19 فروری

19 فروری سنہ 1473 عیسوی کو پولینڈ کے ماہر فلکیات اور ریاضیدان " نیکولائے کوپر نیک " پیدا ہوئے ۔انہوں نے علم نجوم کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد طب کی تعلیم حاصل کی اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد روم میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے ۔لیکن ان تمام مصروفیات کے باوجود علم نجوم کے مطالعے سے دستبردار نہ ہوئے اور کچھ عرصے بعد سنہ 1503 عیسوی میں ستاروں کی تحقیق کے ساتھ یہ انکشاف بھی کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی اور 24 گھنٹے میں اپنا ایک چکر پورا کرتی ہے کوپر نیک نے سنہ 1543 میں وفات پائی ۔

" آسمانی اشیا کی حرکت " ان کی مشہور کتاب ہے ۔

 

 


 

19 فروری سنہ 1997 کو چین کے قائد اور اس ملک میں اقتصادی اصلاحات کے بانی دنگ شیائوپینگ کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔شیائوپینگ 75 سال تک چین میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور گزشتہ چند دہائیوں میں اس ملک کے بقول حکام میں شمار کئے جاتے تھے ۔

ان کی سربراہی کے دوران چین میں اہم سیاسی اور اقتصادی تبدیلیاں آئیں ۔

شیائوپینگ نے چین کے سوشیلسٹ نظام میں بنیادی تبدیلیاں لاکر کھلے بازار کی طرف ہدایت کی۔ان کی نئی پالیسیوں کے تحت چین نے بین الاقوامی میدان میں قدم رکھا اور مختلف ملکوں کے ساتھ کشیدگی کم کرکے عالمی سطح پر ایک خاص مقام حاصل کیا۔

سنہ 1990 میں شیائوپینگ نے بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے سارے عہدوں سے استعفی دے دیا تھا ۔اس کے باوجود تا دم مرگ ان کا شمار چین کی ممتازترین شخصیتوں میں ہوتا تھا ۔

 

 


 

19 فروری سنہ 1951 عیسوی کو فرانس کے مشہور مصنف آندرے ژید کا 82 سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔

آندرے ژيد سنہ 1869 عیسوی کو پیرس میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصّہ شمالی افریقہ خصوصا" الجزائر میں گزارا اور اپنی بہت سی کہانیوں کا موضوع ان ہی سرزمینوں کے عوام کی زندگی سے حاصل کیا۔

" دیہی گیت " آندرہ ژید کی نہایت مقبول کتاب ہے ۔

 

 


 

19 فروری سنہ 1986 عیسوی کو اردو کے مشہور ادیب ، مورّخ اور محقق ، مولانا اعجاز الحق قدوسی نے وفات پائي ۔وہ جولائی سنہ 1905 میں جالندھر میں پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق سلسلہ چشتیہ کے نامور صوفی شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے خانوادے سے تھا اور اسی نسبت سے قدوسی کہلاتے تھے ۔شعر و ادب اور تصوّف و مذہب سے لگاؤ کی وجہ سے تصنیف و تالیف کا سلسلہ اختیار کیا اور بچّوں کے لئے سیرت رسول (ص) اور صحابہ کرام پر کئی کتابیں تصنیف کیں ۔

سنہ 1951 میں اعجاز الحق قدوسی پاکستان چلے گئے جہاں انتہائي دشوار اور نامساعد حالات کے باوجود اپنی تاریخ ساز تصانیف کا سلسلہ جاری رکھا ۔انہوں نے متعدد تاریخی کتابیں تالیف کیں جن میں 3 جلدوں میں تاریخ سندھ اور سندھ کی تاریخی کہانیاں خصوصا" قابل ذکر ہیں ۔اس کے علاوہ توزک جہانگیری کا اردو ترجمہ بھی ان کا ایک شاہکار ہے ۔