7 اپریل

7 اپریل سنہ 1937 کو اٹلی نے البانیہ پر قبضہ کرنے کے لئے وسیع حملوں کا آغاز کردیا ۔اس حملے میں دس ہزار فوجیوں کے علاوہ چار سو جنگي طیاروں نے حصّہ لیا ۔اس پانچ روزہ جنگ میں البانوی فوجیوں کو شکست ہوئی اور البانیہ پر اٹلی کا قبضہ ہوگیا ۔

 


 

7 اپریل سنہ 1614 ع کو مشہور یونانی مصور ال گریکو کا انتقال ہوا ۔ال گریکو نے مصوری کی تعلیم وینس میں حاصل کی ۔پھر وہ روم چلا گیا جہاں اس نے مائیکل اینجلو کے کام کا بغور مطالعہ کیا اور خود بھی ایک گرجے کی تصویر کو منقش کیا ۔سنہ 1577 ع کے لگ بھگ وہ اسپین کے شہر طلیطلہ چلا گیا جہاں اس نے اپنی متعدد معرکۃ الآراء پینٹنگز تخلیق کیں ۔ال گریکو کی مصوری کا غالب حصّہ مذہبی ہے ۔ال گریکو کو اپنے زمانے میں مقبولیت حاصل نہ ہوئی لیکن مصوری کے جدید ناقدین نے اسے دنیا بھر کے عظیم فنکاروں میں ایک اہم مقام دے دیا ہے ۔ال گریکو کاانتقال کا 7 اپریل سنہ 1614 کو طلیطلہ کے مقام پر ہوا ۔

 

 


 

7 اپریل سنہ 1656 کو عہد شاہ جہانی کے مشہور وزیر اور عالم سعد اللہ گلشن نے وفات پائي ۔وہ پاکستان کے شہر چنیوٹ میں پیدا ہوئے اور لاہور میں تعلیم حاصل کی ۔نومبر سنہ 1640 ع میں شاہ جہاں کے دربار سے وابستہ ہوئے ۔چار سال کے بعد غیر معمولی ترقی کرکے وزیر اعظم بن گئے اور وفات تک اسی عہدے پر فائز رہے ۔سعداللہ گلشن کو تعمیرات سے بھی بڑا شعف تھا ۔دہلی کی جامع مسجد اور قلعہ معلّی انہی کی زیر نگرانی تعمیر ہوا ۔

 

 


 

7 اپریل 1721 ع کو روس کے شہنشاہ پیٹراعظم نے سوئیڈن پر حملے کا آغاز کیا ۔اس سے پہلے سوئیڈن ، پولینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ 1700 ع سے شمال کی جنگوں میں مصروف تھا ، اور روسی یلغار کے وقت اس نے متحارب ممالک سے صلح کی تھی اس کے ساتھ ساتھ وہ روس کے ساتھ بھی صلح کا معاہدہ کرنا چاہتا تھا ، لیکن توسیع پسندی کے عزائم کے تحت پیٹر اعظم نے لشکرجرار کے ساتھ سوئیڈن پر حملہ کیا ، اس کے بعد نوشتاد نامی صلح معاہدہ اس پر مسلّط کردیا ۔

اس معاہدے کی رو سے فنلینڈ کا ملک اور سوئیڈن کے کچھ علاقے روسی قلمرو میں شامل ہوئے ، کیوں کہ فنلینڈ سوئیدن کے قبضے میں تھا ۔اس طرح سوئیڈن کی طاقت گھٹ گئی اور روس یورپ کی ایک سپر طاقت میں تبدیل ہوگیا ۔

 

 


 

7 اپریل 1770 ع کو مشہور انگریز رومانوی شاعر ویلئم ورڈزورس پیدا ہوئے ۔انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ۔ورڈزورس فرانس جاکر انقلاب فرانس سے متاٹر ہوئے ۔ان کے اشعار میں سادگی اور لطافت نمایاں ہے ۔ ورڈزورس کی تصانیف میں "شام کی سیر " ، " تعریفی یادداشتیں " اور " نغمے " قابل ذکر ہیں۔ویلئم ورڈزورس 1850 ع میں انتقال کرگئے ۔

 

 


 

7 اپریل سنہ 1947 ع کو امریکی موجد اور دانشور ہنری فورڈ کا 84 سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔ہنری فورڈ سنہ 1863 ع کو گرین فیلڈ میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لیکن دھیرے دھیرے ایک عظیم صنعت کار اور سرمایہ دار بن گئے ۔فورڈ کا شمار موٹر کے موجدین میں ہوتا ہے ۔