13 اپریل
13 اپریل سنہ 1945 ع کو دوسری جنگ عظیم کے آخری مہینوں کے دوران اتحادی فوجوں نے آسٹریا پر حملہ کردیا ۔قابل ذکر ہے کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے آسٹریا آزاد و خود مختار ملک تھا لیکن اس جنگ کے آغاز کے بعد نازی جرمنی نے اس پر قبضہ کرلیا اور آسٹریائی فوج جرمنی کا ساتھ دیتے ہوئے جنگ میں شریک ہوگئی ۔آسٹریا پر اتحادی فوجوں کے قبضے کے بعد اس ملک کو چار حصوں میں تقسیم کردیا گيا اور ہر حصے کا انتظام ایک اتحادی حکومت کے سپرد تھا ۔سنہ 1955 ع میں اس ملک کو دوبارہ آزادی ملی ۔
13 اپریل سنہ 1919 ع کو ہندوستان میں جلیاں والا باغ قتل عام کا واقعہ رونما ہوا ۔سنہ 1919 ع میں برطانوی سامراج نے ہندوستانی عوام کے قیام اور جد وجہد کو روکنے کے لئے رولٹ قانون کو منظوری دی جس کی رو سے سامراجی پولیس کو مشکوک افراد کو بغیر ثبوت اور قانونی حکم کے گرفتار کرنے اور قید کرنے کا اختیار حاصل تھا ۔اس قانون کے پاس ہونے پر ہندوستانیوں کا غم و غصہ بھڑک اٹھا اور اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے پانچ ہزار سے زائد افراد امرتسر کے جلیاں والا باغ میں اکٹھے ہوئے ۔ان پر فوج نے انگریز افسر کے حکم سے گولیاں چلائیں ۔اس قتل عام کے بعد انگریز کمانڈر نے حکم دیا کہ کوئی بھی زخمیوں کے پاس نہ آنے پائے اور انہیں پانی اور غذا نہ دے ، اس قتل عام میں بارہ سو افراد ہلاک اور 4 ہزار زخمی ہوئے ۔
13 اپریل سنہ 1966 ع کو عراق کے اس وقت کے صدر کرنل عبدالسلام عارف طیارے کے حادثے میں مارے گئے ۔انہوں نے سنہ 1958 ع میں بادشاہی نظام حکومت کو ختم کرنے میں عبدالکریم قاسم کا ساتھ دیا تھا ۔وہ مصری صدر جمال عبدالناصر کے حامی تھے اور مصر سے اتحاد کرنا چاہتے تھے ۔عبدالکریم قاسم کے زمانے میں حکومت کی مخالفت کرنے پر انہیں پھانسی کی سزا سنائي گئی تھی لیکن قاسم نے انہیں معاف کردیا تھا ۔اس کے باوجود عارف نے سنہ 1963 ع میں بعثی فوجی کمانڈروں کی مدد سے بغاوت کی اور قاسم اور ان کے نزدیکی افراد کو قتل کرکے خود عراق کے صدر بن گئے ۔عبدالسلام عارف کے بعد ان کے بھائي عبدالرحمن عارف عراق کے صدر بنے ۔
13 اپریل سنہ 1975 ع کو لبنان کی داخلی جنگ فلسطینیوں کی ایک بس پر انتہا پسند فلانجسٹوں کے حملے سے شروع ہوئی ۔اس حملے میں 30 فلسطینی مارے گئے ۔اس قتل عام کے بعد لبنان کے مسلمان اور قوم پرست فلانجسٹوں کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔کچھ عرصے کے بعد بے گھر فلسطینیوں کے کیمپ پر فلانجسٹ چھاپہ ماروں نے حملہ کردیا جس کے بعد فلسطینی چھاپہ مار بھی لبنان کی خانہ جنگي میں شریک ہوگئے ۔اس جنگ نے جو صیہونی حکومت کی شر انگیزی سے شروع ہوئی تھی لبنان کو بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان پہنچایا ۔صیہونی حکومت کا مقصد یہ تھا کہ لبنان میں صیہونی حکومت کے مخالف قوم پرستوں ، مسلمانوں اور فلسطینی چھاپہ ماروں کو خانہ جنگی میں الجھادے اور انہیں صیہونی فوجیوں پر حملہ کرنے سے باز رکھے ۔لبنان کی خانہ جنگي سنہ 1990 ع میں طائف معاہدے کے بعد ختم ہوئي ۔