30 اپریل

30 اپریل سنہ 1870 ع کو ہندوستانی سینما کے خالق دادا صاحب پھالکے پیدا ہوئے ۔وہ بمبئي کے قریب ناسک کے مقام تریمبک میں پیدا ہوئے ۔دادا صاحب نے بمبئي کے مشہور جے جے اسکول آف آرٹ میں مصوری اور فوٹوگرافی کی تربیت حاصل کی ۔وہ کچھ عرصہ محکمہ آثار قدیمہ سے وابستہ رہے پھر طباعت سے اپنے کام کا آغاز کیا۔1910 میں لائف آف کرائسٹ نامی ایک خاموش فلم دیکھنے کے بعد ان کی زندگی کا رخ ہی بدل گیااور وہ کرشن بھگوان کی زندگي پر اسی نوع کی فلم بنانے کی منصوبہ بندی کرنے لگے ۔فلمسازی کی تربیت اور آلات کے حصول کے لئے وہ انگلستان گئے اور دو ماہ کے بعد واپس ہندوستان چلے گئے ۔اپنے فلمی کیریئر میں انہوں نے 30 مختصر اور 99 طویل خاموش فلمیں بنائیں ۔جب متکلم فلموں کا دور آیا تو وہ ایک متکلم فلم گنگا وتران بنا کر فلمی زندگي سے ہمیشہ کے لئے ریٹائر ہوگئے ۔

 


 

30 اپریل 1956 کو جرمن شاعر اور مصنف برتولت برشت نے وفات پائی ۔وہ 1898 میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے نیچرل سائنسز کے شعبے میں اپنی تعلیم مکمل کی ۔جرمنی میں نازیوں کے برسر اقتدار آنے کے زمانے میں وہ اپنی نقادانہ طبیعت کی بنا پر نازی ازم کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے لیکن نازی پارٹی ان کے پیچھے پڑگئی اور وہ امریکہ فرار ہوگئے ۔جنگ ختم ہونے پر وہ وطن واپس لوٹ آئے اور آخری عمرتک جرمنی میں رہے ۔

 


30 اپریل سنہ 1945 ع کو نازی جرمن لیڈر ہٹلر نے خود کشی کی ۔ہٹلر نے دنیا پر تسلط حاصل کرنے پر مبنی اپنی پالیسیوں کی ناکامی کے بعد دارالحکومت برلن میں ایک تہہ خانے میں خود کشی کی ۔ہٹلر سنہ 1889 ع کو آسٹریا میں پیدا ہوا ۔اس نے پہلی عالمی جنگ میں جرمن فوجیوں کے ساتھ جنگ میں شرکت کی۔اس نے نیشنل سوشلٹ پارٹی کی بنیاد رکھی ۔بغاوت کی کوشش کرنے کے سلسلے میں سنہ 1923 ع کو اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔آٹھ ماہ تک وہ جیل میں رہا اور اسی دوران اس نے " میری جنگ " نامی کتاب تحریر کی۔سنہ 1933 میں وہ جرمنی کا چانسلر بنا ۔اس نے گشٹاپو کی مدد سے اپنے مخالفین اور حریت پسندوں کو کچل دیا۔سنہ 1939 ع میں اس نے دوسری عالمی جنگ کا آغاز کیااور جرمنی کی مکمل شکست سے قبل اس نے خودکشی کرلی ۔

 


30 اپریل 1653 کو برطانیہ کی نمائشی پارلیمنٹ کے خلاف اولیور کرامول کی تاریخی بغاوت ختم ہوئی ۔کرامول نے اس بغاوت کے دوران پارلیمنٹ کے ارکان کو طاقت کے زور پر پارلیمنٹ سے نکال دیا ۔اس بغاوت کے بعد برطانیہ کی زمام حکومت باضابطہ طور پر کرامول کے ہاتھ میں دے دی گئی اور 1657 کو نئی پارلیمنٹ کی تشکیل کے بعد سلطنت کا عہدہ کرامول کوپیش کیا گيا لیکن انہوں نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔


30 اپریل 1030 کو مسلمان سپہ سالار محمود غزنوی کا انتقال ہوا ۔ان کااصل نام ابوالقاسم محمود تھا ۔وہ 2 اکتوبر 971 کو غزنی میں پیدا ہوئے اور 998 میں 27 برس کی عمر میں اپنے والد سلطان ناصرالدین سبکتگین کی وفات کے بعد غزنی کے حکمراں بنے ۔ہندوستان پر محمود غزنوی کے حملوں کا سلسلہ 1001 سے شروع ہوا جو 1026 تک جاری رہا انہوں نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے ۔1025 کے اواخر میں محمود غزنوی نے کاٹھیا واڑ میں واقع سومنات کے مشہور مندر پر حملہ کیا ۔یہ مندر ایک نہایت محفوظ قلعہ بند جزیرے میں واقع تھا ۔محمود غزنوی سومنات پر حملہ آور ہوئے تو شمالی ہندوستان کے کئی راجہ ان کے مقابلے کے لئے اپنی فوجیں لے کر آئے لیکن ان کی شکست اور فرار سے قلعے میں محصور افراد کا بھی دل بیٹھ گیا اورانہوں نے بھی راہ فرار اختیار کی۔محمود غزنوی نے مندر میں داخل ہوکر زروجواہرات کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے آہنی گرز سے مندر کے سب سے بڑے بت کو منہدم کردیا اور یوں تاریخ میں بت شکن کا لقب حاصل کیا۔