22 اپریل

22 اپریل سنہ 1998 ع کو آیت اللہ مرتضی بروجردی کو نجف اشرف میں شہید کردیا گیا ۔آیت اللہ مرتضی بروجردی مسجد میں نماز کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ ان پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا ۔عراق کی سابق حکومت چونکہ شیعہ علماء کے ساتھ معاندانہ رویہ اپنائے ہوئے تھی اس لئے حکومت مخالف گروہوں اور ملکی و غیر ملکی رائے عامّہ نے بعثی حکومت کو آیت اللہ بروجردی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا اور اس قتل کی مذمت کی ۔لیکن اس کے باوجود دوماہ کے بعد ایک اور عالم دین آیت اللہ غروی کو نجف اشرف میں شہید کردیا گیا ۔

  


 

22 اپریل سنہ 1948 ع کو صیہونیوں نے ناجائز صیہونی حکومت کی تشکیل سے قبل فلسطین کے ساحلی شہر حیفا پر حملہ کردیا ۔اس حملے میں انہوں نے پانچ سو فلسطینیوں کو شہید اور دو سو کو زخمی کردیا ۔صیہونیوں کی سنگدلی اور ظلم و بربریت سے ڈرے ہوئے فلسطینی بچّے اور عورتیں حیفا سے دوسرے علاقوں کی طرف فرار ہوئے لیکن صیہونیوں نے ان پر بھی حملہ کردیا اور مزید سو فلسطینیوں کو شہید اور دو سو کو زخمی کردیا ۔مسلح صیہونیوں کے ہاتھوں بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام میں اضافے کی وجہ بیت المقدس کی غاصب حکومت کے قیام کا اعلان تھا جو 14 مئی سنہ 1948 ع کو قائم ہونے والی تھی ۔

 


 

22 اپریل سنہ 1916 ع کو بین الاقوامی جنگوں کی تاریخ میں پہلی بار زہریلی گیس کا استعمال کیا گيا ۔یہ گيس ، جسے دم گھونٹنے والی گیس کا نام دیا گیا ، پہلی بار جرمنی نے استعمال کی ۔شروع میں اس گیس سے اتحادی افواج کے خوف و وحشت کے سبب عالمی جنگ میں جرمن فوجیوں کو کامیابی حاصل ہوئی لیکن گیس ماسک بن جانے کے بعد اس کا اثر کم ہوگیا ۔

 


 

22 اپریل سنہ 1895 ع کو کیوبا کے عوام ہسپانوی سامراج سے آزادی کے لئے ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے ۔انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں خود مختاری اور آزادی کے لئے کیوبا کے عوام کی یہ تیسری تحریک تھی ۔اسپین نے کیوبا کے انقلابی عوام کی اس تحریک کو کچلنے کے لئے تین لاکھ فوجی کیوبا روانہ کئے ۔امریکہ نے بدامنی کے واقعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیوبا کے ساحل کے قریب سنہ 1898 ع میں اپنے بحری جہاز میں ہونے والے دھماکے کو بہانہ بنا کر اسپین کے ساتھ جنگ چھیڑدی ۔آخر کار امریکہ نے کیوبا پر سے اسپین کا تسلط ختم کرکے خود اس پر قبضہ جمالیا ۔اس کے بعد کیوبا کے عوام نے امریکی سامراج کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز کردیا۔

 


 

22 اپریل سنہ 1870 ع کو انقلاب روس کے بانی ولادیمیر لنین پیدا ہوئے ۔وہ نکولائي لنین کے نام سے مشہور ہیں ۔قانون کی تعلیم مکمل کرکے انہوں نے کچھ عرصے تک وکالت کا پیشہ اختیار کیا لیکن بعد میں وہ اپنا تمام تر وقت سوشل ڈیموکرٹیک پارٹی کو دینے لگے ۔سنہ 1895 ع میں سیاسی اور انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بنا پر انہیں تین برس کے لئے جلاوطن کردیاگیا جہاں انہوں نے " روس میں سرمایہ داری کاارتقا" نامی کتاب لکھی ۔جلاوطنی کے خاتمے کے بعد سنہ 1900 ع میں انہوں نے اسکارا نامی اخبار جاری کیا جس نے مارکسی نظریات کی ترویج میں بڑا اہم کردار ادا کیا ۔

سنہ 1905 ع میں روس اور جاپان میں جنگ چھڑی تو ماسکو میں بغاوت ہوگئی جسے حکومت نے ناکام بنادیا ۔لنین اور ان کے بہت سے ساتھی گرفتاری کے خوف سے ملک سے فرار ہوگئے ۔فروری سنہ 1917 ع میں جب حکومت کے خلاف بغاوت کے شعلے بلند ہوئے تو وہ روس واپس آگئے اور روپوشی کی حالت میں اپنے مشن کو پائہ تکمیل تک پہنچایا ۔7 نومبر سنہ 1917 ع کو انقلابی حکومت کے قیام کااعلان کردیا گیا اور لنین نئی حکومت کے سربراہ مقرر ہوئے ۔