28 اپریل
28 اپریل سنہ 1992 ع کو افغان مجاہدین نے سابق سوویت یونین کی فوج اور اس کی پٹھو حکومت کے خلاف تیرہ سال تک جد وجہد کے بعد کامیابی حاصل کی ۔سوویت یونین کے فوجی افغانستان پر دس سال تک قبضے کے بعد فروری سنہ 1989 ع کو اس ملک سے انخلاء پر مجبور ہوگئے ۔لیکن افغان گروہوں کی نااتفاقی اور انہیں ملنے والی غیر ملکی امداد میں کمی کے باعث افغانستان کے حکام نے سوویت یونین کی مالی اور فوجی امداد کی بناء پر اپنی حکومت برقرار رکھی ۔اپریل سنہ 1992 ع میں افغان مجاہدین نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کرلیا اور سوویت یونین کی پٹھو حکومت کا خاتمہ کردیا۔
28 اپریل سنہ 1969 ع کو فرانس کے صدر جنرل ڈیگال نے استعفیٰ دے دیا ۔وہ سنہ 1890 ع میں پیدا ہوئے اور پیرس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد فرانسیسی فوج میں شامل ہوئے ۔دوسری جنگ عظیم کےابتدائی دنوں میں جنرل کے عہدے تک پہنچے ۔دوسری جنگ عظیم کےدوران جب نازیوں نے فرانس پر قبضہ کرلیا تو ڈیگال مدد حاصل کرنے کے مشن پر انگلستان چلے گئے اور لندن میں فری فرنچ نیشنل کمیٹی (free french national committe ) کی بنیاد ڈالی ۔جون سنہ 1944 ع میں اتحادیوں نے جرمنی کو شکست دی اور 25 اگست سنہ 1944 ع کو ڈیگال واپس فرانس پہنچے ۔اہل فرانس نے ڈیگال کو پہلے اپنا وزیر اعظم اور پھر صدر بنالیا مگر سنہ 1946 ع میں وہ بعض سیاسی اختلافات کی بنا پر مستعفی ہوگئے ۔سنہ 1958 ع میں ایک بار پھر جنرل ڈیگال پہلے فرانس کے وزیر اعظم اور پھر 21 دسمبر سنہ 1958 ع کو ایک ریفرنڈم میں 78 فیصد ووٹ حاصل کرکے صدر بنے ۔سنہ 1965 ع میں وہ ایک بار پھر فرانس کے صدر منتخب ہوئے ۔سنہ 1969 ع میں انہوں نے فرانس کے آئین میں اصلاحات کے سلسلے میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد کروایا ۔جس میں ناکامی کے بعد 28 اپریل سنہ 1969 ع کو انہوں نے فرانس کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا ۔صدارت سے استعفیٰ دینے کے بعد وہ سیاست سے بھی مستعفی ہوگئے ۔
28 اپریل سنہ 1965 ع کوامریکی حکومت نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے بہانے ڈومینیکن پر فوجی حملہ کردیا ۔امریکی حملے کے بعد ڈومینیکن کے عوام برسر اقتدار آنے والے فوجیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور آخر کار فوجیوں کے ایک گروہ کے انقلابی افراد سے مل جانے کے بعد ڈومینیکن کے عوام برسر اقتدار فوجی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ڈومینیکن کے استبدادی رہنماؤں اورفوج کو سنگین شکست سے دوچار کیا۔امریکہ نے ڈومینیکن کے عوام کا مقابلہ کرنے کے لئے شروع میں اپنے ڈیڑھ ہزار فوجی اس ملک میں بھیجے لیکن تھوڑے ہی عرصے میں اس نے یہ تعداد بڑھا کر چالیس ہزار کردی اور 37 جنگی بحری جہازوں کے ذریعے ڈومینیکن کا محاصرہ کرلیا ۔ آخر کار انقلابیوں کی کابینہ کی تشکیل کے باعث امریکی فوجی اس ملک سے نکلنے پر مجبور ہوگئے ۔ ڈومینیکن وسطی امریکہ اور ہائیٹی کے مشرق میں واقع ہے ۔
28 اپریل سنہ 1935 ع کو اردو کے نامور ڈرامہ نگار آغا حشر کاشمیری کا انتقال ہوا ۔وہ یکم اپریل سنہ 1879 ع کو امرتسر میں ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے ۔ان کا اصل نام محمد شاہ تھا۔
اردو فارسی ارو عربی کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ۔پھر بنارس سے انگریزي تعلیم مکمل کی ۔وہیں انہیں شعر و شاعری سے شغف پیدا ہوا اور حشر کے تخلص سے مقامی مشاعروں میں شرکت کرنے لگے ۔انہوں نے اسٹیج کے لئے کئي ڈرامے لکھے جن میں سے بعض بہت مقبول ہوئے ۔انہوں نے کئی بار اپنی تھیٹریکل کمپنی قائم کی جوہر بار انتظامی امور کی وجہ سے بند ہوگئی ۔آغا حشر کبھی دوسروں کے لئے اورکبھی اپنے لئے ڈرامے لکھتے رہے ۔
آغا حشر کاشمیری اردو ڈرامے کی تاریخ میں بڑا اہم مقام رکھتے ہیں عقیدت کی بنا پر انہیں ہندوستان کا شیکسپیئر کہا جاتا ہے ۔28 اپریل سنہ 1935 ع کو ان کا لاہور میں انتقال ہوا ۔(15 اپریل 2007)
28 اپریل سنہ 1670ع کو ہالینڈ کے معروف مصور وان ڈر ہیلسٹ (van der helst) نے وفات پائی ۔وہ سنہ 1613 کو ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوئے ۔وہ اپنی محنت اور صلاحیت کی بدولت تدریجا" مشہور ہوتے گئے ۔ان کو گروہی تصاویر کی مصوری میں خاص مہارت حاصل تھی ۔وان ڈر ہیلسٹ نے 57 سال کی عمر میں وفات پائي ۔