست دی ۔لازار ہوش کا سنہ 1797 میں صرف 29 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔