19 اپریل
19 اپریل سنہ 1807 ع کو مصری فوجیوں کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد حملہ آور برطانوی فوجیوں نے اسکندریہ بندرگاہ سے پسپائی اختیار کی ۔
اس زمانے میں برطانوی حکومت اپنی نو آبادیات میں توسیع کے لئے کوشاں تھی اور اس نے سلطنت عثمانیہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے مصر پر قبضے کا فیصلہ کیا تھا ۔مصر اس وقت سلطنت عثمانی کا حصّہ تھا ۔برطانوی بحری بیڑے نے مصر پر حملہ کیا تھا ۔برطانوی فوج نے فورا" ہی اسکندریہ پر قبضہ کرلیا لیکن مصر کے گورنر محمد علی پاشا نے لوگوں اور علماء کی مدد سے مصر کا دفاع کیا ۔مصر کے مسلمان عوام نے بڑی دلیری کے ساتھ جدید ہتھیاروں سے لیس برطانوی فوجیوں کا مقابلہ کیا اور انہیں پسپائی پر مجبور کردیا۔
19 اپریل 1970 کو اردو کے ممتاز ادیب اور ڈرامہ نگار سید امتیاز علی تاج کا انتقال ہوا ۔
وہ 13 اکتوبر 1900 کو لاہور میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنی تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے مکمل کی ۔ان کا شمار اردو کے مستند اردیبوں اور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے ۔1922 میں انہوں نے مشہور ڈرامہ انار کلی تحریر کیا جو شائع ہوتے ہی اردو ادب کا کلاسیک بن گیا ۔اس کے علاوہ ان کا کردار چچا چھکن بھی اردو کے یادگار کرداروں میں سے ایک ہے ۔
امتیاز علی تاج نے فن ڈرامہ پر تنقیدی مضامین ، ریڈیو ڈرامے ناول اور افسانے بھی لکھے ۔ عمر کے آخری سال انہوں نے پہلے پاکستان آرٹس کونسل لاہور اور پھر مجلس ترقی ادب کے ناظم کی حیثیت سے گزارے ۔
18 اپریل 1970 کو ان پر نامعلوم افراد نے قاتلانہ حملہ کیا جس کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اگلے دن 19 اپریل 1970 کو انتقال کرگئے ۔
19 اپریل 1895 کو فرانسیسی ماہر کیمیا لوئی پاسچر نے 70 سال کی عمر میں وفات پائی ۔انسانیت کے لئے اس فرانسیسی دانشور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔
لوئی پاسچر نے پیرس میں ابتدائي تعلیم مکمل کرنے کے بعد تدریس کا پیشہ اختیار کیا ۔ستائیس سال کی عمر میں ڈاکٹر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی اور کیمسٹری کے پروفیسر کی حیثیت سے علمی خدمات میں مصروف ہوگئے ۔انہوں نے چھوت کی بیماریوں اور جراثیم کے خلاف جد وجہد میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور بیماریوں اور امراض کے علاج کے طریقے بدل کر نئے طریقوں کی بنیاد رکھی ۔
حکومت فرانس نے 1888 میں لوئی پاسچر کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے نام پر پاسچر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا۔
19 اپریل 1707 کو مشہور فرانسیسی مصنف اور ماہر فزکس جارج لوئی بوفون پیدا ہوئے ۔انہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ سائنسی تحقیقات میں گزارا اور 14 جلدوں پر مشتمل کتاب تاریخ فزکس تحریر کی ۔یہ کتاب تاریخ فزکس سے متعلق اہم معلومات پر مشتمل ہے اور آسان و سادہ طرز تحریر کی حامل ہے ۔جارج لوئی بوفون کو 1753 میں فرانس کی سائنس اکیڈمی کی رکنیت دی گئی۔