یکم جنوری
یکم جنوری سنہ 1956 عیسوی کو سوڈان ، مصر اور برطانیہ کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے میں کامیابی ہوا اور یہ دن اس ملک کا قومی دن قرار پایا ۔
سنہ 1899 میں مصر اور برطانیہ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کی رو سے سوڈان کا انتظام ان ملکوں کے حوالے کردیا گیا تھا ۔اس میں طے پایا سوڈان کا گورنر جنرل برطانیہ کی رضامندی سے حکومت مصر مقرر کرے گي اور اس طرح سوڈان سامراج کے قبضے میں چلا گيا تھا ۔سنہ 1924 سے چھتیس کے دوران بڑی حد تک سوڈان کے انتظامی امور صرف برطانیہ کے ہاتھ میں تھے ۔
20 ویں صدی کے نصف دوم کے آغاز میں ہی سوڈان کی خود مختاری کی آواز بلند ہوئی اور بالآخر سنہ 1956 میں مصر اور برطانیہ نے سوڈان کی خود مختاری کو تسلیم کرلیا اور ملک میں جمہوری حکومت قائم ہوگئی ۔سوڈان براعظم افریقہ کے شمال مشرقی حصّے میں 25 لاکھ 5 ہزار آٹھ سو تیرہ کلومیٹر مربع علاقے میں پھیلا ہوا ہے ۔اس کی سرحدیں مصر ، لیبیا ، چاڈ ، زئیر ، کینیا ، یوگینڈا اور اتیھوپیا سے ملتی ہیں ۔
یکم جنوری سنہ 1959 کو کیوبا کا انقلاب کامیاب ہوا اور کیوبا کے معروف ڈکٹیٹر جنرل باٹسٹا کے فرار کے بعد ملک سے اس کا اور دوسرے امریکی ایجنٹوں کا صفایا ہوگیا ۔اس انقلاب کے قائد فیڈل کاسترو اس وقت صرف تیس سال کے تھے جنہوں نے قانون کے شعبے میں تعلیم حاصل کی تھی ۔فیڈل کاسترو کی قیادت میں چھاپہ مار تحریک اور سنہ 1959 میں اس کی آخری کامیابی نے امریکہ کو سخت مشکلات سے دوچار کردیا تھا ۔اس لئے امریکہ نے کاسترو حکومت کے خلاف بڑی ہی دشمنانہ اور تشدد آمیز پالیسی اپنائی بالآخر جنوری سنہ 1961 میں دونوں ملکوں کے تعلقات بالکل منقطع ہوگئے اور ابھی تک سیاسی تعلقات معمول پر نہیں آئے ہیں ۔
یکم جنوری سنہ 1808 عیسوی کو برطانیہ میں غلامی پر پابندی کا قانون پاس ہوا اور اس طرح بردہ فروشی یا غلاموں کی خرید و فروخت کے خلاف جاری جنگ میں سب سے پہلی کامیابی حاصل ہوئی یاد رہے کہ امریکہ اس زمانے میں بھی بردہ فروشی کا اہم مرکز تھا اور وہاں سیاہ فام غلاموں کے ساتھ نہایت ہی غیرانسانی اور وحشیانہ سلوک ہوتا تھا ۔
یکم جنوری سنہ 1993 کو ماسٹریخٹ معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوا ۔جس کے تحت یورپ کے 12 ملکوں کے درمیان اقتصادی اور اس سے زیادہ اہم سیاسی لحاظ سے سرحدیں ختم کردی گئیں ۔اس سے قبل 10 دسمبر سنہ 1991 کو یورپ کی اقتصادی برادری کے رکن 12 ممالک کے سربراہوں نے جنوبی ہالینڈ کے تاریخی شہر ماسٹریخٹ میں متحدہ یورپ کے معاہدے پر دستخط کردیئے تھے ۔ماسٹریخٹ معاہدے کی ایک شق میں جو شنگن معاہدے کے نام سے مشہور ہے ۔ان تمام ملکوں کے رہنے والوں کے لئے بغیر ویزہ اور کسٹم و غیرہ کے ایک ملک سے دوسرے ملک کی سرحدیں عبور کرسکنے کی اجازت کا اعلان کیا گیا تھا ۔اس وقت جرمنی، بیلجیم، فرانس ، ہالینڈ ، اسپین ،پرتگال ، اٹلی ، یونان اور آسٹریا اس معاہدے کے رکن تھے ۔