2 اگست

2 اگست 1734 ء کو فرانسیسی موجد ڈینس پاپن کا انتقال ہوا ۔ انہوں نے بھاپ سے چلنے والا پہلا انجن ایجاد کیا ۔ ڈینس پاپن کے بھاپ سے چلنے والے انجن کی ایجاد کے بعد بھاپ سے چلنے والی گاڑیاں اور بحری جہاز بھی بنائے گئے ۔

 


 

 2 اگست 1772ء کو پاکستان کے صوبۂ سندھ پر 1699 سے 1784 تک حکومت کرنے والے کلہوڑا خاندان کے ایک اہم فرمانروا میاں غلام شاہ کلہوڑا نے وفات پائی ۔ انہوں نے 1756 سے 1772 تک اس علاقے پر حکومت کی ۔ میاں غلام شاہ کلہوڑا کو اپنے عہد حکومت کے اوائل میں مختلف سازشوں اور شورشوں کا سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے نہایت حسن تدبیر سے ان تمام سازشون اور شورشوں کا قلع قمع کیا اور پورے خطے میں امن و امان بحال کیا انہوں نے نئے شہروں کی تعمیر کی جن میں سب سے اہم نام حیدرآباد کا ہے انہوں نے سندھ کی حکومت کو ایک طرف ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان تک وسیع کیا تو دوسری طرف اسے کراچی تک وسعت دی ۔ تاہم انہوں نے 1758 میں انگریزوں کو سندھ میں تجارتی کوٹھی بنانے کی جو اجازت دی اس نے آگے چل کر اس خطے کے لئے بڑی مشکلات پیدا کیں ۔ میاں غلام شاہ کلہوڑا کو ان کے انتقال کے بعد ان کے آباد کردہ شہر حیدر آباد میں دفن کیا گیا ۔

 


 

 2 اگست 1934 کو جرمنی کے صدر اور پہلی جنگ عظیم میں حلیف ممالک کی فوجوں کے سربراہ فیلڈ مارشل ہیڈنبرگ نے وفات پائی ۔ وہ 1925 میں جرمنی کے پہلے صدر منتخب ہوئے ۔ ہیڈنبرگ نے 1932 کے صدارتی انتخابات میں نازی پارٹی کے سربراہ ہٹلر کے قدرت و طاقت حاصل کرنے کے باوجود اس کے خلاف کامیابی حاصل کی لیکن وہ ایک سال کے بعد اسے چانسلر بنانے پر مجبور ہوگئے ۔ ہیڈنبرگ کی وفات کے بعد ہٹلر نے جرمنی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی اور پھر اس کے بعد اپنے فاشسٹ اور توسیع پسندانہ نظریات اور منصوبوں پر پوری طاقت سے عمل کیا ۔


 

 2 اگست 1990 ء کو عراق کی جارح حکومت کی فوج نے اپنے پڑوسی ملک کویت پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا ۔ 1980 ء میں ایران پر ہونے والے حملے کے بعد عراق کی جارح فوج کا یہ دوسرا حملہ تھا ۔ صدام حکومت سرزمین کویت پر اپنا دعوی کرتی تھی اور کویت کو عراق کا 19 واں صوبہ کہتی تھی ۔ صدام حکومت چاہتی تھی کہ کویت پر قبضہ کرکے جو تیل کے ذخائر سے مالامال ہے خلیج فارس کی ایک بڑی طاقت کی حیثیت حاصل کرلے اور عرب دنیا کی لیڈرشپ بھی اپنے ہاتھ میں لے لے لیکن کویت پر عراقی جارحیت کے سلسلے میں دنیا میں عراقی حکومت کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا گيا ۔ دنیا کے ممالک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق کے اس اقدام کی مذمت کی اور کویت سے عراقی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا ۔ بہرحال امریکہ کی قیادت میں بعض ممالک نے اپنی افواج خلیج فارس کے علاقے میں بھیجدیں ۔ تقریبا" سات ماہ کی سیاسی کوششوں کے بعد بھی عراق کویت سے اپنی فوج کے انخلا کے لئے تیار نہ ہوا جس کے نتیجے میں اتحادی ممالک نے عراق پر حملہ کردیا جس سے عراقی فوج اور عوام کو بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ۔ بالآخر 28 فروری 1991 ء کو کویت پر عراقی فوج کا قبضہ ختم ہوا ۔