25 اپریل
25 اپریل 1960 کو افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان کا انتقال ہوا ۔20 فروری 1919 کو جب ان کے والد کو قتل کیا گیا تو ان کے چچا نصراللہ خان کی بادشاہی کا اعلان کردیا گیا مگر کابل میں امان اللہ خان کی حمایت شروع ہوگئی اور پھر ان کی بادشاہت پر سبھی کا اتفاق ہوگیا اور یوں وہ افغانستان کے بادشاہ بن گئے ۔انہوں نے 1923 میں افغانستان کو پہلا دستور دیا ۔1926 میں انہوں نے امیر کے بجائے شاہ کا لقب اختیار کیا۔1928 میں وہ یورپ کی ترقی کا معائنہ کرنے یورپ گئے واپسی پر ملک میں شورش برپا ہوگئی اور دسمبر 1928 میں ایک قبائلی سردار حبیب اللہ بچہ سقہ نے ان کے خلاف بغاوت کردی ۔امان اللہ خان نے یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کی اور 25 اپریل 1960 کو روم میں وفات پائی تا ہم ان کی تدفین کابل میں انجام پائي ۔
25 اپریل 1945 کو اٹلی نے فسطائی افواج کے تسلط سے آزادی حاصل کی ۔
اٹلی 1940 میں نازی جرمنی کے اتحادی کی حیثیت سے دوسری عالمی جنگ میں شامل ہوا ۔مگر یونان اور شمالی افریقہ میں اٹلی کی فسطائی افواج کی شکست سے اٹلی کے ایک حصے پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا ۔اس واقعے اور مسولینی کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد اٹلی نے اتحادیوں سے ایک معاہدہ کیا اور ان کے ساتھ مل کر جرمنی کے خلاف جنگ کی ۔آخر کار 1945 میں نازی جرمنی کی شکست اور فسطائیت مخالف افواج کے ہاتھوں مسولینی کو سزائے موت ملنے کے بعد اٹلی نے فسطائیوں کے تسلط سے رہائی پائي۔
25 اپریل 1859 کو نہر سویز کی کھدائی کا آغاز ہوا ۔دس برس کی تعمیر کے بعد 17 نومبر 1869 کو نہر سویز کا افتتاح ہوا ۔نہر سویز کی لمبائي 107 میل کم سے کم چوڑائي 235 فٹ اور زیادہ سے زیادہ چوڑائی 421 فٹ ہے ۔جبکہ نہر کی تہہ میں یہ چوڑائی کم سے کم 151 فٹ اور زیادہ سے زیادہ 337 فٹ ہے ۔نہر کی گہرائی بھی کم سے کم 37 فٹ اور زیادہ سے زیادہ 42 فٹ ہے ۔
اس نہر کی تعمیر سے یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک نئی آبی گزرگاہ وجود میں آگئی اور بحیرہ روم بحیرہ احمر سے مل گیا جس سے تجارت کو بہت فروغ حاصل ہوا ۔