10 اپریل

10 اپریل سنہ 1946 ع کو فرانسیسی فوج کے آخری دستے لبنان سے نکل گئے ۔فرانس نے پہلی جنگ عظیم کے دوران سنہ 1918 ع میں عثمانی سلطنت کی تقسیم کے بعد شام کے ہمراہ لبنان پر قبضہ کرلیا تھا ۔دوسری عالمی جنگ کے دوران فرانس پر جرمنی کے قبضے کے بعد لبنان جرمنی کے زیر فرمان فرانس کی کٹھ پتلی حکومت کے اہل کاروں کی نگرانی میں آگیا ۔سنہ 1941 میں برطانیہ اور آزاد فرانس کی فوجوں نے لبنان پر قبضہ کرلیا ۔لبنانی عوام آزادی اور خود مختاری کے خواہاں تھے ، اور ان کے دباؤ پر آزاد فرانس میں جلاوطن حکومت نے سنہ 1943 ع میں لبنان میں صدارتی انتخابات کرانے سے اتفاق کرلیا ۔

آخر کار سنہ 1945 میں لبنان نے آزادی حاصل کی اور اسی سال اس نے لبنان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کے معاہدے پر دستخط کئے جس پر اپریل سنہ 1946 کو عمل درآمد کیا گيا ۔

 

 


 

10 اپریل سنہ 1973 ع کو پاکستان کا آئين منظور ہوا ۔قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے لئے عبوری طرز پر جو آئینی نظام اپنایا گيا تھا وہ انگریزوں کے نافذ کردہ سنہ 1935 ع کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ سے ماخوذ تھا ۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی آئین ساز اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگيا لیکن پہلے اجلاس کے بعد اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد بھی یہ کام رکارہا ۔سنہ 1949 ع میں لیاقت علی خان کی تحریک پر مجلس قانون ساز نے قرارداد مقاصد منظور کی جس میں درج چند اہم اصولوں کی بنیاد پر پاکستان کا آئین مرتب کیا جانا تھا لیکن لیاقت علی خان کی وفات سے یہ کام مزید التواء کا شکار ہوگيا ۔

سنہ 1955 ع میں وجود میں آنے والی نئي اسمبلی نے فروری سنہ 1956 ع کو پاکستان کے آئین کی منظوری دی ۔لیکن اس آئین میں موجود نقائص کی وجہ سے یہ آئين غیر مؤثر ہوکر رہ گيا ۔

سنہ 1962 ع میں صدر پاکستان ایوب خان نے ایک نیا آئين نافذ کیا لیکن وہ بھی زيادہ عرصے نہ چل سکا ۔بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں 10 اپریل سنہ 1973 کو پاکستان کا آئین منظور ہوا جسے 14 اگست سنہ 1973 ع کو نافذ کردیا گيا ۔

 

 


10 اپریل سنہ 1860 ع کو اٹلی کے عظیم وطن پرست اور حریت پسند گاریبالڈی نے جزائر صقلیہ پر اپنے حملوں کا آغاز کیا ۔انہوں نے وکٹر امانوئیل دوئم کے کہنے پر یہ حملے شروع کئے اور صرف ایک ہزار سپاہی میدان جنگ میں بھیجے اس کے بعد صقلیہ اٹلی کی سرزمین کا ایک حصّہ بن گیا ۔