29 اگست
29 اگست 2003 عیسوی کو عراق کے مجاہد عالم دین آیت اللہ سید محمد باقرالحکیم کو نجف اشرف میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے روضے کے سامنے ایک زوردار دھماکہ کرکے شہید کردیا گیا ۔اس دھماکے میں ان کے ہمراہ 83 بے گناہ افراد شہید اور دسیوں زخمی ہوئے ۔
وہ 1939 میں ایک اہل علم اور مجاہد گھرانے میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے دینی تعلیم خاص طور سے اپنے والد بزرگوار آیت اللہ محسن حکیم سے حاصل کی ۔انہوں نے صدام کی استبدادی حکومت کے خلاف جد وجہد شروع کی اور عراق میں حالات خراب ہونے اور صدام کی سرکوب کی پالیسی میں شدت آنے کے بعد انہوں نے صدام کے خلاف جد وجہد کو عراق سے باہر یعنی ایران میں جاری رکھنے کوترجیح دی ۔آیت اللہ باقرالحکیم نے 1981 میں عراقی مجاہد شخصیات اور تنظیموں کے ساتھ مل کر سپریم کونسل برائے انقلاب اسلامی کی بنیاد رکھی اور وہ اس کے سربراہ بنے ۔اپریل 2003 میں عراق پر امریکہ اور برطانیہ کے قبضے اور صدام حکومت کی سرنگونی کے بعد وہ عراق واپس لوٹ گئے تا کہ ملکی حالات پر قریب سے نظر رکھ سکیں ۔
29 اگست سنہ 1949 ع کو سوویت یونین نے خفیہ طور پر اپنے پہلے ایٹم بم کا تجربہ کیا۔اس طرح ایٹمی ہتھیاروں پر امریکہ کی اجارہ داری ختم ہوگئی اور امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان توازن قائم ہوا جسے دہشت کا توازن کہتے ہیں ۔اس کے بعد فریقین نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے احتراز کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کو تیز تر کردیا جسے سرد جنگ کہاجاتا ہے ۔یہ سرد جنگ مشرق و مغرب کے بلاکوں کے درمیان سنہ 1991 ع میں سوویت یونین کے خاتمے تک جاری رہی ۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے حملے کا خطرہ کم ہوگیا تا ہم امریکہ اور صیہونی حکومت کی طرف سے ان خود مختار اور آزاد ممالک کے خلاف اس کے استعمال کی دھمکیاں جاری ہیں جوان کی توسیع پسند پالیسیوں کے خلاف ہیں ۔