|
|
|
پير, 09. جون 2008 |
غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرکے اس علاقے کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان مظاہروں میں فلسطینی عوام نے صیہونیت مخالف استقامت جاری رکھنے پر تاکید کرتے ہوۓ تحریک حماس کے تئیں اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ برطانوی وکیل کریسچين چینکین نےجو اقوام متحدہ کے وفد کے ہمراہ غزہ کے دورے پر آۓ ہوۓ تھے تاکید کے ساتھ کہا کہ صیہونی حکومت جنگی مجرم ہے ۔ اقوام متحدہ کا یہ وفد مصر اور رفح گذر گاہ کے ذریعے غزہ میں داخل ہواتھا۔ کریسچین چینکین نے تاکید کی کہ صیہونی حکومت نے غزء کے شہریوں کا محاصرہ کرکے انسانیت کے خلاف جرائم کاارتکاب کیا ہے ۔ جنوبی افریقہ کی سیاسی ومذھبی شخصیت دز موند توتو نےبھی جواقوام متحدہ کے اس وفد کی قیادت کر رہے تھے فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کی اور زور دے کرکہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کیلۓ جو افسوسناک صورت حال پیدا کررکھی ہے اس پر ہر انسان روپڑتا ہے۔ صیہونی حکومت ایک سال سے غزہ کے علاقے کا محاصرہ کۓ ہوۓ ہے اور وہاں خوراک اور دوائيں بھی نہيں پہنچنے دے رہی ہے ۔ غرب اردن میں بھی دیوار حائل کی تعمیر جاری رہنے کے خلاف ہمیشہ مظاہرے ہوتے رہتے ہیں ۔ صیہونی حکومت دیوار حائل کے ذریعے غرب اردن کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور یوں وہ انیس سو سینتالیس میں قبضہ کی جانے والی زمینوں میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے ۔ صیہونی حکومت کے اقدامات کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پورے فلسطین میں اس حکومت کے تسلط پسندانہ اقدامات میں تیزی آئی ہے ۔ غزہ کے محاصرے ميں شدت اور غرب اردن ميں دیوارحائل کی تعمیر میں تیزي سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت کے انسانیت دشمن اقدامات میں اضافہ ہواہے کیونکہ غزہ کے محاصرے اور غرب اردن میں دیوارحائل کی تعمیر سے یہ دونوں علاقے ایک دوسرے سے جدا ہوگۓ ہيں اور اس طرح عملی طور پر یہ علاقے بھی صیہونی حکومت کے محاصرے میں آگۓ ہیں ۔ غزہ کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے وفد کے اراکین کی جانب سے اس بات پر تاکیدسے کہ صیہونی حکومت جنگی جرائم کا ارتکاب کررہی ہے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگيا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کی ماہیت ہی انسان دشمنی ہے ۔ صیہونی حکومت کے جرائم پر وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے صیہونی حکومت کی مذمت کے ساتھ ہی فلسطینی عوام کی مدد اور ان جرائم کی تحقیقات کرانے میں عالمی برادری کے پس و پیش پر تنقید شمار ہوتی ہے وہ بھی ایسی حالت میں جب اقوام متحدہ کے حکام اور وفود بھی اس حکومت کے مجرمانہ اقدامات پر تاکید کررہے ہيں ۔(31 مئی 2008)
امت مسلمہ کی عزت وسربلندی اور مستضعفین عالم کی حمایت اسلامی جمہوری نظام کابنیادی ہدف
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کی ایک خصوصیت آپ کی فصاحت و بلاغت اورسیاسی موضوعات کو بیان کرنے میں آپ کے کلام کی تاثیر ہے۔ بانئ انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد فیصلہ کن اور حساس برسوں کے دوران تقریبا دوعشروں تک اسلامی جمہوری نظام میں قیادت کے ایک اہم معیارکی حیثیت سے اس خصوصیت کی مسلسل موجودگي نہ صرف ملت ایران کے دشمنوں کی سازشوں کے برملا ہونے کا سبب بنی بلکہ اس نے عالمی سطح پر بالخصوص مشرق وسطی میں عالم اسلام کے مرکز میں انصاف پسندانہ تحریکوں کے فروغ اور اسلامی بیداری کی راہ ہموار کی ہے۔ آپ نے اپنے بیانات میں بارہا علاقے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے فتنوں کا مقصد بیان کرتے ہوۓ عالم اسلام کے بہت سے مسائل کی وجوہات اور امت مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ دنیائے اسلام میں اتحاد کے فقدان کو قرار دیا ہے۔ قائدانقلاب اسلامی نے گذشتہ برس موسم گرما میں عراقی صدر جلال طالبانی سے ملاقات کے موقع پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرمایا کہ اگر قومیں چاہیں تو سب کچھ کرسکتی ہیں اور امریکہ کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکرسکتی ہیں۔ قائدانقلاب اسلامی علاقے ميں صیہونی حکومت کے خطرے کے تئيں بھی ہمیشہ خبردارکرتے رہتے ہيں اور انہوں نے اس نکتے کی جانب توجہ دلائی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کا ایک اصلی مقصد اسلامی علاقے میں جارح مغربی حکومتوں کے ناجائز مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اسی بنا پر صیہونی حکومت اپنے ناجائز وجو د کے آغاز سے ہی علاقے کے ليۓ ہمیشہ ایک مستقل خطرہ اور جارح بنی رہی تاکہ اسلامی ملکوں کو ہمیشہ ایک تشویش میں مبتلا رکھا جاۓ ۔ واضح ہے کہ اس تسلط پسندانہ وجود کا تسلسل امت مسلمہ کے اندر اتحاد ویکجہتی پیدا ہونے سے روکنا ہے ۔ قائدانقلاب اسلامی کی جانب سے اس قسم کے خیالات کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امت مسلمہ کی عزت وسربلندی کا دفاع اور مستضعفین عالم کی حمایت اسلامی جمہوری نظام کے بنادی مقاصد میں سے ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ تسلط پسند حکومتیں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی ایران کے اسلامی جمہوری نظام کو اپنے تسلط پسندانہ مقاصد کے خلاف سمجھتی رہيں اور بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کے واضح موقف کی کھل کر مخالفت کرنے لگیں ۔ بانی انقلاب اسلامی کی رحلت کے بعد ایران کے دشمنوں کو امید تھی کہ سیاسی عمل کے نتیجے میں انقلاب اسلامی کی سامراج دشمنی رک جاے گی اور وقت کے ساتھ ساتھ اسلام کے عدالت پسندانہ افکارونظریات بھلا دئۓ جائيں گے ۔ لیکن وقت نے نہ صرف اسے غلط ثابت کردیا بلکہ واضح کردیا کہ انقلاب اسلامی کے گرانقدرپیغامات جن پر قائد انقلاب اسلامی بھی تاکید کرتے ہیں تسلط پسند نظام سے چھٹکارا پانے کی خواہاں تمام قوموں کے دلوں میں اپنے اثرات بخوبی نمایاں کردیۓ ہيں ۔ اور اس تبدیلی کے اثرات امریکہ اور صیہونی حکومت کے سماج میں بھی ان کی راۓ عامہ کی اپنے رہنماؤں کی پالیسیوں سے نفرت کی شکل میں ظاہر ہوگۓہیں ۔ یہ تبدیلی جو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے گرانقدرنتائج میں سے ہے ، اسلام کے سیاسی افکارکی جامعیت کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس وقت اسلامی انقلاب کی کامیابی کو تیس سال گذرنے کے بعد بھی یہ بخوبی نمایاں ہے ۔ اسی بنا پر سامراجی طاقتیں اسلامی جمہوری نظام میں قیادت کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہی ہيں لیکن قائدانقلاب اسلامی کے بقول اسلامی نظام کی بڑھتی ہوئی طاقت اور عالمی راۓ عامہ پر اس کے اثرات جو طاقتوں کے مقابلے میں نظام کی استقامت اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بناکرپیدا ہوۓ ہيں ، جبکہ ابھی اسلامی انقلاب کی تمام توانائيوں سے استفادہ نہیں کیاگیا ہے۔ (30 مئ 2008)
ہماری قوم احسان فراموش نہیں، ڈاکٹر عبد القدیر خان
پاکستان کےایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ قوم قائد اعظم کے بعد مجھ سے محبت کرتی ہے۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے جوکچھ کیاملک کی بہتری کیلئے کیا اور یہ کہ محب وطن کون ہے کون نہیں،قوم سب جانتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے خلاف سازش انہیں لوگوں نے کی ہے جو نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان ایٹمی طاقت بنے۔پاکستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد یہ امید ہوچلی تھی کہ پاکستان کےایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان پر عائد پابندیاں اٹھالی جائیں گی تاہم ان پر عائد چار سالہ پابندیاں ختم تو نہیں نرم ضرور کردی گئي ہیں اور خود ان کے اپنے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ جلد اپنا مقام دوبارہ پا لیں گے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپنے اوپر عائد پابندیوں کو بیرونی سازش قرار دیا تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا انہوں نے کہا تیسری دنیا کے ممالک کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ باہر کے لوگ جب سازشیں کرتے ہیں تو اپنے بھی اس میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ڈاکٹر عبد القدیر خان نے مزید کہا کہ یہاں لوگ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں میرے معاملے میں سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ہماری قوم احسان فراموش نہیں ہے،میں شکر گزار ہوں کہ قوم مجھ سے محبت کرتی ہے۔ایک سوال پر ڈاکٹر قدیرنے بتایا کہ وہ حکومت کی نہیں فوج کی تحویل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کیلئے مشکلات نہیں چاہتے امید ہے کہ میرا مسئلہ بھی جلد حل ہوجائے گا۔ اس سے قبل اپنے ایک اور انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر وہ یہ انکشاف کر دیں گے کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیوں کیا تھا، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ وقت کب آتا ہے البتہ ان کے بیانات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اس انکشاف کے لئے انہیں صدر کے استعفے کا انتظارہے کہ جس کی پرویز مشرف نے سختی سے تردید کی ہے۔(30 مئ 2008)
ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نفسیاتی جنگ میں تیزی
چھبییس مئی سے یعنی جب سے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجسی کے سربراہ محمد البرادعی نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں اپنی رپورٹ بورڈ آف گورنرز کو پیش کی ہے ، ایران کے خلاف امریکہ اور اس کے تین اتحادی ملکوں کی نفسیاتی جنگ میں تیزی آ گئی ہے ۔امریکہ برطانیہ فرانس اور جرمنی نے مکمل ہم آہنگی ،وسیع پروپیگنڈے اور البرادعی کی رپورٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے تہران پر آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا ہے تا کہ وہ ویانا میں البرادعی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے آئی اے ای اے کے اجلاس پر اثرانداز ہو سکیں۔ترجمان وائٹ ہاؤس ڈانا پرینو نے ایران پر آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کے ایٹمی پروگرام کے فوجی ہونے پر مبنی امریکی کے بےبنیاد الزامات کو دہرایا ہے۔امریکی حکومت نے دعوی کیا کہ ایران نے اپنے بین الاقوامی فرائض پر عمل نہیں کیا اور وہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔لیکن محمد البرادعی نے پہلی بار اپنی رپورٹ میں واضح طور پر ایٹمی ایجنسی پر امریکہ کے دباؤ کی بات کی ہے۔امریکہ نے حال ہی میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے خلاف بے بنیاد دعوے کیے ہیں لیکن آئی اے ای اے کے سربراہ نے بارہویں مرتبہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے پر زور دیا ہے۔فرانسیسی حکومت نے دعوی کیا کہ البرادعی کی رپورٹ نے اس تشویش میں اضافہ کر دیا ہے کہ ممکن ہے ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کرے۔امریکہ برطانیہ فرانس اور جرمنی نے گزشتہ چند برسوں کے دوران صرف امکانات، احتمالات اور بےبنیاد تصورات کی بنیاد پر بین الاقوامی فضا کو ایران کے خلاف بھڑکانے اور ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو خطرہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہےجبکہ عالمی برادری اس امر سے اچھی طرح واقف ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف پروپگینڈہ سیاسی ہے اور اس کا مقصد ایٹمی ٹکنالوجی پر امریکہ اور مغربی ملکوں کی بالا دستی کو قائم رکھنا ہے ، تا ہم ملت ایران نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ اس سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگی ۔(29مئی2008)
نیپال میں شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ 240 سالہ شاہی نظام سے اپنی نجات کا جشن منارہے ہیں ۔نیپال کی آئین ساز اسمبلی نے 240 سالہ شاہی نظام کے خاتمے کے بعد اپنے پہلے باضابطہ اجلاس میں ملک میں جمہوری نظام کے قیام کا اعلان کیا کہ جس کا عوامی اور سیاسی سطح پر کافی خیر مقدم کیا جا رہا ہے ۔نیپال کی قانون ساز اسمبلی کی ایک تہائی نشستیں ماؤئسٹوں کے پاس ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے نیپال کے سیاسی عمل میں شریک ہیں اور شاہی نظام کے خاتمے کے لئے جد وجہد کرتے رہے ہیں ۔سیاسی مبصرین عوام کی جانب سے شاہی حکومت کے خاتمے کا اتنے بھرپور انداز میں خیرمقدم کئے جانے کو شاہی حکومت خصوصا" شاہ گیانندرا کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ عوامی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرنے میں گيانندرا کی حکومت کی ناقص کارکردگی اس بات کا باعث بنی ہے کہ عوام میں ان کی حمایت کا گراف بالکل گرگیا اور نتیجتا" نہ صرف شاہ گیانندرا بلکہ شاہی نظام کو ہی نیپال کے میدان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑنا پڑا ۔بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ نیا جمہوری نظام عوام کو کیا دیتا ہے ۔صدارتی نظام یا پارلمانی نظام دونوں میں کسی ایک کا انتخاب اور اختیارات کی تقسیم ایسے جملہ اقدامات ہیں کہ جنہیں عوام کی توقعات کے مطابق ہونا چاہئے اس لئے کہ شاہی نظام حکومت کے خاتمے کے بعد بھی اگر عوام کی ضروریات پوری نہیں ہوئیں اور ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی گئی تو پھر ابھی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیپال میں سیاسی بحران بدستور جاری رہے گا ۔( 29 مئی 2008)
امریکا میں سینیٹ کی آرمڈسروسز کمیٹی کے چیئرمین نے بش انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے متعلق فوجی امداد کی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے اورحکومت پاکستان جب تک دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات نہیں کرتی اس وقت تک پاکستانی سیکیورٹی فورسز کوکروڑوں ڈالر کی امداد بھی روک دینی چاہیے۔ پاکستان اور خطے کے تین روزہ دورے کے بعد واشنگٹن پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرکارل لیون کاکہنا تھا کہ افغان سرحد پر دراندازی روکنے کے لیے دی جانے والی امداد بھی ایک سوال ہے۔پاکستانی فرنٹیئر کور افغان سرحد پار کرنے والوں کو روک نہیں سکی ۔ڈیموکریٹک سینیٹر نے کہا یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ افغان سرحد کے اس پار پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو دی جانے والی کروڑوں ڈالرز کی امداد اپنے مقصد پر خرچ بھی ہو رہی ہے یا نہیں ۔کارل لیون نے انکشاف کیاکہ بعض امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اسلام آبادکے کچھ عناصر طالبان کی مدد کررہے ہیں آرمڈ فورسز کے لیے امریکی سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو موثر بنانے کے لیے اسلام آباد پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے ۔امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امداد روکے جانے یا اس پر نظر ثانی سے متعلق سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی سفارشات پر بش انتظامیہ عمل کرے یا نہ کرے لیکن اس سے ایک بات واضح پر جاتی ہے کہ امریکی حکومت، دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ میں پاکستان کے کردار پر عدم اعتماد کا اظہار کرکے ایک طرف تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ناکامی کا الزام دوسروں کے سر ڈال کر امریکی رائے عامہ کے سامنے اپنے دوغلے پن کو چھپاتی ہے اور دوسری طرف پاکستان پر دباؤ بڑھا کر اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولیات حاصل کرنا چاہتی ہے ، البتہ اس رپورٹ میں اس بار کھل کر ایک بات کہی گئي ہے کہ اسلام آباد کے کچھ عناصر طالبان کی مدد کررہے ہیں اور یہ وہی چیز ہے جسے پاکستانی رائے عامّہ مقامی خفیہ ایجنسیوں کے کھیل سے تعبیر کرتی ہے ۔بہرحال دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ میں امریکہ کا حلیف ہونے کے باوجود پاکستان کو جتنی سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اگر پاکستان اس نام نہاد جنگ میں امریکہ کا حلیف نہ بنتا تو شاید صورتحال بہتر ہوتی ۔( 28 مئی 2008)
پارلیمنٹ کے نئے اسپیکر لاریجانی کا مغربی حکومتوں کو مشورہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر لاریجانی نے مغربی حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران کی ایٹمی معاملے کو ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان پاس دینے سے اجتناب کریں ۔ ڈاکٹر لاریجانی کا یہ بیان ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی کی دو روزقبل کی رپورٹ اور نئی پارلیمنٹ کے افتتاح کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے ۔ آئي اے ای اے کے بورڈ آف گورنر میں البرادعی کی رپورٹ میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے اور اس میں کسی قسم کاابہام نہ ہونے کی بارہویں بار تصدیق کی گئي ہے۔ البرادعی نے اپنی رپورٹ میں ا عتراف کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی پرامن ا یٹمی سرگرمیوں کے خلاف ثبوت موجود ہونے کادعوی کرنے کے باوجود اب تک کوئ ثبوت نہيں پیش کرسکا ہے ۔اس بنا پر امریکہ کا اقدام این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی اور ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی سرگرمیوں کے خلاف امریکہ کے دعوں کے بے بنیاد ہونے کی علامت ہے ۔درحقیقت امریکہ بے بنیاد دعوے کرکے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کرہا ہے۔تاکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کوبین الاقوامی موضوع بناۓ رہے ۔ جبکہ تکنیکی اور فنی لحاظ سے آئ اے ای اے کی نظرميں ایران کا ایٹمی مسئلہ ختم ہوچکا ہے ۔آئی اے ای اے کے سربراہ اس سے قبل بھی ایک رپورٹ میں کہہ چکے ہيں کہ ایران کے ایٹمی مسئلے سے متعلق تمام مسائل ہوچکے ہیں۔ لیکن مغربی حکومتیں ایران کا ایٹمی معاملہ سلامتی کونسل میں لاکر اور سیاسی اور غیرقانونی قرارداد پاس کرکے اورکچھ پابندیاں عائد کرکے تہران کو ایٹمی سرگرمیاں روکنے پر مجبورکر نے کی کوشش کررہی ہیں ۔ سلامتی کونسل کی جانب سے تین قراردادیں منظور ہونے کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کےخلاف اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں ۔اسی بناپر ایک بارپھر ایران کا ایٹمی معاملہ کوگروپ پانچ جمع ایک میں اٹھایا گیا ہے ۔ اوریہ ایسے عالم میں کیاگیا جب ایران اور ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نے اپنے تکنیکی تعاون کا نیا دور شروع کرچکے تھے ۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے تئيں بڑی طاقتوں کا رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ بہانے بازی اور ایران کی ایٹمی فائل ایک دوسرے کوپاس دے کر ایران اور آئی اے ای اے کے تعاون کو متاثر کرنا چاہتے ہيں ۔ البرادعی کی نئی رپورٹ میں ایک بار پھر واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ امریکہ دباؤ ڈال کر ایران کا ایٹمی معاملہ آئ اے ای اے ہی میں رکھنا چاہتا ہے جبکہ آئی اے ای اے کی نظر میں ایران کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ فنی و تکنیکی اعتبار سے حل ہوچکا ہے۔ (28مئي2008)
بجلی کا بحران اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے دستبرداری
پاکستان میں بجلی کا بحران یوں تو کافی عرصے سے حکومت اور عوام دونوں کے لئے ہی الجھن اور پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے تاہم حالیہ برسوں میں اس میں کافی شدت آگئی ہے ۔حکام بجلی کے بحران کی ذمہ داری اپنے سرلینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اس کا سارا الزام بجلی کی چوری اور برقی اشیاء کے بڑھتے ہوئے استعمال کو قرار دیتے ہیں بہرحال وجہ جو بھی ہو عوام بجلی کی کمی اور لوڈشیڈنگ سے عاجز آچکے ہیں اور پاکستان کے مختلف شہروں میں آئے دن طولانی لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں ہنگامہ آرائي کی خبریں ملتی رہتی ہیں ۔ماضي میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ڈیموں کی تعمیر اور خصوصا" کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ بڑی شدت کے ساتھ میڈیا پر سامنے آتا رہا ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی اس کی تعمیر کے لئے اپنے پورے عزم کا اظہار کیا تھا تا ہم اب موجود حکومت نے یہ کہہ کر اس ڈیم کی تعمیر سے صرف نظر کرلیا ہے کہ یہ ایک متنازعہ ڈیم ہے جس کی تعمیر کے لئے پہلے ہی کافی وقت برباد کیا جا چکا ہے اور حکومت اس سلسلے میں متبادل راستے تلاش کررہی ہے ۔اخبار جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزير توانائی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کالاباغ ڈیم پر بڑا وقت ضائع کرلیا اب ایسے منصوبے بنائیں گے جن پر اختلافات نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسی منصوبہ بندی کرلی ہے ، کہ کم سے کم وقت میں نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پالیا جائے گابلکہ پانی بھی ذخیرہ کیا جائے گا ۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بجلی کی کمی قومی مسئلہ ہے اور اس مسئلے سے جنگي بنیادوں پر نمٹا جائے گا ۔پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے 3 سال کا عرصہ نہیں لگے گا، بلکہ یہ آئندہ سال ہی حل کرلیاجائے گا ، انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت نے اس کے لئے منصوبہ بندی کرلی ہے ، جبکہ ملک بھر کی مارکیٹوں کو رات نو بجے ہر صورت بند کرائیں گے ۔پاکستان کے سیاسی اور جمہوری عمل میں آنے والی روکاوٹوں کو دیکھتے ہوئے بعید نظر آتا ہے کہ بجلی کے بحران پر آئندہ سال تک قابو پالیا جائے گا ۔علاوہ ازيں تاجر برادری نے رات نوبجے کاربار بند کرنے کی حکومت کی تجویز کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بازار اور دکانیں رات نوبجے کے بعد بھی کھلی رہیں گی جس کے پیش نظر تاجر برادری اور حکومت کے درمیان ابھی سے ہی ٹکراؤ کے آثار پیدا ہوگئے ہیں ۔( 27 مئی 2008)
کامیابی کے جشن میں سید حسن نصراللہ کی تقریر
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے صیہونی حکومت کے قبضے سے جنوبی لبنان کے علاقے کی آزادی کی آٹھویں سالگرہ کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ شبعا فارم سمیت غاصب صیہونی حکومت کے قبضے سے جنوبی لبنان کے تمام مقبوضہ علاقوں کی آزادی تک مزاحمت جاری رہے گی۔ان دنوں لبنانی عوام صیہونی حکومت کے قبضے سے لبنانی علاقوں کی آزادی اور جنوبی لبنان سے صیہونی فوجیوں کی ذلت آمیز شکست کا جشن منا رہے ہیں۔صیہونی فوجی آٹھ سال قبل پچیس مئی دو ہزار کو لبنانی عوام کی مزاحمت کے مقابل پے در پے ناکامیوں کے بعد اور حزب اللہ لبنان اور اس کے رہنما سید حسن کی ولولہ انگیز قیادت اور جدوجہد کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے ایک بڑے علاقے سے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔اس مناسبت سے لبنان کے عوام نے بیروت کے جنوب میں اس فتح کا جشن منایا۔اس موقع پر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے ایک اہم خطاب کیا۔انہوں نے اپنے اس خطاب میں صیہونی جارحیت کے مقابل لبنانی قوم کی استقامت کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس استقامت سے لبنانی قوم کو بہت سے نتائج و فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ان میں جنوبی لبنان کے ایک بڑے حصے کی صیہونی حکومت کے قبضے سے آزادی اور لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کی شرم ناک شکست بھی شامل ہے۔سید حسن نصراللہ نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمت نے دو نمونے پیش کیے ہیں پہلا یہ کہ لبنان کے مقبوضہ علاقوں کی آزادی اور صیہونی قابضوں کو باہر نکالنا اور دوسرا یہ کہ جارحیت اور خطرے کے مقابل وطن اور قوم کے دفاع کی حکمت عملی۔اس بنا پر جب تک لبنان کو ان سازشوں کا سامنا ہے مزاحمت کا جاری رہنا ضروری ہے۔انہوں نے لبنان کی سیاسی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کو اتحاد و یکجہتی اور تعاون کی ضرورت ہے اور قومی وحدت کی حکومت تشکیل پر اتفاق تمام لبنانیوں کی کامیابی کے مترادف ہے۔سید حسن نصراللہ کے اس اہم خطاب نے ایک بار پھر لبنان کی مزاحمتی تحریک پر حکمفرما جمہوری سوچ اور استقامت کے جذبے کو ایک بار پھر آشکار اور نمایاں کر دیا ہے۔ادھر لبنان کے نومنتخب صدر میشل سلیمان نے بھی حزب اللہ کی تعریف کرتے ہوئے لبنان کی دفاعی پالیسیوں میں حزب اللہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی اپیل کی ہے۔لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے بھی ایک بار پھر لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کی کامیابیوں کی تعریف کی ہے۔لبنانی عوام کی طرف سے حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی حمایت اس مزاحمتی تحریک کو الگ تھلگ کرنے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی کوششوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔سید حسن نصراللہ کی تقریر بھی یہ پیغام دے رہی ہے کہ حزب اللہ لبنان لبنان کے عوام اور حکام کی خواہشات کے مطابق صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات اور سازشوں کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ہوئی ہے۔(27مئی2008)
ڈیرہ اسمعیل خان میں دہشت گردی چار افراد شہید
جیسا کہ آپ نے خبروں میں سنا صوبہ سرحد کے شہر ڈیرہ اسمعیل خان میں ایک بار پھر دہشت گردوں کے ہاتھوں چار بے گناہ انسان اپنے جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں ۔ڈیرہ اسمعیل خان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ایک خاص فرقے کے لوگوں کا بہیمانہ قتل عام ایک طویل عرصے سے جاری ہے تا ہم ابھی تک کسی ایک بھی بے گناہ شخص کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانے میں حکومت ناکام رہی ہے ۔دہشت گردی کے حالیہ واقعے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ موقع پر موجود ایک پولیس اہلکار کو بھی دہشت گردوں نے نہیں بخشا اور اسے بھی اپنی گولیوں کا نشانہ بناکر انتہائي سفاکی کے ساتھ قتل کردیا ۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائي جاتی ہے تا ہم صورتحال قابو میں ہے ۔پاکستان میں پچھلے تیس برسوں کے دوران انتہا پسندی کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کے باعث نہ جانے کتنے خاندان اب تک اجڑ چکے ہیں اور اس دوران حکومتوں کی تبدیلیاں اور سرکاری حکام کے دعوے بھی دہشت گردی کو لگام دینے میں ناکام رہے ہیں جس کے پیش نظر یہ تصور عام ہے کہ ان کارروائیوں میں ایجنسیاں ملوث ہیں جو اپنے خاص اہداف کے پیش نظر ملک میں اس طرح کی صورتحال کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں ۔اس سارے قضیے کا المیہ یہ ہے کہ عام شہریوں سے لے کر اعلی سرکاری حکام تک مقتولین کی صفوں میں نظر آتے ہیں حتی ملک کی سابق وزير اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو بھی نامعلوم دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کردی گئیں البتہ نامعلوم دہشت گردوں کی اصطلاح وہ ہے جو عموما" سرکاری حکام دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد زبان پر لاتے ہیں لیکن دنیا جانتی ہے کہ دہشت گرد کون ہیں اور کس کے ایما پر بے گناہ انسانوں کو موت کی نیند سلا رہے ہیں ۔( 26 مئی 2008)
لبنانی صدر کا پہلا خطاب ۔ حزب اللہ کی تعریف
لبنان میں میشل سلیمان کے انتخاب کے بعد صدارت کے منصب اور طاقت کا خلا پر ہوگیا ہے اور اس سے لبنان میں سیاسی استحکام اور بحران کے خاتمے کی صورت نظر آنے لگی ہے ۔میشل سلیمان نے ایک سو اٹھائیس کی پارلیمنٹ میں ایک سو اٹھارہ ووٹ لئے ہیں اور اس طرح وہ آئندہ چھ سال کے لئے لبنان کے آئینی صدر منتخب ہوگئے ہیں ۔میشل سلیمان امیل لحود اور فواد شہاب کے بعد تیسرے لبنانی صدر ہیں جو لبنان کی فوج کی سربراہی کے بعد اس عہدے کے لئے منتخب ہوئے ہیں ۔
لبنان کے سابق صدر امیل لحود اپنی غیرجانبداری اور لبنان کی ارضی سالمیت کے محافظ ہونے کی وجہ سے لبنانی عوام میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں میشل سلیمان کا نام گزشتہ چند ماہ سے لبنان کے صدر کی حیثیت سے سامنے آیا تھا اور دوحہ میں مختلف لبنانی گروہوں کی مفاہمت کے نتیجے میں وہ گزشتہ روز صدر کے منصب پر فائز ہوئے ۔
انتخاب کے بعد میشل سلیمان نے اپنے پہلے صدارتی خطاب میں اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مزاحمت و استقامت کو سراہا ہے اور اس تحریک کو مستقبل میں پہلے سے بہتر انداز سے جاری رکھنے پر زور دیا ہے ۔
لبنانی صدر کی اس تقریر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنے سابقہ موقف پر قائم ہیں اور لبنانی عوام کی خواہشات کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔
میشل سلیمان نے جہاں مزاحمت اور مقاومت کے نتائج سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی بات کی ہے وہاں لبنانی عوام کی یکجہتی اور وحدت کو بھی مستقبل کی کامیابی کی بنیاد اور اساس قرار دیا ہے ۔
لبنان میں موجودہ سیاسی بحران کا خاتمہ عین ان تاریخوں میں ہوا جب لبنان میں ہر سال پچیس مئی کوجشن استقامت منایا جاتا ہے ۔پچیس مئی سن دو ہزار، لبنان کی تاریخ میں وہ ناقابل فراموش دن ہے جس دن غاصب صیہونی حکومت کو لبنان کی سرزمین سے انتہائي شرمناک انداز سے فرار کرنا پڑا تھا ۔
لبنانی عوام نے اس سال ایک ہی دن میں دو مناسبتوں پر یعنی جشن استقامت اور سیاسی بحران کے خاتمے کے حوالے سے خوشیاں منائیں بہرحال اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان دونوں کامیابیوں میں حزب اللہ کی استقامت سب سے نمایاں اور بنیادی ہے ۔( 26 مئی 2008)
افغانیوں کے قاتل امریکی فوجی بری
امریکہ کی ایک فوجی عدالت نے 19 افغان شہریوں کے قاتل دو امریکی فوجیوں کو بری کردیا ہے ۔ان دو امریکی فوجیوں کے بری کئے جانے کے احکامات پر افغانستان کی حکومت اور پارلمان دونوں نے ہی نے اپنے سخت ردّعمل کا اظہار کیاہے خیال رہے کہ ان دو امریکی فوجیوں نے گزشتہ سال مارچ کے مہینے میں جلال آباد میں فائرنگ کے 19 افراد کو ہلاک کردیا تھا جبکہ اس واقعے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد زخمی بھی ہوگئی تھی۔ اگرچہ اس واقعے کے ذمہ دار سبھی افراد کی مکمل شناخت ہوگئی تھی تا ہم اس کے باوجود امریکی فوجی عدالت ان کے بری ہونے کا حکم جاری کردیا ہے ۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکی فوجیوں کا بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے انہیں ایذائیں پہنچانے اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کئے جانے کی بنا پر کورٹ مارشل کیا گیا ہے تا ہم اس کا نتیجہ ہمیشہ افغان عوام کی توقع کے برخلاف سامنے آیا ہے ۔چنانچہ امریکہ کی فوجی عدالت کے حالیہ فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے حقیقت امر یہ ہے عدالتی کارروائي یا جرائم پیشہ فوجیوں کا کورٹ مارشل صرف عوام کے غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اور اس قسم کی کارروائي کا اصل مقصد ان کو تحفظ فراہم کرنا رہتا ہے لہذا امریکہ سے یہ توقع رکھنا بالکل عبث ہے کہ وہ اپنے جرائم پیشہ فوجیوں کو کسی قسم کی سزا دے گا ۔بیرون ملک تعینات اپنے فوجیوں کو ہر قسم کی عدالتی کارروائی سے بری الذمّہ قراردینا اور ان کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرنا ایسے ناگوار حقایق ہیں کہ جن کی خاطر امریکہ حتی عالمی اداروں کے فیصلوں کو ماننے کے لئے تیار بھی نہیں ہے ۔بہرحال اس وقت افغانستان کی ساری بدامنی کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے اور چونکہ امریکی فوجیوں کو افغانستان میں ہرطرح کا قانونی تحفظ حاصل ہے لہذا وہ افغان شہریوں کے خلاف ہر جرم کا ارتکاب کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں ۔( 25 مئی 2008)
مغربی مجوزہ پیکج اور تہران کا رد عمل
ایران کے وزیرخارجہ منوچہر متکی نے گروپ پانچ جمع ایک کے پیکج کے بارے میں ں کہا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک ایران کے پیکج کے تئیں جو رویہ اختیار کرے گا ایران بھی گروپ پانچ جمع ایک کے پیکج کے ساتھ وہی رویہ اختیارکرے گا۔وزیر خارجہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہ مغربی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے پیکج کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہيں مزید کہا کہ جب ایران کو گروپ پانچ جمع ایک کا پیکج پیش کیا جاۓ گا تو تھران اس کا جائزہ لے گا ۔گروپ پانچ جمع ایک نے چین او ر برطانیہ میں اپنی دو نشستوں میں ایران کو پیکج پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔پروگرام کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ خاویر سولانا گروپ پانچ جمع ایک کا پیکج تہران کے حوالے کرنے کیلۓ ایران آئيں گے ۔ایران نے ابھی حال ہی میں پہل کرتے ہو ۓ بین الاقوامی مسائل کے حل کے لۓ عالمی برادری کو کچھ تجاویز دی ہیں جس کا مختلف ملکوں اور سیاسی وصحافتی حلقوں نے خیرمقدم کیا ہے ۔ ایران کے پیکج میں سیکورٹی ، انرجی ،منشیات و دہشت گردی کے خلاف جدو جہد ، ڈیموکریسی ،ایٹمی توانائي ، ماحولیات ، اقتصادیات،اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد مسائل شامل ہیں ۔ ایران کا پیش کردہ پیکج منصفانہ اصولوں پر بین الاقوامی مسائل کے حل کیلۓ ملکوں کے درمیان بات چیت اور تبادلہ خیال کیلۓبہترین بنیاد بن سکتا ہے ۔برطانوی اخـبارگارڈین نے ایران کےپیکج کو جدید اور جامع پیشکش سے تعبیر کیا ہے ۔ لندن سے شائع ہونے والے روونامہ ڈیلی ٹیلی گراف نے ایران کے پیکج کو ایٹمی پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے تعطل کوختم کرنے کیلۓ ایک قدم قرار دیاہے ۔درحقیقت ایران کی اس پہل سے نیا راستہ کھل سکتا ہے جس سے تمام ممالک کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ہی بین الاقوامی سطح پرنابرابری اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوسکتا ہے، جس میں ایران کے ایٹمی معاملے کا حل بھی شامل ہے ۔مغربی ممالک غیرقانونی روش اختیار کرکے ایران کو اس کے مسلمہ ایٹمی حقوق سے محروم کرناچاہتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کی جانب سے ایران کو یورے نیم کی افزودگی روکنے پر مجبور کرنے کی کوشش این پی ٹی کے معاہدے کے خلاف ہے ۔ اگر چہ گروپ پانچ جمع ایک کا پیکج ابھی ایران کو پیش نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر اس پیکج میں ایران سے یورے نیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کیا گیاہوگا تو تہران اس کی ضرور مخالفت کرے گا۔اسی بنا پر اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق سفیر جان تھامسن نے حکومت برطانیہ کے نام ایک خط میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں مغرب کی پالیسی کو ناکام قراردیا ہے کیونکہ این پی ٹی کے معاہدے کے تناظرمیں بڑی طاقتیں کسی قوم کو اس کے قانونی حق سے محروم نہیں کرسکتیں ۔ گروپ پانچ جمع ایک بھی اس سلسلے میں ایران کے موقف سے واقف ہے ۔ لہذا اس کی جانب سے اقتصادی پیکج کےعوض یورے نیم کی افزودگی روکنےکی غیرقانونی درخواست اس کی بد نیتی کا ثبوت ہے۔ اس بیچ تہران کا پیکج ایران کے ایٹمی معاملے سمیت مختلف مسائل کے حل کی مناسب بنیاد اور موقع ثابت ہوسکتا ہے ۔ اور یہ عدل وانصاف حریت وآزادی ، جمہوریت و ڈیموکریسی اور انسانی حقوق کا دعوی کرنے والے ملکوں کو پرکھنے کا معیار اور کسوٹی بھی بن سکتا ہے۔ ( 25 مئی 2008)
جنگ عراق کے لئے مختص بجٹ میں اربوں ڈالر کا گھپلا
عراق کے لئے جنگي بجٹ مخصوص کئے جانے کے صرف ایک روز بعد یہ خبر سننے میں آئی ہے کہ جنگ عراق کے دوران 15 ارب ڈالر کی رقم جو امریکی شہریوں کے ٹیکس کی بابت وصول ہوئی تھی ، گم ہوگئی ہے ۔امریکی وزارت جنگ پنٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ عراق کے دوران ضروری خدمات اور وسائل کی بابت 15 ارب ڈالر کی رقم کے بارے میں کچھ اطلاع نہیں ہے ۔امریکی ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو ایک بڑا جھٹکا قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف ایک دن پہلے ہی امریکی سینٹ نے عراق جنگ کے لئے 165 ارب ڈالر کی رقم مخصوص کئے جانے کی منظوری دی تھی ۔اس بجٹ کا ایک بڑا حصّہ ان فوجیوں کی رفاہی سہولتوں کے لئے مختص کیا گيا ہے جو عراق جنگ سے واپس لوٹے ہیں تا ہم صدر جارج ڈبلیو بش نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے اور اس بل کو ویٹو کردیں گے ۔وھائٹ ہاؤس نے اس بل کی مخالفت کی وجہ ان فوجیوں کی رفاہی سہولتوں کے خطیر اخراجات کو قرار دیا ہے ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سنٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری اور اس کے ساتھ ہی مالی بدعنوانی کی خبر کی اشاعت بش اور وھائٹ ہاؤس پر سیاسی دباؤ بڑھنے کا سبب بنے گي ۔
عراق کے جنگی بجٹ میں مالی بدعنوانی اور گھپلے کی خبریں کافی عرصے سے گشت کررہی تھیں اور کہا جارہا تھا عراق کی تعمیر نو کے لئے مختص 9 ارب ڈالر کی رقم کا بھی کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ وہ کہاں گئی ۔حکومت امریکہ نے عراق کے خلاف جنگ شروع کرنے اور اس ملک کی تباہی کے نتیجے میں ہونے والی تنقیدوں کو کم کرنے کے لئے 18 ارب ڈالر کی رقم عراق کی تعمیر نو کے لئے مختص کی تھی کہ جس میں سے نصف رقم غائب ہوگئی ہے اور اب پنٹاگون کا کہنا ہے کہ 15 ارب ڈالر کی رقم اس طرح سے غائب ہوئی ہے کہ حساب کتاب کے ذریعہ اس کا پتہ ہی نہیں چلایا جا سکتا اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ بلیک واٹر اور ہیلیبرٹن جیسی امریکی کمپنوں نے عراق کے ٹھیکے لے کر امریکی عوام کے ٹیکسوں سے حاصلہ کڑوڑوں ڈالر کمائے ہیں ۔بہرحال وھائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ عراق سے واپس آنے والے امریکی فوجیوں کے لئے رفاہی اخراجات کی فراہمی کے بل کو جارج بش ویٹو کردیں گے ۔البتہ اس بات کا قومی امکان پایا جاتا ہے کہ آئندہ امریکی حکومت بش کے اس فیصلے کو کالعدم قراردے کر امریکی فوجیوں کے لئے رفاہی سہولتیں مہیا کرنے کے احکامات جاری کردے گی ۔( 24 مئی 2008)
امریکی فوجی کے ہاتھوں قرآن کے بے حرمتی کے واقعے پر افغانستان میں احتجاج
مغربی افغانستان میں واقع شہر غور میں امریکہ کے خلاف ہونے والے ایک عوامی مظاہرے کے دوران 2 عام شہری جاں بحق اور 12 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں ۔پریس ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ مظاہرہ عراق میں تعینات ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف بطور احتجاج کیا گیا تھا جو بعد میں تشدد میں تبدیل ہوگیا ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے تاہم حکام اس کو چھپارہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق علاقے میں اس واقعے کے بعد سخت کشیدگی پھیل گئی ہے ۔
ادھر صوبہ بدخشاں میں بھی آج سینکڑوں افغان طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی پرچم اور صدر جارج ڈبلیو بش کی تصویر کو نذر آتش کردیا ، مظاہرین امریکہ کے خلاف نعرے لگارہے تھے ۔ان کا مطالبہ تھا کہ قرآن کریم کی بے حرمتی کے مرتکب امریکی فوجی کو گرفتار کرکے سزادی جائے ۔
واضح رہے کہ مذکورہ امریکی فوجی نے جان بوجھ کر قرآن کریم پر بطور ہدف فائرنگ کی تھی ۔ اس واقعے پر پورے عراق میں سرکاری اور عوامی سطح پر شدید احتجاج کیا گیا تھا جو اب بھی جاری ہے ۔
عراقی عوام اور حکام کے شدید احتجاج کے بعد امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق کے وزير اعظم نوری مالکی کو ٹیلی فون کرکے معافی مانگي تھی تا ہم انہوں نے بش کی جانب سے معافی کے اقدام کو ناکافی قراردیا ہے ۔دریں اثنا عراق کے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ سید علی سیستانی نے اپنے ایک بیان میں بش سے کہا ہے وہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے پر پوری مسلم دنیا سے معافی مانگیں ۔( 24 مئی 2008)
میشل سلیمان نے ایک بارپھر حزب اللہ کی حمایت پرتاکید کی ہے
لبنانی فوج کے کمانڈر میشل سلیمان نےجنھیں کل لبنانی پارلمینٹ ملک کاصدرمنتخب کرنے والی ہے حزب اللہ کی مکمل حمایت پرتاکید کی ہے ۔لبنان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے حل کیلۓ دوحہ اجلاس میں میشل سلیمان کو صدر منتخب کۓ جانے پر بھی اتفاق کیاگیا تھا۔لبنان میں گذشتہ سال نومبر میں امیل لحود کا دور صدارت ختم ہونے کے بعد سے صدارت کاعہدہ خالی ہے اور اس سلسلے میں وہاں بڑی سیاسی طاقت کا خلاء تھا۔ دوحہ اجلاس نے لبنانیوں کو اپنا قومی اتحاد اور سیاسی استحکام کو تقویت پہنچانےکی سمت گامزن ہونےکا موقع فراہم کیا ہے ۔ صدر کا انتحاب، فوری طورپر قومی کابینہ کی تشکیل، ملک کے انتخابی قوانین میں اصلاح لبنان میں چند ماہ سے جاری بحران کے خاتمے کیلۓ موثرقدم شمار ہوتا ہے ۔ان حالات میں میشل سلیمان پرجو بہت جلد لبنان کے عہدہ صدارت کی ذمے داریاں سنبھالنے والے ہيں، صیہونی حکومت کے خلاف عوامی استقامت کی حمایت پر مبنی عوامی مطالبے کو عملی جامہ پہنانے اور امور کو اتحادویکجہتی کی جانب گامزن کرنےکی اہم ذمے داری عائد ہوتی ہے۔اس سلسلےمیں میشل سلیمان نے لبنانی اخبار السفیر اور کویتی اخبار القبس کوایک انٹرویو میں لبنان کی صورتحال اور اپنے مد نظر مقاصد کوبیان کیا ہے ۔ میشل سلیمان نے تاکید کی ہے کہ وہ اپنی پوری توجہ آئین پرعمل درآمد لبنان کے اقتداراعلی کے تحفظ اور موجودہ مشکل حالات سے لبنانیوں کونکالنے پر دیں گے ۔ میشل سلیمان نے تاکید کی کہ لبنان اور مجموعی طورپر عرب ملکوں کاواحد دشمن اسرائیل ہے اور پوری لبنانی قوم ہمیشہ حزب اللہ کے ساتھ رہے گی اور اس کی حمایت کرتی رہے گی۔ چند روز پہلے بھی میشل سلیمان نے لبنان کے اقتداراعلی کے تحفظ اور صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں حزب اللہ کی تعریف کی تھی ۔ میشل سلیمان نے ایسے وقت میں صیہونیت مخالف استقامت یعنی حزب اللہ کی دوبارہ حمایت کی ہے جب لبنان کے عوام سن دوہزار میں جنوبی لبنان کے ایک بڑے حصے سے صیہونی حکومت کی ذلت آمیز پسپائی کا جشن منارہے ہيں ۔لبنانی عوام ہرسال اس کامیابی کا جشن مناتے ہيں ۔ لبنانیوں کی دوسری کامیابی لبنان کوخانہ جنگی میں الجھانے کی صیہونیوں اور ان کے حامیوں کی سازش کی ناکامی ہے۔ اور حزب اللہ کو یکہ وتنہا کرنے کی لبنان کے دشمنوں کی شکست اس بات کا باعث بنی ہے کہ لبنان میں استقامت کی عید کا جشن دوبالا ہوجائے اور لبنانی عوام مزید شان وشوکت سے یہ جشن کی تقریبات منعقد کریں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حزب اللہ نےصیہونی حکومت کے خطرات کا مقابلہ کرنے میں لبنان کی استقامت کی طاقت کو مضبوط بنانے میں اہم کردارادا کیا ہے اور اس حقیقت کامیشل سلیمان نےبھی اعتراف کیا ہے ۔ موجودہ حالات میں لبنان کو جن سازشوں اور خطرات کا سامنا ہے انھیں اتحاد مفاہمت اورحزب اللہ کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھ کر ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ (24مئی2008)
شام اور صیہونی حکومت کے درمیان مذاکرات اور ترکی کی ثالث
ترکی کی وزارت خارجہ نے ایسے حالات میں شام اور صیہونی حکومت کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے اپنی ثالثی کی خبر دی ہے کہ جب ترکی کے ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل ترکی میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے آغاز کی خبر دے دی تھی۔ان ذرائع ابلاغ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ مذاکرات براہ راست ہوئے یا بالواسطہ انجام پائے۔اس کے باوجود جس چیز نے ترکی اور علاقے کے بعض سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کی ہے وہ شام اور صیہونی حکومت کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے لیے ترکی کی ثالثی کی کوششیں ہیں۔فرانس پریس نے ترکی کی کوششوں کو مشرق وسطی کے اختلافات کے حل میں اہم کردار ادا کرنے کی اس ملک کی خواہش کا آئینہ دار قرار دیا ہے۔بعض دوسرے سیاسی تجزیہ نگاروں نے ترکی کی ان کوششوں کو مشرق وسطی میں اس کے دیرینہ کردار اور مفادات کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔وہ علاقہ جو ایک زمانے میں عثمانی سلطنت کا حصہ تھا اور ترکی کے بعض سیاسی حلقوں کو امید ہے کہ وہ ایک دن مشرق وسطی میں اپنے ملک کی دیرینہ پوزیشن اور کردار کو بحال کر دیں گے یا کم از کم اس علاقے میں سیاسی و اقتصادی لحاظ سرگرم کردار ادا کر پائيں گے۔بعض دیگر سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ شام اور صیہونی حکومت کے درمیان مذاکرات میں ترکی کی ثالثی میں امریکی خواہش بھی دخیل ہے۔ان حالات میں ترکی کے بعض صحافتی حلقے ترکی کی ثالثی کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ثالثی کے لیے اب تک تمام کوششیں آزمائی جا چکی ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ان حالات میں ترکی شام اور صیہونی حکومت کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات شروع کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ ترکی مشرق وسطی کے علاقے میں امریکہ کا ایک قریبی اتحادی اور دوست سمجھا جاتا ہے اور علاقائی تنازعات کے حل میں ترکی کی حکومت کی ثالثی کی کوششیں اس وقت شروع ہوئیں جب واشنگٹن نے عظیم مشرق وسطی اور نئے مشرق وسطی کی مانند منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کی کوششیں شروع کیں اور اس کے لیے اس نے علاقے میں اپنے دوستوں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔اگرچہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ ترکی کے اسٹریٹجک تعلقات کے قیام کی ترکی کے عوام نے کبھی بھی تائید و تصدیق نہیں کی ہے اور اس ملک کے مسلمانوں نے ہمیشہ ان پر تنقید کی ہے۔لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ ترکی کی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ علاقے میں قیام امن کے لیے کوششوں کی آڑ میں ان کا جواز پیش کرے ۔(22مئی2008)
ہند اسرائیل تعلقات اور عالم اسلام کی ناراضگی
ہندوستان کے معروف اخبار " ہندوستان ٹائمز" ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان زراعت سمیت کئی دوسرے شعبوں میں اربوں ڈالر کے سمجھوتوں کا انکشاف کیا ہے ۔اخبار کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے ایک وزير نے گزشتہ دنوں ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور زراعت کے شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور تعاون میں اضافے پر کئی اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں ۔اسرائیلی حکومت نے انہی معاہدوں کی بنا پر نئي دہلی میں موجود اپنے سفارتخانے میں ایک خصوصی اہلکار کو متعین کیا ہے ۔
ہندوستان اور غاصب صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات پہلی بار سنہ 1992 میں سامنے آئے ۔ہندوستان نے عرب ممالک سے اپنے تعلقات کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے ہمیشہ ان تعلقات کی نوعیت کو مخفی رکھا جبکہ دوسری طرف صیہونی حکومت نے اپنے آپ کو سیاسی تنہائي سے بچانے کے لئے ہندوستان کے ساتھ تعلقات سے استفادہ کیا ہے ۔
ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پر ہندوستان کے اندر مخالفت شروع ہی سے رہی ہے مسلمانوں کے علاوہ بائیں بازو کی جماعتیں بھی ان تعلقات پر ہمیشہ برہمی کا اظہار کرتی رہی ہیں ۔
غاصب صیہونی حکومت کے ساٹھ سالہ مکمل ہونے پر گزشتہ دنوں نئی دہلی میں ایک سمینار منعقد ہوا تھا جس میں شریک علماء اور دانشوروں نے ہندوستان کی مرکزي حکومت پر غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے پر زوردیا ۔
ہندوستان جو ایک طرف ناوابستہ تحریک کا بانی اور فعال ممبر سمجھا جاتا ہے دوسری طرف ایک ایسی حکومت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہا ہے جس نے اپنے غاصبانہ قبضے کے ذریعے فلسطین پر ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا ہے ۔
ہندوستان کو اس بات کی امید تھی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں فروغ لاکر امریکہ میں موجود صیہونی لابیوں کو اپنی طرف متوجہ کرکے ہند ، امریکہ تعلقات کو اپنے حق میں کرلےگا لیکن عملی طور پر ہندوستان اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ امریکہ اس معاہدے کے ذریعے ہندوستان کی خودمختاری اور استقلال کو نشانہ بنانا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مختلف جماعتیں اور عوام ہند امریکہ معاہدے کی مخالف ہیں ۔
بہرحال ہندوستان اور غاصب صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات میں توسیع سے جہاں عالمی سطح پر ہندوستان کی غیر جانبدارانہ ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے وہاں ہندوستان کے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں ۔(21 مئی 2008)
ایران کے خلاف امریکہ کی تشہیراتی مہم
وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے سلسلےميں امریکہ کی مخاصمانہ اورغیراصولی پالیسیوں کی شکست کے مختلف پہلو نمایا ں ہوتے جارہے ہيں ۔وہائٹ ہاوس کے حکام نے گذشتہ تیس برسوں کے دوران اسلامی جمہوری نظام کونقصان پہنچانے کے لئے اپنے تمام حربے استعمال کئے لیکن نہ صرف یہ کہ انھیں اس سلسلے میں کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران روزبروزعالمی اورعلاقائی سطح پر ایک اہم اورموثر ملک کی حیثیت سے ابھر کرسامنے آیا ۔امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکرننسی پلوسی نے یہ بیان دیکر کہ دوسرے ملکوں کوچاہئے کہ ایران کے بارے میں امریکی پالیسیوں کا ساتھ دیں امریکی بے بسی کا اظہارکردیا ہے اور ایک بارپھر ثابت ہوگیا کہ وہا ئٹ ہاوس کے حکام ایران کے سلسلے میں اپنی تمام پالیسیوں میں ناکام ہوچکے ہيں ۔ ننسی پلوسی نے اسرائیلی اخباریوروشلم پوسٹ سے اپنے ایک انٹرویومیں کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگراموں کے بارے میں دوسرے ملکوں کے موقف ہی امریکہ کے ساتھ دوستی کا معیارمتعین کریں گے ۔ اگرچہ بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ جب امریکی حکام اسرائیل کادورہ کرتے ہيں توایران مخالف ان کے بیانات میں کچھ زیادہ ہی شدت آجاتی ہے تاکہ وہ امریکہ کے اندر صیہونی لابی کی حمایت حاصل کرسکیں کیونکہ ایوان نمائندگان میں ارکان کے لئے صیہونی لابی کی حمایت کی کسوٹی ایران مخالف ان کارویہ ہوتا ہے جونمائندہ جتنا زیادہ ایران کا مخالف ہوتا ہے وہ صیہونی لابی کے اتنا ہی زیادہ قریب ہوتا ہے ساتھ ہی اس وقت امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لئے سخت مقابلہ ہے اورننسی پلوسی کا ایران مخالف بیان بھی ڈیموکریٹ امیدوارکے لئے صہیونی لابی کی حمایت حاصل کرنا ہے لیکن سفارتی اصول کے مطابق ننسی پلوسی کا بیان ایک طرح سے نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے اوریہ دوسرے ملکوں کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت بھی ہے ۔ عالمی برادری آئی اے ای اے کی متعددرپورٹوں کے مطابق اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کےلئے ہے لیکن امریکی حکام اس سلسلے میں ہنگامہ آرائی کرکے ایران کے ایٹمی پروگرام کوفوجی مقاصدکا پروگرام ظاہرکرنے کی ناکا کوشش کررہے ہيں جبکہ آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے شرم الشیخ میں اپنے ایک بیان میں پھر کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی بھی طرح کا کوئی انحراف نہیں پایاجاتا ۔( 20 مئی 2008)
حزب اللہ ، سنی شیعہ میں یکساں مقبول
عالم اسلام کے سب بڑے دینی مراکز اور اہلسنت کی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی جامعۃ الازہر کی جانب سے حزب اللہ لبنان کی بھر پور حمایت نے لبنان کے بحران کے سلسلے میں دشمن کی جانب سے شیعہ سنی کی تفریق کی کوششوں پر پانی پھیردیا ہے ۔
اطلاعات کے مطابق جامعۃ الازہر کے سربراہ محمد سید طنطاوی نے اپنے ایک بیان میں ملکی اور غیر ملکی فتنہ انگیزیوں کے مقابلے میں حزب اللہ کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ کو صیہونی حکومت کے جاسوسوں کا علم نہ ہوتا تو لبنان کب کا تباہ و برباد ہوچکا ہوتا ۔شیخ محمد سید طنطاوی کی سربراہی میں جامعۃ الازہر کے تحقیقاتی مرکز کے عہدیداروں کے باضابطہ اجلاس میں حزب اللہ کی حمایت کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ صیہونی اور مغربی حلقوں اور کچھ عرب ممالک نے مل کر حزب اللہ کے خلاف ایک محاذ کھڑا کررکھا ہے جس کا مقصد حزب اللہ پر دباؤ ڈالنا اور عالمی رائے عامّہ کے سامنے اس کو تنہا ظاہر کرنا ہے ۔
جنوبی لبنان سے صیہونی افواج کی پسپائي اور 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کا کردار اور فتح مندی نے حزب اللہ کو ایک ایسا شاندار مقام عطا کردیا ہے کہ جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ۔علاوہ ازیں لبنان پر حکمراں چودہ مارچ سے موسوم مغرب نواز دھڑے کی جانب سے حزب اللہ کو دیوار سے لگانے میں ناکامی کے بعد حزب اللہ کی استقامت اور پایداری کا سب اعتراف کرنے لگے ہیں چنانچہ ان حالات میں مغربی پروپیگنڈہ مشنری اور مغرب نوازوں نے ملکر حزب اللہ کے خلاف جو بے بنیاد پروپیگنڈہ شروع کیا ہے لگتا ہے کہ اس کے علاوہ ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں بچا ہے ۔
بہرحال جامعۃ الازہر کا عالم اسلام میں جو مقام ہے اور اہل سنت کے درمیان اسے جو اہمیت حاصل ہے اس کے پیش نظر حزب اللہ کی حمایت ایک اہم قدم شمار ہوتی ہے اور حزب اللہ کو ایک مخصوص فرقے کی نمائندہ جماعت قرار دیئے جانے اور لبنان میں مسلمانوں کے درمیان فرقہ بندی کی سازشوں کو ناکام بنائے جانے کے مترادف ہے ۔( 20 مئی 2008)
غاصب صیہونی حکومت کے جرائم کا ایک اور ثبوت
غاصب صیہونی حکومت نے نہ صرف مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کررکھا ہے بلکہ فلسطین میں بعض یہودی مہاجر بھی غاصب صیہونی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار ہیں ۔
غاصب صیہونی حکومت کی طرف سے مہاجر فلسطینیوں پر روا ظلم و ستم کا راز اس وقت مزید آشکار ہوا جب صیہونی ٹی وی کے چینل نمبر دس نے ایک فلم " بچوں کا حلقہ " نشر کی اس فلم میں صیہونیت مخالف یہودیوں کے بچوں کو جس انداز سے ظلم و جور کا نشانہ بنایا گیا ہے اس نے بہت سے مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے ۔یہ دستاویزی فلم فلسطین کے یہودی شہریوں کے بھر پور اصرار اور دباؤ کے بعد نشر کی گئی ہے اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ صیہونیوں نے مشرقی یہودی جنہیں سفاردی بھی کہا جاتا ہے کے بچوں کو کس طرح ریڈیو اکٹیو ریز کے ذریعے اپنے مذموم تجربات کا نشانہ بنایا ہے ۔یہ ظلم اتنا آشکار اور اندھی نسلی پرستی پر مشتمل تھا کہ غاصب صیہونی حکومت کے ہمنوا ذرائع ابلاغ بھی اس کو خفیہ نہ رکھ سکے ۔
غاصب صیہونی حکومت دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین کے علاقے میں آنے کی دعوت دیتی ہے اور یہاں آکر یہودیوں کو دو گروہوں یعنی مغرب سے آنے والے یہودیوں یعنی اشکنازیوں کو اوّل درجے کا شہری سمجھتی ہے اور مشرق سے آنے والے یہودیوں کو دوسرے درجے کے شہری قرار دیتی ہے ۔غاصب صیہونی حکومت ان مشرقی یہودیوں سے پست درجے کا نسل پرستانہ سلوک کرتی ہے اور ان کے لئے سماجی ، ثقافتی اور حتیٰ روزگار کے حوالے سے بھی متعصبانہ پالیسیاں مرتب کرتی ہے اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری قراردے کر ہر طرح کی سہولیات سے محروم رکھتی ہے ۔
مشرق وسطیٰ اور افریقہ و غیرہ سے مہاجرت کرکے آنے والے ان مشرقی یہودیاں کے ساتھ غاصب صیہونی حکومت کا سلوک پہلے بھی غیر انسانی تھا لیکن چینل دس کی حالیہ دستاویزی فلم نے مزید کئی رازوں سے پردہ اٹھادیا ہے ۔اس فلم میں دکھایا گيا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت سنہ 1951 میں چھ ہزار مشرقی یہودیوں کو اسکول لے جانے کے بہانے شہر سے باہر لے جاتی ہے اور وہاں پر ان بچوں پر ریڈیو ایکٹو شعاؤں کے اثرات کا تجربہ کیا جاتا ہے اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ان تجربات کے نتیجے میں کئی بچے ہلاک اور کئی کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہوگئے ۔
اس فلم کی نمائش کے بعد مہاجر یہودیوں نے اسرائیل کی نسل پرستی پر مبنی سیاست کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے اور غاصب صیہونی حکومت کے اس اقدام کے بعد یہودیوں کے لئے فلسطین کو بہشت موعود بنانے کا جھوٹا راز بھی کھل کر سامنے آگیا ساتھ ہی یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے اپنے مخالف یہودیوں کے خلاف حقیقی ہولوکاسٹ کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔ ( 20 مئی 2008)
اسلامی جمہوریۂ ایران کے حکام نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ وہ ایٹمی حقوق کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں کسی قسم کی پیشگی شرط کو قبول نہیں کریں گے اور امریکہ سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں ایران کے اس موقف سے پوری طرح باخبر ہیں ۔روس نے حال ہی میں تجویز دی ہے کہ پانچ جمع ایک گروپ کے اراکین ایران کو اپنا پیکج پیش کرنے کے لئے تہران جائیں ۔اسی دوران حکومت امریکہ نے یورینیم کی افزودگی کو روکنے کو آئندہ مذاکرات کی پیشگی شرط قرار دینے کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ اس صورت میں اپنا نمائندہ تہران بھیجے گا اگر ایران یورینیم کی افزودگی کو روک دے ۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی نے امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پانچ جمع ایک گروہ کے ساتھ امریکی نمائندے کو قبول نہیں کرے گا اور مذاکرات کے لئے بھی کوئی پیشگي شرط قبول نہیں ہے ۔
یورینیم کی افزودگی کو روکنے کی شرط کوئی نئی بات نہیں ہے امریکہ اور اس کے حواری اس سے پہلے بھی اس طرح کی شرط و شروط عائد کرچکے ہیں اور ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ صرف ان تجاویز کو تسلیم کرے گا جو ایران کے قومی مفاد اور ملت ایران کے حقوق کی ضمانت دیں ۔
امریکہ مختلف حیلے بہانوں سے یہ کوشش کررہا ہے کہ وہ پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ اپنے نمائندے کو تہران نہ بھیجے لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایران نے پانچ جمع ایک گروپ کی طرف سے کسی قسم کی تجاویز کے سامنے آنے سے پہلے ہی ایک جامع تجاویز کا پیکج عالمی برادری کے سامنے پیش کردیا ہے اس پیکج میں ایٹمی توانائي کے استعمال سمیت مختلف شعبہ جات کے حوالے سے گرانقدر تجاویز شامل ہیں ۔عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر بڑی طاقتیں حسن نیت کا مظاہرہ کریں تو ایران کی جامع تجاویز کے بعد پانچ جمع ایک گروپ کی تجاویز کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی کیونکہ ایران کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کی روشنی میں دنیا کو در پیش مسائل کو باہمی گفت وگو اور تعاون سے بآسانی حل کیا جا سکتا ہے۔
بہرحال ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بعض بڑی طاقتوں نے جو روش اختیار کررکھی ہے وہ نہ صرف قانونی بلکہ عالمی اصولوں کے معیارات پر بھی پوری نہیں اترتیں یہ طاقتیں زورگوئی اور بے جا مطالبات کے ذریعے ایران کو اس کے قانونی اور مسلمہ حق سے محروم کرنا چاہتی ہیں اور انہوں نے گزشتہ چند سالوں میں ایک بار بھی حسن نیت کا اظہار نہیں کیا ہے ۔(19 مئی 2008)
امریکہ اور صیہونی حکومت کا مکروہ چہرہ !
آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈوبلین میں کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی سے متعلق بین الاقوامی اجلاس کی تیاریوں کے ساتھ ہی امریکہ اور صیہونی حکومت نے ابھی سے ہی اس کی مخالفت شروع کردی ہے ۔
حکومت امریکہ اور صیہونی حکام نے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرکے گویا واضح کردیا ہے کہ وہ عالمی برادری کے کسی بھی متفقہ اقدام کے مخالف ہیں ۔اقوام متحدہ میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی کا مخالف ہے ۔
امریکہ اور قدس کی غاصب صیہونی حکومت کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جو بڑے پیمانے پر غیر روایتی ہتھیار خصوصا" کلسٹر بم استعمال کرتے ہیں ۔کلسٹر بم وہ غیر روایتی ہتھیار ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی مچاتا ہے ۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق کلسٹر بموں کے استعمال کے سبب پوری دنیا میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں کہ جن میں زیادہ تر کا تعلق ویتنام، افغانستان ، عراق اور لبنان سے ہے اور یہ وہ ممالک ہیں جو امریکہ اور صیہونی حکومت کی توسیع پسندی کے باعث کلسٹر بموں کا نشانہ بنے ۔
امریکہ نے ویتنام ،افغانستان اور عراق میں بڑے پیمانے پر کلسٹر بموں کا استعمال کیا ہے جبکہ اس کی پیروی کرتے ہوئے اس کی قریب اتحادی کی حیثیت سے صیہونی حکومت نے بھی لبنانی شہریوں کے خلاف اس گھناؤنے اور غیر انسانی جرم کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں لبنانی نہتے شہری جن کی ایک بڑی تعداد عورتوں اور معصوم بچوں پر مشتمل ہے خاک و خون میں غلطاں ہوگئے اور آج بھی ملبے میں دبے کلسٹر بم پوری بے رحمی کے ساتھ لبنانی شہریوں کا خون کررہے ہیں ۔
بہرحال امریکہ اور صیہونی حکومت نے ڈوبلین میں 19 مئی کو ہونے والے اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اپنے غیر انسانی چہرے کو دنیا والوں پر ایک بار پھر عیاں کردیا ہے ۔جس کے پیش نظر تل ابیب اور واشنگٹن کے خلاف فوری اور ٹھوس اقدام کی ضرورت کا احساس کیا جارہا ہے ۔(18 مئی 2008)
صیہونی اپنے توسیع پسندانہ مقاصد سے باز نہیں آسکتے
امریکی صدر بش آئندہ برس جنوری تک خود مختار فلسطینی حکومت کی تشکیل کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں امید ظاہر کی کہ آئندہ برس بیس جنوری تک یعنی ان کے وھائٹ ھاؤس سے جانے تک خود مختار فلسطینی حکومت تشکیل پاجاۓ گی ۔ بش امریکہ کے پہلے ایسے صدر ہیں جنھوں نے مقبوضہ فلسطین میں خود مختار فلسطینی حکومت کی تشکیل کے آئيڈیا پر تاکید کی ہے ۔ چند میہنے پہلے سےاس مطالبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نے شدت اختیارکرلی ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بش کو امید ہے کہ اس اقدام سے عراق اور افغانستان میں ان کی ناکامیوں پر پردہ پڑ جاۓ گا ۔ البتہ بش نے شرم الشیخ میں ایسے عالم میں خود مختار فلسطینی حکومت کی تشکیل کی بات کی ہے جب اس سے قبل صیہونی پارلیمنٹ کنسٹ میں وہ ایک بار پھر صیہونیوں کی توسیع پسندی پر تاکید کرچکے ہيں ۔صیہونیوں کا دعوی ہے کہ یہودیوں کو ایک برترقوم کی حیثیت سے پورے فلسطین پر تسلط حاصل ہوناچاہۓ ۔ بش عیسائ اور صیہونی بنیاد پرستوں کے انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر ہوکر فلسطین پر صیہونیوں کے قبضے کیلۓ دینی اورعقائدی جواز تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ صیہونی حکومت کے اندر بھی یہی انتہا پسندانہ سیاسی رجحان پایا جاتا ہے اور اسی کی تائيد کی جارہی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بش خود مختار فلسطینی حکومت کی تشکیل کیلۓ ساٹھ سال سے جاری غاصبانہ قبضےسے پیدا ہونے والے بحران کے اصلی موضوعات کو نظرانداز کر رہے ہیں۔امریکی صدر کے منصوبے میں فلسطین کی سرحدوں اور بیت المقدس کامسئلہ واضح نہیں ہے اسی طرح ان چالیس لاکھ فلسطینیوں کو بھی اپنے آبائی وطن واپس آنے کی اجازت نہيں دی جاۓ گی۔ اس کے ساتھ ہی صیہونی ان علاقوں میں کالونیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوۓ ہیں جو اس سے قبل ہونے والے معاہدوں کی بنیاد پر فلسطینی انتظامیہ کو واپس کۓ جانے تھے ۔صیہونیوں کا ارادہ ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی آبادی کے تانے بانے کو تیزی سے بدل کر اور دیوار حائل کو مکمل کرکے فلسطین کے مزید حصوں پر اپنا دائمی قبضہ جمالیا جاۓ ۔ ان تمام مسائل کی وجہ سے صدر بش کے خود مختار فلسطینی حکومت کی تشکیل پر مبنی بیانات صرف پروپیگنڈے کی حیثیت رکھتے ہيں ، اس وقت امریکہ اورصیہونیوں کے درمیان بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اس بات پر یقین کریں کہ بش کے وہائٹ ھاؤس سے نکلنے سے پہلے خود مختار فلسطینی حکومت تشکیل پاجاۓ گی۔ کیونکہ ساٹھ سال کے تلخ تجربات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اپنے کسی بھی و عدے اور عالمی اپیل پر توجہ نہیں دی ہے ۔ اسی بنا پر وہ اس بات کیلۓ تیار نہیں کہ ایک ایسے صدر کی خوشنودی کیلۓ جو وہائٹ ھاؤس سے جانے والا ہے ، ایک لمحے کیلۓ بھی اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کو نظراندازکریں۔
صدر جارج ڈبلیو بش سرزمین فلسطین پر صیہونی حکومت کے قبضے کے ساٹھ سالہ نام نہاد جشن میں شرکت کے بعد مسلم امّہ کی تحقیر کی غرض سے سرزمین حجاز پہنچے تا ہم وہ جو ہدف لے کر سعودی عرب گئے تھے اس میں انہیں بری طرح منہ کی کھانی پڑی ۔بش کے سعودی عرب کے دورے سے قبل یہ اعلان کیاگیا تھا کہ وہ سعودی حکام کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے لئے اپنے تیل کی برامد کو بڑھائیں لیکن سعودی حکام سے خلاف توقع جواب سنکر بش بھونچکا رہ گئے ، صدر بش کے سعودی عرب کے دورے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان کا یہ دورہ ریاض اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر انجام پایا ہے ۔دورے کے اگلے مرحلے میں صدر بش شرم الشیخ جائیں گے جہاں ان کی ملاقات مشرق وسطیٰ کے بعض لیڈروں سے متوقع ہے ۔سیاسی مبصرین بش کے دورے کی ناکامی کو سعودی عرب جیسے ملکوں میں امریکہ کے روایتی اثر و نفوذ میں کمزوری کی علامت سمجھتے ہیں ۔البتہ سعودی عرب نے امریکہ سے اپنی دوستی کے اظہار کے طور پر اپنی کل پیداوار میں روزانہ 3 لاکھ بیرل اضافے کا اعلان کیا ہے تا ہم تیل کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقدار میں تیل کی پیداوار میں اضافے کا تیل کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔حکومت امریکہ سعودی عرب جیسے اپنے دوست ملکوں سے اس بات کی توقع رکھتی ہے کہ تیل کی پیداوار میں اضافے کے ذریعے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کریں اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے امریکہ کے اندر سیاسی رنگ اختیار کرلیا ہے اور ڈیموکریٹوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب نے تیل کی پیداوار نہ بڑھائی تو اسلحے کی فراہمی کے لئے واشنگٹن اور ریاض کے سمجھوتے کی توثیق نہیں کریں گے ۔بہرحال اس وقت جو کچھ دکھائی دے رہا ہے کہ اس کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا عمل جاری رہے گا اور تیل پیدا کرنے والی حکومتوں کو امریکہ کی جانب سے دھمکی اور لالچ کی کوئی بھی پالیسی اس سلسلے میں غیر مؤثر واقع ہوگی ۔(17 مئی 2008)
بعض عناصر ایران عراق تعلقات خراب کرناچاہتے ہیں
عراقی صدر جلال طالبانی نےالعربیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوۓ ایران سے عراق میں اسلحے کی اسمگلنگ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوۓ کہا ہے کہ جو لوگ اس قسم کادعوی کررہے ہیں وہ اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کرہے ہیں یہ عراقی حکومت کا موقف نہیں ہے ۔جلال طالبانی نے کہا کہ وہ عراقی صدر کی حیثیت سے ان خیالات کے حامی نہيں ہیں۔ عراقی صدر نے تمام میدانوں میں ایران عراق تعلقات میں استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوۓ کہا کہ عراق کے مسائل کے حل میں ایران کی مددکا مطلب عراق کے داخلی امورمیں مداخلت نہيں ہے اور عراق ایران کی مدد جاری رہنے کا خواہاں ہے ۔عراقی صدر جلال طالبانی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آۓ ہيں کہ گذشتہ ہفتے سیاسی وصحافتی حلقوں نے عراق کے بعض داخلی عناصر اور غاصبوں کے حوالے سے ایک بار پھر عراق میں پیداہونے والی بد امنی کی نسبت ایران کی طرف دینے کی کو شش کی ہے ۔عراق اسی وقت سے تشدد اور دہشت گردانہ حملوں کاشکار ہے جب سے اس ملک پر غاصبوں نے قبضہ کیا ہے اور بارہا دہشت گردوں کی ماہیت اور غاصبوں کے ساتھ ان کے خفیہ روابط آشکار ہوۓ ہيں اس کے باوجود امریکی اور برطانوی حکام بحران عراق کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے اور حقائق کو تحریف کرنے کی کوشش کرتے رہے ہيں ۔اس نفسیاتی جنگ کی تازہ مثال عراق میں موجود بعض امریکی کمانڈروں کا یہ بے بنیاددعوی ہے کہ ایران عراقی باغیوں کیلۓ اسلحے بھیج رہا ہے ۔ اس دعوے کا جھوٹ ثابت ہونے کےبعد ایرانی اسلحوں کی نمائش کا منصوبہ بنانے والے ذرائع ابلاغ نے اپنا پروگرام منسوخ کردیا، کیونکہ واضح ہوگیا کہ عراق میں دہشت گردوں کے زیر استعمال ہتھیار یورپ سےبھیجے گۓ تھے نہ کہ ایران سے ۔ایران تو خود عراق میں بارہا دہشت گردوں کا نشانہ بناہے ،اربیل میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ایران کے قونصل خانے سے پانچ سفارتکاروں کااغوا، عراق میں ایرانی زائرین کو دہشت گردوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا جانا اور ڈرانا دھمکانا اور جمعرات کے دن بغداد میں ایرانی سفارتکاروں پر دہشتگردانہ حملہ جس میں چار سفارتکار زخمی ہوگۓ ، وہ واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کون عراق میں بد امنی پیدا کررہا ہے ۔ تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ عراق میں بدامنی کا نہ صرف یہ کہ ایران کو کوئي فائدہ نہيں ہوگا بلکہ وہ عراق میں امن واستحکام کو اپنی سیکورٹی اوراستحکام سمجھتا ہے ۔اسی بنا پر ایران نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ عراق کی منتخب عوامی حکومت کی مدد کرنے ، قومی اتحاد کو مضبوط بنانے ، اور قومی ونسلی اختلافات کو دور کر نے میں اپنا کردار ادا کرے۔اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے اس عمل میں مدد کرنے کیلۓ عراقی حکام کی درخواست پر امریکہ اور عراق کے نمائندوں کی موجودگی میں سہ فریقی مذاکرت میں شرکت کی ۔ تہران نے عملی طورپر ثابت کردیا ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ عراق کی مدد کیلۓ تیار ہے لیکن درمیان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو غاصبوں کے ساتھ مل کر ایران وعراق کے تعلقات خراب کرنے کی فکر میں ہیں۔
قدس کی غاصب حکومت نے اپنے ناپاک وجود کے ساٹھ سال پورے ہونے پر بڑے پیمانے پر جشن کی تقریبات کے انعقاد کے ساتھ ہی غزہ پر ایک بڑے حملے کا عندیہ دیا ہے ۔
صیہونی حکومت نے فلسطین پر قبضے کے ساٹھ سالہ جشن کا اگر چہ مہینوں پہلے سے پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا تا ہم جشن کی تقریبات میں پھیکا پن یہ ظاہر کررہا ہے کہ جشن کے کامیاب انعقاد کے لئے تل ابیب کی ساری کوششیں دھری کی دھری رہ گئی ہیں اس لئے کہ دنیا غزہ کے حالات سے واقف ہے اور وہاں جو کچھ ہورہا ہے اس پر غمزدہ ہے غزہ میں جاری انسانی المیہ اس قدر ہولناک ہے کہ حتی صیہونی حکومت کے حامی مغربی ذرائع ابلاغ بھی اپنی غیر جانبداری ظاہر کرنے کے لئے اپنی خاموشی توڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔صیہونی حکومت فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام اور انہیں لاکھوں کی تعداد میں بے گھر کرکے وجود میں آئی ہے اور آج بھی اپنی اسی وحشیانہ پالیسی پر گامزن رہتے ہوئے غزہ میں فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے ۔
صیہونی حکومت میں جاری اقتدار کی رسہ کشی ، آبادی کے ڈھانچے میں قومی و نسلی عدم توازن اور امتیازي سلوک ایسی جملہ مشکلات ہیں جن سے صیہونی حکومت دوچار ہے چنانچہ اولمرٹ کی مالی بدعنوانی کے اسکنڈل اور ساٹھ سالہ نام نہاد جشن کے بعد المرٹ کی برطرفی کے امکان پیش نظر غزہ سٹی پر چڑھائی کی باتیں کی جاری ہیں تا ہم غزہ کے شہریوں نے جوعرصہ دو سال سے محاصرے میں ہیں اور بجلی، پانی، ایندھن اور ادویات و اشیاء خوراک میں شدید کمی اور قلت سے دوچار ہیں ۔ایک بار پھر سرزمین فلسطین کی مکمل آزادی تک جنگ اور جہاد جاری رکھنا کا عزم ظاہر کیا ہے ۔( 15 مئی 2008)
لبنان میں امریکہ کی مسلسل مداخلت
لبنان کے وزیر اعظم فواد سنیورہ کی کا بینہ کی جانب سے اپنے حالیہ دو فیصلوں کو کہ جو جن پر لبنان کے عوام نے شدید احتجاج کیا اور اس ملک کے حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے، واپس لینے کا فیصلہ لبنان کی حالیہ اہم ترین تبدیلیوں میں سے ہے۔فواد سنیورہ کی کابینہ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ دونوں فیصلے بغیر سوچے سمجھے کیے گئے اور ان کی منسوخی کے اعلان کے بعد لبنانی عوام نے ان بلوں کو واپس لینے پر فواد سنیورہ حکومت کو مجبور کرنے میں اپنی کامیابی کا جشن منایا۔فواد سنیورہ کی کابینہ نے حزب اللہ لبنان کے مواصلاتی نیٹ ورک کے خلاف اقدامات کرنے اور بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے سکیورٹی کمانڈر کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر لبنان کے عوام نے شدید احتجاج کیا تھا۔ان فیصلوں کے اعلان کے ساتھ حکمراں دھڑے کے حامی لوگ اور مسلح افراد نے بیروت کی سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ اور خوف و دہشت پیدا کر کے لوگوں کو یہ فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جس پر لبنانی گروہوں نے سخت احتجاج کیا اور لبنانی عوام کے اس شدید احتجاج نے لبنان کے حکمراں دھڑے کی اس قوم مخالف سازش کو ناکام بنا دیا۔لبنان میں عوامی احتجاج کی لہر اتنی تیز تھی کہ حکمراں دھڑے سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد چند گھنٹے بھی اس عواقی لہر کے سامنے نہ ٹھہر سکے اور ان میں سے اکثر افراد نے عوام کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دیے اور حکمراں دھڑے کے لیڈر بھی بیروت سے بھاگ گئے۔ان باتوں نے اس بات کو بھی نمایاں کر دیا کہ حکمراں دھڑے کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔لبنان میں جزوی قیام امن،عوامی خواہشات کے مقابل حکمراں دھڑے کی پسپائی ،فواد سنیورہ کی کابینہ کی طرف سے اپنے حالیہ دو فیصلوں کو واپس لینے کے اعلان اور بحران لبنان کو حل کرنے کے لیے داخلی اور علاقائی کوششوں کے بعد امریکی حکام اپنے مداخلت پسندانہ اقدامات میں اضافہ کر کے لبنان میں بدامنی اور جھڑپوں کی نئی لہر پیدا کرنا چاہتے ہیں اور امریکہ نے لبنان کے امور میں مداخلت کو جاری رکھتے ہوئے فواد سنیورہ کی حکومت کو مزید فوجی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ ایسے وقت میں ہے کہ امریکی افسروں کا ایک گروپ بھی لبنان میں موجود ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹام کیسی نے کہ جو عملا امریکہ کے زیر اثر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ترجمان بھی ہیں ،کہا کہ سلامتی کونسل لبنان کی حالیہ تبدیلیوں کے بارے میں اجلاس منعقد کرے گي۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ لبنان کے بحران کو بین الاقوامی رنگ دینا چاہتا ہے اور لبنان میں امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی مداخلت کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش میں ہے اور یہ امر لبنان میں امریکہ کے تخریبی کردار کو مزید نمایاں کرتا ہے۔(15مئی2008)
قدس کی غاصب صیہونی حکومت اور اس کی حامی قوتیں سرزمین فلسطین پر قبضے کے ساٹھ برسوں کا جشن ایک ایسے وقت منارہی ہیں کہ صیہونیوں کی نابودی کے لئے الٹی گنتی کا عمل شروع ہوچکا ہے اور جس نظریئے کو بنیاد بنا کر ساری دنیا کے صیہونیوں کو ایک اسلامی سرزمین پر اکٹھا کیا گیا تھا وہ اب اپنے بانیوں کی طرح منوں مٹی تلے دب چکا ہے ۔ملت فلسطین آج بھی اپنی بقا اور وجود کی جنگ لڑرہی ہے اور ساٹھ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود جوان نسل اسلامی رنگ اختیار کرکے ایک عزم کے ساتھ بر سر پیکار ہے ۔اگرچہ تنظیم آزاد فلسطین جو کسی زمانے میں جہاد کا سمبل تصور کی جاتی تھی صیہونی حکومت کے ساتھ ساز باز کرکے ان کی گود میں جابیٹھی تا ہم جہاد کی اصل روح کو ختم نہ کرسکی اس لئے کہ p.l.o کے ساتھ ساز باز کرنے کا صیہونیوں بنیادی ہدف یہی تھا کہ فلسطینیوں کے جذبہ جہاد کو ختم کردیا جائے ۔
سن اسی کے عشرے میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے فلسطینی کاز میں اسلامی رنگ بھر دیا اور یوں ہاتھوں سے وکٹری کی علامت دکھانے والے اندر سے بات چیت اور ساز باز پر تیار نام نہاد فلسطینی لیڈروں نے تحریک کی لیڈر شپ اپنے ہاتھ جاتے دیکھی تو صیہونیوں کے وحشی پن اور ان کے ظلم و ستم کو یکسر فراموش کربیٹھے اور امریکہ جیسی جابر طاقت کے کہنے میں آکر صیہونیوں سے معاہدہ کرلیا اور پھر ایک بعد دوسرا معاہدہ کرتے رہے اور یوں وہ مراعات اور مفادات جو صیہونی حکومت جنگ کرکے حاصل نہیں کرپائی تھی ان معاہدوں کے ذریعے حاصل کرلیں جبکہ ملت فلسطین آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں آج سے ساٹھ برس پہلے تھی ۔
بہرحال فلسطین کی نوجوان نسل جہاد شہادت سے انس حاصل کرچکی ہے اور صیہونی قبضے کے ساٹھ برس پورے ہونے پر وہ ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کی شکل میں جو لوگ ملت فلسطین کی نمائندگي کررہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو صیہونی حکام اور اس کے سب بڑے پشتپناہ یعنی امریکہ کے آگے دست بدستہ کھڑے نظر آتے ہیں اور مسکراکر تصویریں کچھانے کے علاوہ کوئی اور کام کرنے سے قاصر ہیں چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر تحریک حماس جیسی قوتیں اپنے فلسطینی اور اسلامی تشخص کے ساتھ میدان نہ اترتی تو مسئلہ فلسطین کے نام سے آج کوئی مسئلہ موجود نہ ہو ساری سرزمین فلسطین پرغاصب اسرائیل کا پرچم لہرا رہا ہوتا ۔البتہ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت کو اپنے ناپاک وجود کی ساٹھویں سالگرہ کا جشن منانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ حزب اللہ کے ہاتھوں 33 روزہ جنگ میں ذلت آمیز شکست کے نیچے میں صیہونیوں کو اپنا داخلی رائے عامّہ کی طرف سے انتہائي سخت تنقیدوں کا سامنا ہے ۔لہذا ایک طرف تو وہ رائے عامّہ کی توجہ اپنی ذلت آمیز شکست کے نتائج سے ہٹانا چاہتی اور دوسرے وہ یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ سیاسی اقتصادی اور فوجی لحاظ سے اس کی بنیادیں مستحکم ہیں ۔
حقیقت امر یہ ہے کہ صیہونی حکومت کی تشکیل کا ساٹھواں جشن ان مایوس دلوں میں امید کی کرن پیدا کرنے کےلئے منایا جارہا جو ساری دنیا سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں اور مٹھی بھر صیہونیوں کے اسیر ہوکر رہ گئے ہیں اور دوبارہ اپنے ملکوں کی طرف جانے کا رجحان ان میں پروان چڑھ رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق نقل مکانی کا وہ عمل جو کبھی ساری دنیا سے سرزمین فلسطین کی طرف تھا اب یہی عمل بالکل اس کی مخالف سمت میں شروع ہوچکا ہے اور یہ وہ ہی مسئلہ ہے جس نے صیہونی حکومت اور اس کے نظریہ پردازوں کی نیندوں حرام کررکھی ہیں ۔گزشتہ سال امریکی شہر ایناپولس میں ہونے والی کانفرنس کے موقع صیہونی حکومت کے وزیر جنگ ایہود بارک نے ایک بار نہیں بلکہ دو تین بار یہ اعتراف کیا ہے کہ صیہونی حکومت اور p.l.o کے ساتھ سازباز کا عمل ناکام ہونے کی اسرائیل ختم ہوجائے گا ۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس اور علاقے کی بعض عرب قوتیں پوری کوشش کررہی ہیں کہ سازباز کا یہ عمل جاری رہے ۔در حقیقت عوامی حمایت سے بے بہرہ علاقے کی یہ عرب حکومتیں صیہونی حکومت کی بقا کی ضامن بنی ہوئی ہیں لیکن اگر تھوڑی سی جرات اور حقیقت پسندی سے کام لیں تو صیہونیوں کی بساط قبل از وقت پلٹی جا سکتی ہے اور 33 روز جنگ میں حزب کے مٹھی بھر جوانوں کے ہاتھوں کیل کانٹوں سے لیس دنیا کی ایک طاقتور فوج کی شکست اس کی واضح دلیل ہے ۔( 14 مئی 2008)
صدرمملکت نے علاقے اورعالمی مسائل کے بارے میں تہران کے موقف کی وضاحت کی
صدرمملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے ایک پریس کانفرنس میں اہم علاقائی وعالمی مسائل کے سلسلے میں ایران کے موقف کی وضاحت کی ۔ صدر مملکت نے اس پریس کانفرنس میں گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے ایران کو پیش کۓ جانے والے پیکج اور عالمی مسائل کے حل کیلۓ ایران کے پیکج کے تئيں تہران کے مقاصد کی وضاحت کی اور عراق لبنان اور فلسطین نیزمشرق وسطی کی تازہ ترین صورت حال پر بھی اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ صدر مملکت نے لبنان اور عراق میں ایران کی مداخلت کے بے بنیاد دعؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا کہ دوسروں پرالزام لگانا امریکی حکومت کا طریقہ ہے لیکن سعودی عرب کے وزیرخارجہ سعودالفیصل کی جانب سے ایران پر لبنان میں مداخلت کے الزام پر صدرمملکت نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ سعودی وزیرخارجہ کے بیانات کی وجہ ان کا غصہ ہے ۔ صدرمملکت نے تاکید کی کہ تہران بیچینی ختم ہونے تک صبر کرےگااور اس وقت تک شاہ عبداللہ کے احترام میں کوئی جواب نہیں دےگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے عراق اور لبنان کے مسائل کے بارےمیں اس حقیقت کو ایک بارپھر واضح کیاکہ بحران لبنان اور عراق کی جڑیں ان سازشوں میں پیوست ہیں جو امریکی حکام کے مداخلت پسندانہ بیان اور موقف سے پوری طرح واضح ہیں ۔امریکی سفیر کالبنانی وزیراعظم سنیورہ کو غیرقانونی اقدامات کیلۓ تیار کرنا اور ان کے اشتعال انگیزاقدامات کی حمایت کرنا اور عراق ميں ایرانی ساخت کے اسلحے ملنے کا بے بنیاد دعوی اور پھر امریکیوں ہی کی طرف سے اس کی تریدید کردینا وہ مسائل ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایران اور علاقے کے بعض ملکوں کے خلاف منصوبہ بند نفسیاتی جنگ کی سازش ہورہی ہے جس کا مقصد علاقے میں بحران اور تفرقہ پیدا کرنا ہے ۔ماہرین کاخیال ہے کہ جو لوگ لبنان کی قومی سالمیت اورحزب اللہ کی استقامت کو نشانہ بناۓ ہوۓ ہیں وہ ایران اورعرب ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کررہےہیں اور اس مقصد کے حصول کیلۓ وہ علاقے کے بعض عرب ممالک کے حکام کے بلا سوچے سمجھے بیانات کو اپنی تفرقہ انگيز پالیسیوں کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بناۓ ہوۓ ہیں ۔ یہ وہ خطرناک سازش ہے جس کے بارے میں قائدانقلاب اسلامی نے صوبہ فارس کے دورے کے دوران اپنے بیانات میں خبرداد کیاہے اور علاقے کے ملکوں کے رہنماؤں اور حکومتوں کوان فتنوں کا مقابلہ کرنے کے تئیں ہوشیار رہنے کی دعوت دی ہے ۔(13 مئی 2008)
برطانوی سفیر کی وزارت خارجہ میں طلبی
تہران میں متعین برطانیہ کےسفیر جیفری آدمز کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے انہیں معروف دہشت گرد گروہ MKO کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالے جانے کے لندن کے اقدام پر تہران کے سخت اعتراض سے آگاہ کیا گیا ۔وزارت خارجہ میں یورپی امور کے دائریکٹر مہدی صفری نے برطانوی عدالت کے حالیہ فیصلے کو غیر قابل قبول قرار دیتے ہوئے حکومت برطانیہ کو متنبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کے دونوں ملکوں کے تعلقات پر انتہائي اثرات مرتب ہوسکتے ہیں لہذا حکومت برطانیہ کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی روک تھام کرنی چاہئے ۔اسلامی جمہوریۂ ایران کی وزارت خارجہ نے برطانوی عدالت کے اس فیصلے کو دہشت گردی سے نمٹنے میں اس کے دوغلے پن کی واضح علامت قرار دیا ہے ۔
دریں اثنا تہران میں متعین برطانوی سفیر جیفری آدمزنے اس عدالتی فیصلے پر برطانوی وزير خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے حکومت برطانیہ کے نظر میں MKO کی دہشت گردانہ سرگرمیاں شرمناک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت برطانیہ جو اس گروہ کی سرگرمیوں سے مکمل طور سے واقف ہے بدستور MKO کو ایک دہشت گرد گروپ سمجھتی ہے اور اس کے سلسلے میں لندن کی پالیسی اور رویئے میں تبدیلی نہیں لائے جائے گی ۔برطانوی حکام کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ کے عدالتی حکام نے کہا ہے کہ برطانوی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں واضح اور ٹھوس دلائل پیش نہیں کئے ہیں ۔اسلامی انقلاب کے مخالف معروف دہشت گرد گروہ MKO جسے ایران میں منافقین کے گروہ سے جانا جاتا ہے، دہشت گردی کی سینکڑوں وارداتوں میں ملوث ہے جن میں حزب جمہوری اسلامی کے مرکزی دفتر اور وزارت عظمیٰ عمارت میں ہولناک بم دھماکے ایسے تھے کہ جس پر ساری دنیا بل کر رہ گئی تھی ان ہولناک بم دھماکوں میں ایران کے صدر وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کے درجنوں افراد خصوصا" آیت اللہ شہید محمد حسین جس عظیم شخصیت شہید ہوگئی تھی ۔
علاوہ ازیں اس گروہ کے دہشت گردوں نے ایران کے مختلف شہروں اور خصوصا" دارالحکومت تہران میں عوامی مراکز اور عام شہریوں کو بھی اپنے بغض و کینے کا نشانہ بنایا چنانچہ سن 80 کے عشرے کے ابتدائی چند سال کی خبروں اور اخبارات کا جائزہ لیا جائے تو اس گروپ کا حقیقی چہرہ عیاں ہوجائے گا کہ جس سے برطانیہ والے اچھی طرح واقف ہیں ۔ علاوہ ازیں سن 90 کے عشرے میں جب عراق کے عوام نے صدام کی آمریت کے خلاف تحریک چلائی تھی تو یہی وہ گروپ تھا جس نے عراقی عوام کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا اور یوں ایک بار پھر اپنی دہشت گردانہ ماہیت اور خصلت کو دنیا والوں پر آشکارا کردیا ۔
بہرحال ایک ایسے گروہ کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کا برطانوی عدالت کا فیصلہ اگرچہ غیر متوقع نہیں ہے تا ہم جو بات مسلمہ ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے مقابلے میں مغرب کے دوہرے معیارات اور دوغلے پن کی وجہ سے خود یورپی رائے عامّہ حیرت میں پڑ گئی ہے ۔(13 مئی 2008)
غزہ کے شہریوں کے محاصرے کو ختم کرانے کے لئے عالمی عزم کی ضرورت
مصر کے خفیہ محکمے کے سربراہ عمر سلیمان غزہ شہر میں جنگ بندی کے لئے بات چیت کی غرض سے تل ابیب کے دورے پر ہیں ۔ان کا دورۂ تل ابیب ایک ایسے موقع پر انجام پارہا ہے کہ غزہ شہر مکمل طور سے صیہونی حکومت کے محاصرے میں ہے اور ایندھن کے فقدان کی وجہ سے فلسطینیوں کو اس وقت جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ ناقابل بیان ہے ۔
ایندھن کے فقدان کے سبب بجلی گھر بند ہوگئے ہیں اور غزہ کا ایک بڑا علاقہ اس وقت تاریکی میں ڈویا ہوا ہے اوپر سے المیہ یہ ہے کہ صیہونی حکومت نے محاصرے کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
ادھر صیہونی حکومت کے وزیر جنگ ایہود بارک نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ جنگ بندی کی ہر پیشکش کو ٹھکرادیا ہے چنانچہ ان حالات مصر کے خفیہ محکمے کے سربراہ عمر سلیمان کا تل ابیب کا دورہ لاحاصل دکھائی دے رہا ہے ۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ غزہ کی ابتر صورتحال کے پیش نظر عمر سلمان کا دورہ کسی حد تک ان کی خوش فہمی کو نمایاں کرتا ہے اس لئے کہ صیہونی حکومت مذاکرات اور بات چیت کے کسی عمل پر یقین نہیں رکھتی اور اس نے اس عمل کو محض وقت کشی کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔
بہرحال غزہ کے شہریوں کو صیہونی حکومت کے محاصرے سے نکالنے کے لئے ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ عالمی برادری اپنی خاموشی کو توڑدے اور اس توازن کو درہم برہم کردے جو امریکہ نے قدس کی غاصب صیہونی حکومت کی حمایت کی شکل میں قائم کررکھا ہے ۔(12 مئی 2008)
حکومت اورصدردھڑے کے درمیان معاہدہ
عراق میں حکومت اورصدردھڑے نے فائربندی پراتفاق کرلیا ہے مقتدی صدرکے ترجمان نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھوتہ دس محورپراستوارہے جس کا سب سے اہم ترین نکتہ صدرسٹی میں فائربندی کی برقراری ہے اوراس کے علاوہ کھلے عام اسلحوں کی نمائش پر پابندی کی بات بھی اس سمجھوتے میں شامل ہے اوراس سمجھوتے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدرسٹی کوجانے والے تمام راستوں کوکھول دیا جائے گا ۔اس سمجھوتے میں جیش المہدی کوختم کردینے کی کوئی بات نہيں کی گئی ہے اورنہ یہ کہا گیا ہے جیش المہدی اپنے ہتھیا رحکومت کے سپرد کردے گا ۔
عراق میں حکومت اورصدردھڑے کے درمیان سمجھوتہ گذشتہ ڈیڑھ مہینوں سے جاری کشیدگی کوختم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس درمیان امریکی فوج نے صدرسٹی پرمسلسل حملے اوراسی طرح اس علاقے کا محاصرہ کرکے صدرسٹی کے باشندوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال رکھا تھا اوریہاں ایک انسانی المیہ رونماہورہاتھا ۔ اس سمجھوتے کے مطابق صدرسٹی کے تمام راستوں کوکھول دیا جائے گا اورصدرگروہ بھی عراقی فوج کی صدرسٹی ميں نگرانی اورکنٹرول کے عمل میں اس کی مدد کرے گا ۔صدرگروہ عراق کے بااثر شیعہ گروہوں میں سے ایک ہے جس کی پارلمینٹ میں تیس نششتیں ہيں یہ گروہ عراق میں امریکہ کی موجودگی کا سخت مخالف ہے اوراس گروہ کےوزراء نے گذشتہ برس عراق میں امریکی فوج کی موجودگی برقراررہنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفاء دیدیاتھا اگرچـہ صدرگروہ کے وزراء دوبارہ کابینہ میں واپس نہیں گئے لیکن صدرگروہ کے رہنماؤں نے عراق کے سیاسی عمل کوسبوتاژہونے سے روکنے کے لئے حکومت کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھا اوراس نے جیش المہدی کی سرگرمیاں بھی چھ مہینوں کے لئے روک دیں ۔لیکن امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیاں اس بات کا سبب بنيں کہ صدرگروہ اورعراقی حکومت کے درمیان ہونے والا معاہد ٹوٹ جائے اورپھر اس کے بعد امریکی فوج نے صدرگروہ کے خلاف کاروائی کرنے کے لئۓ عراقی حکومت پر دباؤ ڈالا ۔اس درمیان جو تازہ ترین اطلاعات سامنے آئی ہيں ان سے پتہ چلاہے کہ امریکہ نے عراقی حکومت اورصدرگروہ کےدرمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لئے جھوٹی اطلاعات حکومت کوفراہم کی تھیں۔ بہرحال مختلف سیاسی دھڑوں کی وساطت سے حکومت اورصدردھڑے کےدرمیان ایک بارپھر مفاہمت ہوگئی ہے تاکہ یہ دھڑا یہ ثابت کرسکے کہ وہ قومی سطح پر امن برقرارکرنے کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیارہے ۔
عراق میں ایران کی مداخلت کے بارے میں امریکہ کا جھوٹ آشکار
عراق کے بدامنی کے واقعات میں ایران کے ملوث ہونے پر مبنی امریکی الزامات کے باوجود امریکہ کے فوجی حکام نے حال ہی میں غیرمتوقع طور پر اعتراف کیا ہے کہ عراق میں حال ہی میں ملنے والے ہتھیار ایرانی نہیں ہیں۔امریکیوں نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کی طرف سے عراق بھیجے گئے ہتھیار اور دھماکہ خیز مادے عراق کے بدامنی کے واقعات میں ایران کی مداخلت کے ثبوت کے طور پر نامہ نگاروں کے سامنے پیش کریں گے لیکن جب وہ اس بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ یہ ہتھیار ایرانی نہیں ہیں تو انہوں نے نامہ نگاروں کے ساتھ اپنی یہ ملاقات منسوخ کر دی۔امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق امریکی فوج کے ایک ترجمان کوئین برگنر نے مذکورہ ہتھیاروں کو ایرانی قرار دینے کو غلط فہمی قرار دیا اور کہا کہ کربلا میں ایک عراقی جنرل نے غلط رپورٹ دی تھی۔جب کہ امریکی حکام نے اس سے قبل دعوی کیا تھا کہ بصرہ میں ملنے والے ہتھیار ایرانی ساخت کے تھے۔امریکی حکام نے دعوی کیا تھا کہ بغداد کے گرین زون سمیت امریکی اڈوں پر فائر کیے جانے والے اکثر راکٹ ایرانی ساختہ تھے اور ان کو فائر کرنے والے جنگجوؤں نے ایران میں تربیت حاصل کی ہے۔لاس اینجلس ٹائمز کی اس رپورٹ کے ساتھ ہی ہفت روزہ جریدے ٹائمز نے بھی لکھا ہے کہ امریکیوں نے برسوں تک ایران پر الزامات لگائے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ تہران ہتھیار اور رقم فراہم کر کے عراق میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے لیکن اس بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔عراقی حکام نے بھی اب تک کئی بار عراق میں تشدد کے واقعات میں ایران کی مداخلت کے بارے میں امریکی دعوے کی تردید کی ہے۔جیسا کہ امریکی جریدے نیوز ڈے نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ باتیں اور تشہیراتی شوروغل کرنا آسان کام ہے جس پر کچھ خرچ نہیں ہوتا لیکن ٹھوس اور مستند بات کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔وائٹ ہاؤس کے حکام اب تک ایک بار بھی ایران کے خلاف اپنے دعووں کو ثابت نہیں کر پائے ہیں اور نہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی ثبوت پیش کیا ہے۔امریکہ کی پالیسی دشمن تراشنا اور جھوٹ بولنا ہے۔امریکی حکمرانوں نے عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بہانے اس ملک پر حملہ اور قبضہ کیا لیکن عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہ ملے اور اب وہ ایران پر عراق میں مداخلت کرنے کا الزام لگا رہا ہے جس کے کئی مقاصد ہیں۔ان میں سے ایک مقصد یہ ہے کہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ایران کے تعلقات خراب کیے جائیں۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ عراق میں اپنی ناکامی پر پردہ ڈالا جائے اور عراق میں بدامنی کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا جائے۔واشنگٹن کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ علاقے کے ملکوں پر یہ ظاہر کیا جائے کہ عراق سے امریکی انخلا کی صورت میں ایران علاقے کی ایک اہم قوت بن جائے گا۔لیکن امریکہ کے سابق سرکاری عہدیدار اور مشہور مصنف گیری سیک کا خیال ہے کہ ایران کو خطرہ ظاہر کرنے کی امریکی پالیسی غلط ہے اور ایران اپنے ہمسایوں کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے ۔(12مئی2008)
صیہونی حکومت کی جانب سے ایران پر بے الزام
قدس کی غاصب صیہونی حکومت کے پاس چارسو سے زائد ایٹمی وار ہیڈ موجود ہیں اور اسی بنا پر مشرق وسطیٰ کا پورا خطہ سلامتی کے لحاظ سے انتہائی خطرے میں ہے اور علاقے کے سبھی ممالک نے اس پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔جبکہ دنیا کے بہت سے دیگر ملکوں اور عالمی اداروں نے بھی تشویش کے ضمن میں مشرق وسطیٰ کے پورے خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔قدس کی غاصب صیہونی حکومت عملی طور پر مشرق وسطیٰ میں ایک سرطانی غدہ بن چکی ہے اور کسی بھی قسم کے عالمی قانون اور پروٹوکول کو خاطر میں نہیں لاتی چنانچہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ انتہائي وحشیانہ طریقے سے فلسطینی عوام کو کچل رہی ہے ۔
اتنی ظالم حکومت کے جلاد صفت حکمران یہ تصور کررہے ہیں ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا الزام لگاکر وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں پر سے عالمی رائے عامّہ کی توجہ ہٹالیں گے ۔صیہونی حکومت کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں آئی اے ای اے کی رپورٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا فوجی ایٹمی پروگرام جاری ہے ۔
المرٹ کی جانب سے یہ دعوی ایک ایسے وقت کیا جارہا ہے کہ صیہونی حکومت کی نام نہاد وزارت انصاف نے ایہود اولمرٹ پر مالی بد عنوانی کے الزام کی تائید کردی ہے اور صیہونی حلقوں کی جانب سے اقتدار سے علیحدگي اختیار کرنے کے لئے ان پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے ۔ادھر صیہونی حکومت پر این پی ٹی کے عالمی معاہدے پر دستخط کرنے اور اپنے غیر قانونی ایٹمی مراکز کے دروازے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے لئے کھولنے کی خاطر دباؤ ڈالا جارہا ہے تا ہم امریکی حمایت کے بل بوتے پر صیہونی حکومت اس طرح کے ہر مطالبے کو نظر انداز کررہی ہے اور اس سلسلے میں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے دیگر مغربی ملکوں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔یہ وہی مغربی ممالک میں جو ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام پر جو مکمل طور سے آئی اے ای اے کی نگرانی کام کررہا ہے ہنگامہ کئے کھڑے رہتے ہیں جس سے یہ سمجھنا زیادہ دشوار نہیں ہے کہ یہ ممالک محض اپنی سیاسی وابستگیوں اور ذاتی مفاد کی خاطر دوہرے معیار کی پالیسیاں اختیار کئے ہوئے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی پر ایران جیسا کوئی ملک دسترسی پالے البتہ ایرانی حکام اپنے ایٹمی پروگرام کے شفاف ہونے تاکید کے ضمن میں یہ واضح کرچکے ہیں ایٹمی ٹیکنالوجی ملت ایران کا حق ہے اور ایران اپنے اس حق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا ۔( 11 مئی 2008)
افغان وزیرخارجہ کا دورہ امریکہ
افغانستان کے وزیرخارجہ رنگین دادفرسپنتا جوامریکی وزیرخارجہ کی دعوت پر واشنگٹن گئےہوئے ہیں وہ امریکی حکام سے مختلف مسائل منجملہ افغانستان اورامریکہ کے درمیان دوسرے اسٹرٹیجک معاہدے کے بارے میں بات چیت کریں گے ۔افغانستان کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ سمجھوتہ کابل اورواشنگٹن کے در میان سیاسی اورحکومت داری کے اصول کے شعبوں میں تعاون پر محیط ہوگا ۔ امریکہ اورافغانستان کے درمیان پہلا اسٹریٹیجک معاہدہ مئی دوہزارپانچ میں ہواتھا ۔امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک سمجھوتہ کرکے افغانستان میں اپنی موجودگی کا جوازفراہم کرے یہ ایسی حالت میں ہے کہ افغانستان کی پارلیمنٹ اس طرح کے کسی بھی سمجھوتے کی مخالف ہے اوروہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی کواپنے ملک کی ارضی سالمیت اوراقتداراعلی کے منافی سمجھتی ہے ۔ امریکہ کے ساتھ افغانستان کے سمجھوتے کی افغان پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہے مگرافغانستان کی حکومت نے ابھی تک اس طرح کے سمجھوتے کوپارلیمان میں پیش نہیں کیا اورایسالگتا ہے کہ افغان حکومت کسی مناسب موقع کی تلاش میں ہے ۔دوسری طرف وہائٹ ہاؤس میں ریپبلیکنز کوافغانستان میں اپنے سات سالہ قبضے توجیہ کے لئے امریکی اورعالمی رائے عامہ کے سامنے سخت مشکلات کا سامنا ہے اسی لئے وہ آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل افغانستان میں امریکہ اورنیٹو کی فوج کی شکست سے رائے عامہ کے ذہنوں کوموڑنے کی کوشش کررہے ہيں اوران کی خواہش ہے کہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ اس طرح کا اسٹرٹیجک سمجھوتہ کرکے افغانستان میں اپنی کامیابی ظاہرکرنے کے لئے کوئی بہانہ تلاش کرلیں جبکہ افغانستان میں رائے عامہ پورے طورپر اپنے ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی مخالف ہے اوربامیان وننگرہار میں ہونے والے حالیہ امریکہ مخالف مظاہرےاس کی واضح دلیل ہيں ۔ایسالگتا ہے امریکہ نے افغانستان پر روس کی سرخ فوج کے قبضے کے تلخ تجربہ کودھیان میں نہيں رکھا ہے کیونکہ افغانستان کے عوام کا اپنے ملک پر اغیار کے قبضے کے خلاف احتجاج امریکہ کوبھی جلد یابدیر افغانستان سے نکلنے پر مجبورکردے گا ۔( 11 مئی 2008)
صیہونی حکومت اپنے ناجائز وجود کی آخری سانسیں لے رہی ہے
صیہونی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوۓ عالمی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ احتجاج میں یورپی ممالک کےعوام بھی شامل ہوگۓ ہیں ۔اس سلسلےمیں اٹلی میں بھی ہزاروں افراد نے فلسطینی عوام کے حق میں اور صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف شہر ٹورینو میں مارچ کیااور صیہونی حکومت کے تشکیل کے ساٹھ سال پورے ہونے پر افسوس کا اظہارکیا۔ شہر لندن میں بھی مختلف ملکوں کے عوام نے فلسطینی عوام کے حق اور صیہونی حکومت کے مظالم کے خلاف مظاہرے کۓ ۔ ایسے موقع پر جب صیہونی حکومت اپنی جعلی تشکیل کے ساٹھ سال پورے ہونے کا جشن منارہی ہے یورپ کے مختلف ملکوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے پتہ چلتا ہے کہ اس غاصب حکومت کیلۓیورپ کی راۓ عامہ کے درمیان بھی کوئی جگہ نہيں ہے جن کی حکومتیں غاصب صیہونی حکومت کی حامی ہیں ۔ یورپ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سب سے غورطلب نکتہ یہ نظر آیا کہ ان مظاہروں میں فعال یہودیوں اور یہودی مذہبی رہنماؤں نے بھی حصہ لیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی صیہونی حکومت سے متنفر ہیں۔ صیہونی حکومت کے خلاف راۓ عامہ کا ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطین کے سلسلے میں عالمی راۓ عامہ نہایت حساس ہے اور وہ اس غاصب حکومت سے سختی سے نمٹنے پر تاکید کرتی ہے ۔ صیہونی حکومت کے جرائم کے خلاف دنیا میں بڑھتی ہوئي بے چینی اور احتجاج صیہونی حکومت کے تئيں عالمی اداروں کے نرم روۓ پر احتجاج ہے ۔ عالمی برادری کی کمزور دفاعی پوزيشن کے سبب ہی ساٹھ برسوں سے صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے اور جرائم کا سلسلہ جاری ہے یورپی عوام کی جانب سے صیہونی حکومت کے خلاف مظاہرہ درحقیقت اپنی حکومتوں کے اقدامات پر تنقید ہے جنھوں نے انسانیت دشمن اس حکومت کی تشکیل اور اس کے جرائم جاری رکھنے میں بنیادی کردارادا کیا ہے ۔ صیہونی حکومت کے ناجائز وجود کو ساٹھ سال گذرجانے کے بعد بھی فلسطین اور دنیاکے مختلف ملکوں کےعوام کا احتجاج کا سلسلہ جاری رہنا جنوبی افریقہ پر اپرتھائيڈ نظام کی حکمرانی کے آخر ی دور میں بڑ ے پیمانے پرہونےوالے عالمی احتجاج کی یاد دلاتا ہے ۔ جنوبی افریقہ کے عوام کی جدو جہد اور عوامی مظاہروں کے نتیجے میں ہی آخر کار غیر انسانی نظام کا خاتمہ ہوگيا تھا مختلف شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت بھی اپنی ذلت آمیز زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہے اور وہ اپنے ناجائز وجود کا جشن منا نے جیسے ناکام اقدامات کے باوجود بھی اپنا شیرازہ جلد ہی بکھرجانے کی علامتوں کونہیں چھپا سکتی۔ ( 11 مئی 2008)
میانمار ۔ ریفرنڈم ، جمہوریت کی جانب ایک قدم
میانمار یا سابق برما میں طوفان کی تباہ کاریوں کے باوجود آج ابتدائی گھڑیوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے پولنگ اسٹشنوں پر پہنچی ۔میانمار کی آبادی پانچ کروڑ ستر لاکھ ہے اور آج آئین پر ہونے والے ریفرنڈم میں دو کروڑ ستر لاکھ افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔
اگر نئے آئین کے مسودے کے حق میں 50 فیصد سے حتی ایک ووٹ بھی زیادہ پڑتا ہے تو نیا آئین تسلیم کرلیا جائے گا ۔نئے آئین پر ہونے والا ریفرنڈم اس روڈ میپ کا حصہ ہے جسے میانمار کی فوجی حکومت نے ملک میں جمہوریت کے قیام کے لئے تدوین کیا ہے ۔اس روڈ میپ کے تحت جمہوریت کے قیام کے لئے سات مرحلے ترتیب دیئے گئے ہیں چنانچہ اگر آئین پر ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کی مثبت رائے سامنے آتی ہے تو پھر ملک میں عام انتخابات راہ ہموار ہوجائے گی ۔میانمار کے جنرلوں نے سن 2010 میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے جس میں ملک کے سبھی سیاسی ، مذہبی اور قومی گروہوں اور پارٹیوں کو آزادانہ شرکت کی اجازت ہوگی ۔
میانمار یا سابق برما کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سن 1962 سے فوجی حکومت برسر اقتدار ہے اور یہ دوسری بار ہے کہ یہ ملک جمہوریت کی جانب قدم بڑھاتا نظر آرہا ہے ۔میانمار میں سن 1990 میں عام انتخابات ہوئے تھے تا ہم فوجی حکمرانوں نے ان انتخابات میں جتنے والی محترمہ سان سوکی کی قومی اتحاد پارٹی کو اقتدار سونپنے سے انکار کردیا تھا ۔محترمہ سان سوکی نے جن کو میانمار کی فوجی حکومت مغرب نواز قرار دیتی ہے بعض مغربی ملکوں کے ذریعے دباؤ ڈلواکر فوجی حکومت کو نئے آئین پر ہونے والے ریفرنڈم کو حالیہ طوفان کے پیش نظر التوا میں ڈالنے کافی کوشش کی تا ہم فوجی حکمرانوں نے ریفرنڈم کو التوا میں ڈالنے سے صاف انکار کردیا۔
امریکہ سمیت بہت سے مغربی ملکوں نے یہ استدلال پیش کیا تھا کہ طوفان کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور ہزاروں افراد کی ہلاکت کے پیش نظر ریفرنڈم کے لئے حالات سازگار نہیں ہیں تا ہم فوجی حکمرانوں نے ان علاقوں میں جہاں طوفان سے زیادہ نقصان ہوا ہے دو ہفتے بعد ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے ۔بہرحال ریفرنڈم کے نتائج سے قطع نظر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طوفان کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی ذمہ داری اگرچہ فوجی حکومت پر عائد ہوتی ہے تا ہم امریکہ کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی پابندیاں اور مغرب کی جانب سے ڈالا جانے والا دباؤ میانمار کے لئے زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے ۔
( 10 مئی 2008)
ماسکو اور واشنگٹن ، سرد جنگ کے آثار
ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے نئے مرحلے میں روس نے امریکہ کے دو فوجی اتاشیوں کو ماسکو سے نکال دیا ہے ۔واشنگٹن نے روس کے اس اقدام کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے اسے ان دو روسی سفارتکاروں کے مسئلے سے جوڑنے کی کوشش کی ہے جنہیں چند ماہ قبل جاسوسی کے الزام میں امریکہ سے نکال دیا گيا تھا ۔البتہ سیاسی مبصرین امریکی فوجی اتاشیوں کے روس سے نکالے جانے کو واشنگٹن کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں سے مقابلہ قرار دے رہے کہ جس کا ایک مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ کرملین ،اقتدار کی منتقلی کے باوجود ، امریکہ کی مداخلت کے خلاف ماضی کی پالیسی پر کاربند رہے گا ۔ماسکو سے ان دو امریکی فوجی اتاشیوں کے نکالے جانے کے تعلق سے ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے ان دو امریکی اہلکاروں کا اخراج عین اس وقت عمل میں آیا ہے جب ماسکو کے ریڈاسکوائر پر سابق سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے برسوں بعد پہلی مرتبہ فوجی پریڈ منعقد ہوئی سیاسی مبصرین روس کی جانب سے اسے طاقت کا مظاہرہ قرار دے رہے ہیں کہ جس کا واحد مقصد روسی سرحدوں پر امریکہ کے فوجی اقدامات کی بابت مغرب کو وارننگ دینا ہے ۔بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ واشنگٹن نے روس کے پیغام کو سمجھ لیا ہے چنانچہ امریکی وزير جنگ رابرٹ گیٹس نے ریڈاسکوائر میں روسی فوج کے مظاہرے کو سرد جنگ کے زمانے سے تعبیر کیا ہے ۔روس کے صدر دیمتری مدودوف نے فوجی پریڈ کے موقع پر اپنے خطاب میں دیگر ملکوں کے امور میں مداخلت کرنے والوں پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ان ملکوں کے خلاف ڈٹ جانا چاہئے جو دوسرے ملکوں پر جارحیت کرتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں اگر چہ روسی صدر نے کسی ملک کا نام نہیں لیا تا ہم ان کا اشارہ واضح طور پر امریکہ کی طرف تھا کہ جس نے اپنی یک طرفہ پالیسیوں اور مداخلت پسندانہ اقدامات کے ذریعے ساری دنیا کے امن و امان کو تہہ بالا کرکے رکھ دیا ہے ۔
سیاسی مبصرین سابق سویت یونین کی قلمرو میں امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے پیش نظر خیال ظاہر کررہے ہیں کہ نئے صدر مسٹر دیمتری مدودوف کے دور اقتدار میں ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات میں کچھاؤ اور کشیدگي کا عمل بدستور جاری رہے گا ۔( 10 مئی 2008)
دہشت گردی اور حکومت برطانیہ کا دوغلاپن
عالمی سطح پر پیش آنے والے مختلف واقعات سے متعلق مغربی ممالک کے جانبدارانہ رویے کی وجہ سے عالمی برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔مغربی ممالک کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف دوہری پالیسیوں اور جانبدارانہ رویے نے عالمی سطح پر دہشت گردی کو کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کردیا ہے اور اس سے عالمی برادری کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے ۔
کتنی عجیب بات ہے کہ مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے دنیا کے معروف دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں سے استفادہ کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔چنانچہ ایک عدالتی حکم کے تحت ایران میں دہشت گردی کرنے والے ایک منظم گروہ M.K.O کو برطانیہ میں دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی ہے ۔برطانوی عوام ، ادارے اور دانشور طبقہ تو M.K.O جیسے دہشت گرد گروہوں کےمخالف ہیں لیکن برطانوی حکومت گزشتہ ایک سال سے یہ کوشش کررہی تھی کہ اس گروہ کو دہشت گردوں کے فہرست سے نکال دے تا کہ ان کے وجود سے فائدہ اٹھایا جا سکے ۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید محمد علی حسینی نے برطانوی عدالت کے اس اقدام کو سیاسی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ جہاں قانونی حوالے سے کمزور ہے وہاں دہشت گردی کے خلاف برطانوی جنگ کی دوہری پالیسیوں کا بھی منہ بولنا ثبوت ہے ۔بہرحال ایران کے اسلامی انقلاب اور ایرانی عوام کے خلاف دہشت گرد گروہ ایم کے او کی سرگرمیاں سب پر عیاں ہیں اور مغربی ممالک کی اکثریت بھی اس کو دہشت گردی سمجھتی ہے لہذا اس کو دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کرنے سے نہ صرف یہ کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کو فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ برطانوی عدلیہ کو عالمی برادری کے سوالات کا جواب دینے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔اس لئے کہ اس کے اس غلط فیصلے سے عالمی سطح پر اور بالخصوص علاقائی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ ( 8 مئی 2008)
سرکاری بدعنوانی پر قابو پانے کے لئے افغانستان میں نئے محکمہ کے کے قیام کا اعلان
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے دفتری بدعنوانیوں پر قابو پانے کے لئے جو ایک نیا محکمہ قائم کرنے کا حکم دیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں اب تک کے سارے اقدامات ناکافی تھے ۔حامد کرزئی کی جانب سے اس محکمے کی تشکیل کے لئے جاری کردہ حکم کے مطابق یہ ادارہ خود ان کی نگرانی میں کام کرے گا ۔اس امر کے پیش نظر کہ افغانستان ایک طویل جنگ کے بعد امن و استحکام کی جانب قدم بڑھا رہا ہے دفتری امور کو مناسب طریقے سے چلانے کے لئے اس طرح کے محکموں کا قیام ضروری نظر آتا ہے ، مغربی ممالک نے جنہوں نے امریکہ کی سرکردگي میں افغانستان پر گزشتہ سات سالوں سے قبضہ جما رکھا ہے افغان عوام کے لئے امن و استحکام کے قیام اقتصادی اور معاشی بد حالی کو دور کرنے اور افغانستان کی تعمیر نو سمیت تابحال اپنے کسی بھی وعدے پر عمل نہیں کیا ہے اور اپنی اسی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے وہ سارا نزلہ افغانستان کے سرکاری اداروں پر ڈال دیتے ہیں البتہ افغان حکومت نے ہمیشہ مغربی ملکوں کے الزامات کےمقابلے میں حکومتی مشنری کا دفاع کیا ہے تا ہم اب ایسا لگتا ہے کہ حامد کرزئی اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں ۔سرکاری اداروں پر گہری نظر رکھیں تا کہ رائے عامّہ کا اعتماد بحال ہوسکے اور اس کے ساتھ ساتھ افغان عوام کی مشکلات کو حل کرکے اپنی حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں ۔( 8 مئی 2008)
قائدانقلاب اسلامی کی سائنسدانوں سے ملاقات
قائدانقلاب اسلامی آیت اللہ العظی سید علی خامنہ ای نے صوبہ فارس کے دانشور طبقے سے ملاقات میں تحقیق اور خلاقیت کی ضرورت پر تاکید فرمائی قائدانقلاب اسلامی نےکہا کہ خلاقیت کامطلب توانائیوں اور صلاحیتوں کےابھر کر سامنے آنے کی زمین ہموار کرنا اور تیزی سے ترقی کرنے اور روشن مستقبل کی بنیاد ڈالنے کیلۓماضی کے تجربے سے استفادہ کرنا ہے۔
قائدانقلاب اسلامی مختلف ملاقاتوں اور موقعوں پر ایران میں سائنسی پسماندگی کی تلافی کرنے پر تاکید کرتے رہتے ہیں آپ نوجوانوں اور سائنسدانوں کو یہ نصیحت کرتے رہتے ہيں کہ وہ عزم محکم اوراچھے مستقبل کی امید کے ساتھ اپنی جدو جہد جاری رکھیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسے ملت ایران کی ایک بڑی ذمہ داری سے تعبیرکیا ہے ۔ملت ایران نے گذشہ تین عشروں میں دشمنوں کی جانب سے عائد پابندیوں کے باوجودپیشرفت وترقی کی جانب اہم قدم اٹھاۓ ہیں اور اس سلسلے میں بڑی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں یہاں تک کہ دوعشرے قبل تک جس کا سوچنا بھی ناممکن نظر آتا تھا ، ملت ایران نے مضبوط عزم وارادے سے بڑی بڑی سائنسی کامیابیاں حاصل کی ہیں اس وقت ایران کا شمار ایٹمی ایندھن تیارکرنے کی پیچیدہ ٹیکنالوجی اور جنین کے سیلز نیز کلوننگ کی ٹیکنالوجی سمیت ایٹمی ٹیکنالوجی میں دنیا کےمعدودے چندملکوں میں ہوتا ہے ۔ایران اپنے سائنسدانوں کے ہاتھوں تیارشدہ جدید ترین ٹیکنالوجی دنیاء علم ودانش کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔اس سلسلے میں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ایران کی سائنسی ترقی کی رفتارگذشتہ چند برسوں میں تیز ہوئی ہے۔یعنی اس دور میں جب امریکہ نے ایران کی پیشرفت روکنے کیلۓ اپنی پوری طاقت صرف کردی ہے ۔قائد انقلاب اسلامی کے بقول ملت ایران سے امریکا کی دشمنی کی وجہ ایران اسلامی کی پیشرفت وترقی اور اس کا مثالی حیثیت کاحامل ہوجانا ہے ۔بہرحال جیساکہ قائدانقلاب اسلامی نے بارہا تاکید کی ہے ایران میں پیشرفت و ترقی کا عمل رکنے والا نہیں ہے کیونکہ ملت ایران عزم محکم کۓ ہوۓ ہے کہ اپنی ذات پر اعتماد اور مسلسل جدوجہد سے بیس سالہ ترقیاتی منصوبے کو پايہ تکمیل تک پہنچاۓ گی اور علاقہ و دنیا میں ٹیکنالوجی و خلاقیت کے مرکز میں تبدیل ہوجاۓ گی۔ جیسا کہ قائدانقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی کہ تجربہ سے پتہ چلتا ہے کہ ملت ایران ہمیشہ خلاق اور پیشرو رہی ہے اور آج بھی اپنی مزيدسعی وکوشش سے تمام میدانوں میں اپنے پچھڑے پن کی تلافی کرسکتی ہے اور اپنے مناسب مقام کوحاصل کر سکتی ہے۔(7 مئی 2008)
ٹونی بلیئر کے لئے فرانس کا تحفہ !
سابق برطانوی وزير اعظم اور عالمی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکہ کے قریبی حلیف ٹونی بلیئر نے اپنی پچنویں سالگرہ کے موقع پر فرانس کے صدر نیکولا سارکوزی کی جانب سے ایک انتہائی تلخ اور ناخوشگوار خبر یہ سنی کہ فرانس یورپی یونین کے مستقل سربراہی کے لئے ٹونی بلیئر کی حمایت کرنے سے قاصر ہے ۔
اطلاعات کے مطابق ایلزہ پیلس سے اس سلسلے میں ایک باضابطہ بیان میں یہ اعلان کردیا گیا ہے کہ یورپی یونین کے پہلے مستقبل سربراہ کی گری سنبھالنے کے لئے صدر نیکولاسارکوزی بلیئر کی کوئی مدد نہیں کریں گے ۔یورپی یونین کے مستقل سربراہ کے انتخاب کا مسئلہ برسلز میں 19 اور 20 جون کو ہونے والے سربراہی اجلاس کا ایک اہم ترین موضوع ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے فرانس کے صدر نیکولاسارکوزی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ٹونی بلیئر کو اس عہدے کے لئے مناسب ترین شخص قرار دیا تھا ۔
سیاسی حلقوں میں یورپی یونین کی سربراہی کے لئے سارکوزی کی جانب سے ٹونی بلیئر کی حمایت کو ان کی پان انٹلانٹک پالیسی کے سبب امریکہ اور برطانیہ سے فرانس کی قربت کا نتیجہ تصور کیا جاتا تھا تا ہم اب بلیئر کی حمایت سے سارکوزی کی دستبرداری کو ان کی ماضی کی اس پالیسی پر نظر ثانی سے تعبیر کیا جا رہا ہے ۔تازہ ترین سروے کے مطابق مسٹر سارکوزی سن 1958 کے بعد فرانس کے وہ پہلے صدر ہی جنہیں غیر مقبول ترین صدر قرار دیا جا رہا ہے بہرحال اس وقت یورپی یونین کی سربراہی کے لئے فرانس کے صدر نیکولاسارکوزی نے لگزمبراگ کے وزير اعظم جان کلوڈ یونکو کی حمایت شروع کردی ہے ۔( 7 مئی 2008)
امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامی ، ذمہ دار کون ؟
ملت ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی اور کینہ اس بات کا موجب بنا ہے کہ وھائٹ ہاؤس آئے دن بے بنیاد دعووں اور جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعے اپنی داخلی رائے عامہ کو خوراک پہنچاتا رہے در اصل خارجہ پالیسی میں ہر طرف سے منہ کی کھانے کے بعد امریکی حکام اپنے عوام کو مطمئن کرنے اور عالمی رائے عامّہ کو گمراہ کرنے کی سعی کرتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ اپنی ساری ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈال دیتے ہیں ۔اس کی ایک تازہ مثال بش کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے امریکہ بھی بڑھتی اقتصادی مشکلات اور مہنگائی کا ذمہ دار ہندوستان کے عوام کوقرار دیا ہے ۔
بہرحال ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام ایک ایسا ہتکھنڈہ ہے جسے امریکی حکام ہر جگہ آزمانے کی کوشش کرتے ہیں افغانستان اور عراق میں بدامنی تشدد اور دہشت گردی پر قابو پانے میں ان کی ناکامی سے آج ساری دنیا بخوبی واقف ہے تا ہم اس کے باوجود امریکی حکام اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے تہران کو مورد الزام ٹہراتے ہیں اور افغانستان میں گڑبڑ پھیلانے کا تازہ الزام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ البتہ اس سے ان کا ایک اور بڑا مقصد ملت فلسطین کے خلاف صیہونی حکومت کے غیر انسانی اقدامات پر سے لوگوں کو توجہ ہٹانا ہے ،ملت ایران فلسطینیوں کی مظلومیت کو دیکھتے ہوئے ان کی سیاسی اور اخلاقی حمایت کرتی ہے جسے امریکہ دہشت گردوں کی حمایت سے تعبیر کرتا ہے ۔علاوہ ازیں امریکی حکمران ٹولہ ایک دعوی یہ بھی کرتا ہے کہ ایران ممکن ہے کہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال کرے لہذا وہ اپنے اس دعوے کے ذریعے ملت ایران کو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول سے ہی روکنے کے درپے ہے ۔بہرحال علاقے میں امریکہ کی تفرقہ آمیز پالیسیوں اور اقدامات کا ابھی تک کوئي نتیجہ ایسا نہیں نکلا ہے کہ جسے واشنگٹن اپنے لئے فتح و کامیابی قراردے سے چنانچہ بہتر یہی ہے کہ وہ زمینی حقایق پر توجہ دیتے ہوئے سرد جنگ کے زمانے کی روش کو ترک کردیں اور علاقے کے حالات کے مطابق مناسب پالیسی اختیار کریں ۔( 7 مئی 2008)
امریکہ اب بھی لبنان فلسطین افغانستان اورعراق میں الجھا ہواہے
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے صوبہ فارس کے شہر کازرون میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوۓ کہا ہے کہ تسلط پسند طاقتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ناکامی کے باوجود اپنے مد مقابل کو مرعوب کرتی ہيں۔ آپ نے وضاحت کی کہ ملت ایران نے اس راز کا پتہ لگا لیا ہے اور اسی وجہ سے وہ امریکہ اور دوسری طاقتوں کی دھمکیوں سے خو ف و ہراس نہيں رکھتی اور اس کے بعد بھی مرعوب نہيں ہوگی ۔ اسلامی جمہوریہ ایران ابتدا سے ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مسلسل سازشوں کا شکار رہا ہے اور گذشتہ تین عشروں سے اس کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ امریکہ کو معلوم ہوچکاہے کہ دنیا میں اسلامی بیداری کا آغاز ایران کے مسلمان عوام کے ہاتھوں ہوا ہے ۔ ایران کے عوام نے انقلاب کی کامیابی کے بعد اپنا اسلامی و ایرانی تشخص حاصل کرلیا ہےاور اپنے ملک کو وقت کی طاقتوں بالخصوص امریکہ سے چھٹکارا دلا لیا ہے ۔ جیسا کہ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایااسلامی انقلاب کو تیس سال گذر جانے کے بعد بھی ملت ایران بالخصوص نوجوان انقلاب اور ترقی کی چوٹیوں کی جانب تیزی کے ساتھ رواں دواں ہیں اور اس سے ایران کے دشمن درماندہ ہوگۓ ہیں۔ امریکہ کو یہ خطرہ ہے کہ ایران جو خود مختاراور کسی بھی شکل میں ساز باز قبول نہ کرنے والا ملک ہے سائنسی اور جدیدترین ٹیکنالوجی کے لحاظ سے کہیں ایسے مقام پر نہ پہنچ جاۓ کہ مغرب کی اجارہ داری ختم ہوجاۓ ۔ایٹمی انرجی کے استعمال میں ایرانی سائنسدانوں کی غیرمعمولی ترقی اور ایران کی ایٹمی ایندھن تیار کرنے میں بھرپور کامیابی امریکہ کی قیادت میں تسلط پسند نظام کی کامیابی کی وجوہات ہیں،مغربی ممالک نے ہمیشہ یہ پروپیگنڈہ کیا ہے کہ اقتصادی ترقی صرف مغربی معیاروں پرپورااترنے سے ہی ممکن ہے اور مغرب بالخصوص امریکہ سے الگ رہ کر ترقی کا امکان موجود نہيں ہے لیکن ایران اس دعوے کے غلط ہونے کا واضح ثبوت ہے اور اسی وجہ سے اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دھمیکیوں اوردباؤ کا سامنا ہے۔امریکہ کی ایران مخالف کوششوں کا اب تک کوئي نتیجہ نہيں نکلا ہےتا ہم قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ دشمنوں کی سازشوں سے غافل نہيں ہونا چاہۓ البتہ امریکہ کے پاس تیس سال پہلے جیسی طاقت ہے اور نہ ہی ایران ابتداء انقلاب کے برسوں جیسا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت علاقے کی ایک بڑی اور ناقابل انکارطاقت میں تبدیل ہوچکا ہے جبکہ امریکہ لبنان افغانستان فلسطین اور عراق میں مسلسل ناکامیاں اٹھا رہا ہے اور اب بھی اس کے نتائج ميں الجھا ہوا ہے۔ ( 6 مئی 2008)
بائیکاٹ اور پابندیوں کا ایران پر کوئی اثر نہیں پڑے گا
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اپنے ایک اہم خطاب میں ایران کے خلاف مغرب اور خصوصا" امریکہ کی حالیہ دھمکیوں اور ایران کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کرنے سے متعلق کوششوں کو لاحاصل قراردیا ہے ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے جوصوبہ فارس کے دورے کے موقع پر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے واضح لفظوں میں فرمایا ہے کہ ملت ایران کو کوئی دھمکی اور بائیکاٹ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم پوری قوت سے اپنی راہ پر گامزن رہیں گے اور تسلط پسندوں کو ہرگز ملت ایران کا حق پامال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، واقعیت امر یہ ہے کہ دھمکیاں اور بائیکاٹ کی پالیسی ملت ایران کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ،اس لئے کہ گذشتہ تیس برسوں کے دوران اسلامی جمہوریۂ ایران کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پابندیوں اور بائیکاٹ کا سامنا رہا ہے ۔امریکہ ایران کے ساتھ اپنی ٹکراؤ کی پالیسی کو جاری رکھنے کے لئے در اصل بہانوں کی تلاش میں رہتا ہے اور ہمیشہ بے بنیاد الزامات اور دعوے کرکے عالمی رائے عامّہ کو ایران سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے البتہ امریکہ کی کوئی بھی سازش ملت ایران اور ایرانی حکام کے عزم ارادے میں کسی قسم کا کوئی خلل نہیں ڈال سکی ہے نہ ہی وھائٹ ہاؤس کو اس سے کوئی فائدہ پہنچا ہے ۔چنانچہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ ایرانی عوام دھمکیوں اور بائیکاٹ کے مقابلے میں بھی ڈٹے رہیں گے اور ان دھمکیوں اور بائیکاٹ کے غیر مؤثر ہونے کو آشکارا کردیں گے ۔( 5 مئی 2008)
ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام اور امریکہ میں صیہونی لابی سرگرمیاں
شمالی کیرولینا اور اینڈیانا میں پری الیکشن سے محض ایک روز قبل ڈیموکریٹوں کے نمائندوں کے درمیان ایک بار پھر ایران کو لے کر لفظی جنگ چھڑگئی ۔ سنیٹر ہیلری کلنٹن نے ABC ٹی وی چینل پر ایران حملے سے متعلق اپنے بیان کا دفاع کیا ۔وہ کہہ چکی ہیں کہ اسرائیل پر ایران کے ایٹمی حملے کی صورت میں امریکہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی طاقت رکھتا ہے ۔ہیلری کلنٹن کے اس بیان پر امریکہ اور امریکہ سے باہر سخت ردّعمل سامنے آیا ہے ۔
اسلامی جمہوریۂ ایران نے اس سلسلے میں سلامتی کونسل کے نام اپنے ایک مراسلے میں ہیلری کلنٹن کے انتہا پسندانہ اور اشتعال انگیز بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ہیلری کلنٹن کے مد مقابل ڈیموکریٹ امیدوار سنیٹر بارک اوباما نے ان کے بیان کو جارج بش کے بیانات سے مشابہ قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی کہا ہے کہ امریکہ کو عالمی سطح پر کاؤبوائے ( COW BOY ) کی پالیسی پر عمل درآمد کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے ایران پر حملے کی بات ،در اصل یہودی لابی اور ریپبلکن پارٹی کے انتہا پسند دھڑے کی حمایت حاصل کرنا ہے ۔ حالات یہ بتاتے ہیں کہ صیہونی لابی سابق خاتون اول کو مسند اقتدار پر لانا چاہتی ہے اور اسے امید ہے ہیلری کلنٹن کو وھائٹ ہاؤس میں بیٹھانے کے بعد ایران کے خلاف حکومت امریکہ کی جارحانہ پالیسی کو جاری رکھا جا سکتا ہے ۔ہیلری کلنٹن پر سبقت رکھنے والے ڈیموکرٹیک امیدوار بارک اوباما نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں جس پر ہیلری کلنٹن اور ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مک کین نے سخت اعتراض کیا تھا ۔اس وقت بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے ۔ڈیموکریٹوں کا اعتدال پسند اور دائیں بازو کا دھڑا ہیلری کلنٹن کو اپنی مرضی سے چلا کر ریپبلکن کے دائیں بازو کے دھڑے کے قریب کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔تا ہم امریکہ کے جنگ مخالف طبقے اور اوباما کی قیادت میں لیبرل خیالات کا حامل دھڑے کو سخت تشویش ہے کہ بش حکومت کی کاؤ بوائے والی پالیسی کہیں ایسا نہ ہو کہ آئندہ حکومت میں بھی رسوخ کرجائے ۔( 5 مئی 2008)
تہران میں بحر ہند کے ساحلی ملکوں کی تنظیم کا آٹھواں سالانہ اجلاس
بحر ہند کے ساحلی ملکوں کی تنظیم کا آٹھواں سالانہ اجلاس آج تہران میں شروع ہوا۔وزراء کی سطح کے اس اجلاس کی افتتاحی تقریب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے خطاب کیا۔انہوں نے اس تنظیم کے رکن ملکوں وسائل و ذخائر اور گنجائش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ تنظیم اپنے وسائل اور افرادی قوت کی بنا پر اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ اہم بین الاقوامی مسائل میں واضح اور ہم آہنگ موقف اختیار کر سکتی ہے۔اس تنظیم نے اپنے قیام کے دو عشروں کے دوران صنعتی اور اقتصادی ترقی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے۔یہ تنظیم سنہ دو ہزار بیس تک بحر ہند کے آزاد تجارتی علاقے کے قیام ،فنی و تکنیکی تعاون ، صنعتی امور میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سائنسی و تحقیقاتی تعاون کی سطح کو بڑھانے کے مقصد سے قائم کی گئی۔بحر ہند کے چالیس ساحلی ممالک میں سے تقریبا نصف ممالک اس کے رکن ہیں اور یہ علاقائی اقتصادی تعاون کے لیے ایک اہم ممکنہ عامل سمجھی جاتی ہے۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے رکن ملکوں کی آبادی ایک ارب نوے کروڑ اور رقبہ دو کروڑ مربع کلو میٹر سے زائد ہے ۔اس تنظیم کے رکن ملک اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور دنیا کی ساٹھ فیصد ناخالص پیداوار کا تعلق ان ممالک سے ہے۔ایران ہندوستان انڈونیشیا سنگاپور اور عمان جیسے ممالک اس تنظیم کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔عالمگیریت کے عمل پر ایک نظر ڈالیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور ترقی یافتہ صنعتی دنیا کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے۔درحقیقت دنیا کے بڑے صنعتی ممالک اور کمپنیوں نے علاقائی اور عالمی منڈیوں پر اجارہ داری قائم کر کے اور دنیا کے مالی اور اقتصادی شعبوں پر اثرورسوخ کے استعمال سے اقتصادی تعاون کی علاقائی تنظیموں کے راستے میں بڑی رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ان رکاوٹوں کے باوجود بحر ہند کے ساحلی ممالک کی تنظیم کی گزشتہ ایک دہائی کی کارکردگي کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنظیم کے رکن ممالک علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ماہرین کے خیال میں ان ملکوں کے تعاون سے اس تنظیم کو ایک طاقتور اور موثر علاقائی اقتصادی بلاک میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔اس بنا پر تہران میں اس تنظیم کا اجلاس علاقائی تعاون کو فروغ دینے پر مبنی ایران کی اصولی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مقصد کو حاصل کرنے کی سمت میں قدم بڑھانے کا ایک بہترین موقع ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اور وزیر خارجہ نے بھی اس اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران اس سلسلے میں قدم اٹھانے اور اس تنظیم کے رکن ممالک کو اپنے سائنسی تجربات اور ترقی و پیشرفت منتقل کرنے پر تیار ہے۔(4مئی2008)
انقلاب اسلامی ایران مسلم امّہ کے لئے امید کی کرن
11 فروری سن 1979 کو ایران میں ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کی بساط پلٹنے کے بعد حضرت امام خمینی (رح) کی سالہا سال کی کاوشوں کے ثمرات اسلامی جمہوریہ کے قیام کی شکل سامنے آئے ۔
جس کے نتیجے میں عالم اسلام کے بے جان پیکر میں ایک ہلکی سی جنبش ہوئی اسلامی اقدار اور اسلامی احکامات پر یقین رکھنے والوں کے پژمردہ چہروں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔
کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ اسلامی تعلیمات اور قرآن سنت کی روشنی میں بھی کوئی حکومت بن سکتی ہے ایسی حکومت جو عصری تقاضوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہو ۔یہی وجہ تھی کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی ایّام میں لوگوں نے اسلامی حکومت کی تشکیل کو ایک عارضی کوشش سے تعبیر کیا اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکے گی تا ہم جلد ہی ان کی سمجھ آگیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو طوفانوں سے ٹکڑنے کا سلیقہ آتا ہے چنانچہ مسلمانوں میں خود اعتمادی بڑھی ، مسلمانوں کا وہ طبقہ ، جو اسلامی قدروں اور الہی احکامات کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ دیکھنا چاہتا تھا مایوسی کے اندھیروں سے باہر نکل آیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف پوری اسلامی دنیا میں بلکہ امریکہ اور یورپ میں بھی مسلمان اپنا سر اونچا کرکے چلنے لگے ۔19 ویں صدی کے ابتدائی عشروں میں یورپ اور امریکہ کا رخ کرنے والے مسلمان مہاجرین کے اندر اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دلانے کا نہ تو حوصلہ تھا اور نہ ہی وہ یورپ کی چکا چوند میں ایسا کرنے کی اپنے اندر توانائی دیکھتے تھے لہذا مسلمانوں کی نئی نسل اسلامی تعلیمات سے دور رہ کر پروان چڑھ رہی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ یورپ اور امریکہ میں بسنے والے یہ مسلمان اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد تو کجا حتی اپنی تاریخ بھی بھول جائیں گے ، دوسری طرف مشرقی بلاک تھا جس نے ساری دنیا میں الحادی و اشتراکی بنیادوں پر دنیا کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا تھا اور اس مکتب فکر سے متاثر افراد دینی اقدار اور خصوصا" اسلام کو ہی انسانی قدروں کے لئے سب سے بڑا خطرہ اور رکاوٹ سمجھتے تھے اور سرے سے دین کے ہی منکر تھے ۔ایسے میں اسلامی انقلاب نے نہ شرقی اور نہ غربی کا نعرہ دے کر ایک مرجع تقلید اور فقیہ زمان حضرت امام خمینی (رح) کی قیادت میں خالص دینی اور اسلامی بنیادوں پر حکومت قائم کرکے جو کارنامہ انجام دیا تھا اس پر ساری دنیا ششدر تھی چنانچہ جیسا کہ ذکر کیا گیا ابتدا میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوریہ کی تشکیل کو مسلمان طبقوں میں ایک حسین خواب سمجھا گیا جو کسی وقت بھی بکھر سکتا تھا تا ہم جسے جسے دن گزرتے گئے لوگوں کو یہ خواب اور تصور جو صدیوں سے وہ دیکھ رہے تھے حقیقت کا روپ اختیار کرگیا اور عالم اسلام کے خوابیدہ پیکر نے کروٹ لی ، علما اور مسلمانوں کے دانشور طبقے کے مایوس اور پژمردہ چہروں پر شادابی اور طراوت کا احساس دیکھنے کو ملا ، مسلمانوں خصوصا" جوان طبقے کا اسلامی قدروں کی طرف جھکاؤ ہوا ، خواتین میں پردے کی پابندی اور حجاب کی اہمیت بڑھی نماز جماعت اور مساجد جو کبھی نمازیوں سے خالی رہتی تھیں بتدریج بھرنے لگیں یہ صورتحال صرف اسلامی ملکوں میں نہیں تھی بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی یہ تبدیلی دیکھنے میں آئی چنانچہ جہاں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے مسلمانوں میں خود اعتماد بڑھی اور ان میں شعور، آگاہی اور بیداری پیدا ہوئی وہیں امریکہ اور یورپ کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی۔ ساری دنیا خصوصا" عالم اسلام پر حاکمیت اور مسلم اقوام کی محکومیت ،جس کی وہ صدیوں سے عادت کرچکے تھے اس کا سلسلہ ختم ہوتا نظر آنے لگا ۔یہی نہیں بلکہ مشرقی بلاک جو سرد جنگ کے دوران جو ہر جگہ اور ہر مقام پر مغربی بلاک کے مقابلے پر نظر آتا تھا ، امپریلزم کے ساتھ جاملا اور اسلامی انقلاب کے اس نوخیز پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے لئے سازشیں شروع ہوگئیں ۔
ایران میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور جب اس میں بھی ناکامی ہوئی تو ایک طویل جنگ مسلط کردی اور مقابل فریق یعنی صدام جیسے ڈکٹیٹر کی جی کھول کر حمایت کی گئی اس طرح اسلامی انقلاب کے مفید اثرات اسلامی جمہوری نظام کی اعلی اقدار کے فروغ پر بند باندھیےگئے ، سامراجی دنیا سے وابستہ میڈیا کو سرگرم کردیا گیا جو دن رات اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنے لگا اور مسلم اقوام کو اسلامی انقلاب سے بدظن کرنے کے لئے کبھی عرب اور عجم کی بات کی تو کبھی شیعہ سنی کی اور یوں وہ اپنے عزائم کو کسی حد تک عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوگئے ۔لیکن اسلامی انقلاب اور اس کی اعلی قیادت نے اس کے مقابلے میں ذرا برابر سستی اور کمزور نہیں دکھائی اور اسلامی تعلیمات اور الہی احکامات کی ترویج اور تبلیغ کا کام جاری رکھا ۔اس مقصد کے لئے جہاں تک ہوسکا اسلامی ملکوں کے حکام اور سیاستدانوں کے ساتھ رابطے بڑھائے اتحاد بین المسلمین اور اسلامی عزت و عظمت کے لئے ہر ممکنہ اقدام کیا ۔لیکن چونکہ اسلامی دنیا کے اکثر ممالک اور حکومتیں بیرونی طاقتوں سے وابستہ رہی ہیں لہذا انہوں نے وہ ہی کیا جو ان کے آقاؤں کی مرضي تھی تا ہم وہ اپنے عوام کو اسلامی انقلاب اور اس کے مفید اثرات سے دور رکھنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکے ۔اس دوران اسلامی جمہوریۂ ایران کی قیادت نے انتہائی اہم اور بنیادی قدم اٹھایا وہ یہ تھا اسلامی دنیا کی مذہبی شخصیات اور دانشوروں کے ساتھ اپنے رابطے مضبوط کئے اور تہران کو اسلامی دنیا کی مذہبی شخصیات اور رہنماؤں کا دایمی سکرٹریٹ بنادیا جہاں عالم اسلام کی مقتدر شخصیات کی آمد و رفت اس بات کاسبب بنی کہ اسلام دشمن قوتیں ایران کو الگ تھلگ کرنے کی جو کوشش کررہی تھیں وہ سب کی سب ناکام ہوگئیں اور الحمد اللہ آج اسلامی جمہوریۂ ایران اقبال کی تعبیر کے مطابق عالم مشرق کا جنیوا بن گیا ہے اور اسلامی دنیا اگر چاہے تو اس سے بھر پرو فایدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔
بہرحال اسلامی جمہوریۂ ایران اسلامی دنیا کے اتحاد اور دشمن کی یلغار کے مقابلے میں مسلم امّہ کے دفاع کے لئے ہمہ وقت کوشا ہے اور تہران میں منعقدہ 21 ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔
اس تین روزہ کانفرنس میں عالم اسلام کی نمایاں شخصیات کی شرکت سے اندازہ ہوتا ہے کہ عصر حاضر میں بیداری کی جو تحریک امام خمینی رحمۃ اللہ نے شروع کی تھی وہ اب اپنے اثرات دکھا رہی ہے اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی قیادت میں مسلم امّہ کی صحیح سمت میں رہنمائی کررہی ہے ۔
21 ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس اس لحاظ سے بھی کافی اہمیت رکھتی ہے کہ دنیائے کفر نے اسلام اور پیغمبر گرامی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی ذات مقدس پر اسی طرح حملے شروع کردیئے ہیں جس طرح کہ صدر اسلام میں کئے جاتے تھے ۔البتہ طریقہ کار آج کے دور سے ہم آہنگ ہے ۔
21 ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اپنے خطاب میں عالم اسلام کو در پیش مسايل اور دنیائے کفر کی ریشہ دوانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمنان اسلام عالم اسلام پر سماجی اور انسانی مسائل کے لحاظ سے وہ الزامات لگا تے ہیں جن وہ خود گرفتارہیں مثال کے طورپر سیاہ فاموں،سرخ فاموں اور تارکین وطن کے ساتھ امریکہ کا رویہ واقعا شرمناک ہے ۔آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے بدنام زمانہ قید خانے گوانتاناموجیل میں امریکہ کے جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جیل میں امریکہ کے اقدامات سے دنیا بھر میں اسکی ساکھ بگڑجائے گي ۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی حالت امریکہ سے بھی گئي گذری ہے اور اسے شدید اقتصادی مسائل کا سامنا ہے ۔آیت اللہ رفسنجانی نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں صیہونی معاشرے میں دنیا میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک پایاجاتاہے اور مغربی یہودیوں اور مشرقی یہودیوں کے مابین سیاہ فاموں اور سفید فاموں سے زیادہ تعصب اور امتیازی سلوک پایا جاتاہے ۔(4 مئی 2008)
پانچ جمع ایک کا اجلاس : عالمی رائے عامہ کو فریب دینے کی ایک اور کوشش
لندن میں پانچ جمع ایک کے اجلاس کے اختتام پر برطانوی وزير خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں تہران کو ایک نئے مراعاتی پکیج کی پیشکش کئے جانے کی خبردی ہے ۔برطانوی وزير خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے اس بارے میں کہا ہے کہ اس مراعاتی پکیج کا مقصد یورینیم کی افزودگي کے عمل سے روکنے کے لئے تہران کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں آئی اے ای اے کی رپورٹوں میں کسی قسم کے انحراف یا غیر شفاف سرگرمیوں کا کوئی ذکر نہ ہونے اور اس عالمی ادارے کی جانب سے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے پر تاکید کے باوجود برطانوی وزارت خارجہ کے بیان میں یورینیم کی افزودگی کے عمل کو عالمی امن کے لئے خطرہ قراردیا گيا ہے ۔اسلامی جمہوریۂ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو خطرہ ظاہر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آئي اے ای اے جیسے عالمی ادارے کو یکسر نظر انداز کردیا جائے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک تسلط پسند طاقتوں کے اشارے پر ایران کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی اور پیشرفت سے روکنے میں کوشاں ہے ۔چنانچہ جمعے کے روز شیراز میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اس نکتے کو بیان کیا ہے کہ مختلف علمی میدانوں اور خصوصا" ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں ایرانی جوانوں کی درخشاں کامیابی نے بڑی طاقتوں کو غصّہ دلادیا ہے اور ان کے غم و غصے کی وجہ یہ ہے کہ بڑی طاقتیں ہرگز یہ تصور نہیں کرتی تھیں کہ ملت ایران بائیکاٹ اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود اس حد تک سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھ جائے گي کہ دوسروں پر اس کا انحصار ختم ہوجائے گا ۔بہرحال لندن میں پانچ جمع ایک کا اجلاس اور برطانوی وزير خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے بیان کو رائے عامہ کو فریب دینے کی ایک اور کوشش کے علاوہ اور کچھ قرار نہیں دیا جا سکتا تا ہم ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی شفافیت سے ساری دنیا آگاہ اور بڑی طاقتوں کے عزائم سے بھی باخبر ہے لہذا ابھی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ کا ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں تازہ بیان ان کی اپنی رائے عامہ کو تو گمراہ کرسکتا ہے لیکن عالمی رائے عامّہ ہرگز ان کے فریب بھی نہیں آئے گی ۔(3 مئی 2008)
ملت ایران کی ترقی و پیشرفت ۔امریکی دشمنی کی اصل وجہ
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے شیراز کے دورے کے دوران شہداء کے اہل خانہ اور انقلاب اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے لئے قربانیاں پیش کرنے والے افراد کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا ۔آپ نے اپنے خطاب میں ایرانی قوم کو اسلامی اقدار اور شہدا کے اہداف و مقاصد کو حاصل کرنے پر زوردیا ہے ۔رہبر انقلاب اسلامی نے عزم و استقامت اور دشمن کے حملوں کے مقابلے میں صبر و ایثار کے مظاہرے اور اسلام اور انقلاب کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے جذبے کو گزشتہ تین عشروں میں ایرانی قوم کا اساسی سرمایہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ آج بھی ایران کی غیور قوم شہداء کے راستے کو زندہ اور اسلامی انقلاب کی معنوی اقدار کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کی آرزوؤں کو خاک میں ملادے گي ۔رہبر انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کی بیداری ، ہوشیاری اور مضبوط عزم و ارادے کو امریکہ کی دشمنی کی اصل وجہ قرار دیا اور کہا امریکہ کی ایران سے دشمنی کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ وہ ایرانی قوم کے عزم بالجزم اور استقلال و آزادی اور ترقی و پیشرفت کو برداشت نہیں کرسکتا ۔
سامعین ! جیسا کہ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ایران میں اسلامی حکومت کا قیام تسلط پسندی اور تسلط پذیری کی نفی کرتا ہے اور آزادی ، خودمختاری اور غربت و وقار کی خواہش کرنے والی اقوام کو یہ راستہ دکھاتا ہے کہ استقامت ، پائیداری اور اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہوئے حقیقی خودمختاری کو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
قائد انقلاب حضرت آیت العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے مطابق ملت ایران نے عالمی طاقتوں کی منہ زوری اور بے جا خواہشوں کو ماننے سے انکار کرکے پوری دنیا پر یہ ثابت کردیا ہے کہ اسے مغرب کی دھمکیوں اور پابندیوں سے ذرا برابر خوف نہیں ہے اور ایرانی قوم کا یہی جوش و جذبہ امریکی تسلط پسندی اور اجارہ داری کے خاتمے اور ایرانی ترقی و پیشرفت کا باعث بنا آج ایران میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی و پیشرفت سے لے کر ایرانی جوانوں کی دوسرے شعبوں میں ترقی اور اس سے بڑھ کر دنیا کی مختلف اقوام میں ایران کے اسلامی انقلاب کے روز افزوں گہرے اثرات ایرانی قوم کی رشد و ترقی کا بین ثبوت ہیں اور یہی وہ عوامل ہیں جس نے ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنی ، کینہ اور نفرت میں اضافہ کیا ہے ، بہرحال ایران کے اسلامی انقلاب کا سب سے بڑا اثر یہ ہے کہ اس نے مختلف اقوام کو تسلط پسند نظاموں کے خلاف بیدار کیا ہے اور ملتوں کی بیداری کے تسلسل سے تسلط پسند عالمی طاقتوں کو مختلف جگہوں پر سخت چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔(3 مئی 2008)
امریکی وزارت خارجہ کے بے بنیاد دعوؤں کی تکرار
دہشت گردی اور اس کے خلاف جد وجہد ایک ایسا موضوع ہے جس پر سب متفق ہیں - لیکن اس کے تئیں بالخصوص امریکہ کی جانب سے دہرا رویہ دہشت گردی کے پوری دنیا میں پھیلنے کا باعث بنا ہے ۔اور اس چيز نے عالمی برادری کواس کی جامع تعریف اور اس کے مصداق کے تئيں مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ دہشت گردی کی صورت حال کے سلسلے میں امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ دنیا میں امریکہ کی مداخلت پسندی اور زیادہ خواہی کے جواز کا ہتھکنڈہ بن گئي ہے۔امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ کی سیاسی ماہیت کے بارے میں تو یہ کہنا چاہۓ کہ امریکہ کے سیاسی مخالف ملکوں کانام ہی دہشت گردوں ک فہرست میں ہوتا ہے ۔ اورچونکہ ایران دنیا کا ایساسب سے زیادہ خودمختار ملک ہونے کی حیثیت سے امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کا بھرپور مخالف ہے اس لۓ واشنگٹن اس پر ہمیشہ دہشت گردی کی حمایت کاالزام لگاتا رہتا ہے ۔معروف امریکی مصنف جیمزبیل کا خیال ہے کہ امریکہ کے اعلی حکام ہمیشہ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ایران دنیا میں عالمی دہشتگردی اور تشددکی حمایت کرتاہے لیکن ابھی تک انھں نے اپنے دعوےکی کوئی دلیل پیش نہیں کی ہے – لیکن امریکی دانشور اور فلسفی نوام چامسکی نے تو حکومت امریکا کو دنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد حکومت قراردیا ہے – حکومت امریکہ انسانیت کے خلاف صیہونی مظالم کےمقابلے میں ایران کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی معنوی اور سیاسی حمایت کو دہشت گردی قرار دیتی ہے- جنوری دوہزار میں دہشت گردی کے بجٹ پر پابندی کیلۓ عالمی کنونشن کے زیرعنوان اقوام متحدہ میں ایک معاہد ہ طے پایا تھا اس معاہدے میں دہشت گردی کی حمایت کو مطلقہ طور پر ممنوع قرا ردیا گیا تھاچاہے وہ جس شکل میں بھی ہو۔لیکن حکومت امریکہ نے عالمی قوانین کی مخالفت کرتے ہوۓ عراق میں موجود دہشت گر د گروہ ایم کے او ، کو عراقی عوام او رحکومت کی مرضی کے برخلاف اپنی سرپرستی میں لے لیا جبکہ امریکہ کی وزارت خارجہ ایم کے او کے دہشت گرد ہونے کا اعتراف کرچکی ہے امریکہ نے دہشت گردی کے بہانے عراق اور افغانستان پرقبضہ کررکھا ہے لیکن دونوں مذکورہ ملک اس وقت بد امنی اوردہشت گردی کے فروغ پانے کا اڈہ بن چکے ہيں – درحقیقت دہشت گرد گروہ القاعدہ کو ایک طرف امریکہ کی مالی حمایت حاصل ہے اور دوسری طرف وہ دنیا میں امریکہ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کا وسیلہ بن چکا ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر نوام چامسکی حکومت امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد حکومت قرار دیتے ہیں - اور دنیا میں دہشت گردی کی صورت حال کے حوالے سے امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ کا مقصد حقیقی دہشت گردی کی مددمیں امریکی حکومت کے کردارکی جانب سے عالمی راۓ عامہ کی توجہ ہٹانا ہے- (1 مئی 2008)
ایران اور سعودی عرب کا سلامتی امور میں تعاون
ایران اور سعودی عرب کی سلامتی کمیٹی کےسہ روزہ اجلاس کے اختتام پر دونوں ملکوں نے سکیوریٹی امورمیں تعاون کرنے کا معاھدہ کیا ۔سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ نے تہران سے وطن واپس جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں دونوں ملکوں نے سکیورٹی امور میں تعاون کرنےکے سلسلے میں اہم باتوں پر اتفاق کیا ہے ۔ایران اور سعودی عرب میں دوہزار ایک سے سلامتی تعاون شروع ہواتھا اس کے بعد دونوں اس ضمن میں دونوں ملکوں کی کئي نشستیں ہوئي ہيں۔ایران اور سعودی عرب کا سلامتی تعاون روز بروز فروغ پارہا ہے اور منظم جرائم جیسے مصنوعات اور منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ ،علاقے میں غیر قانونی رفت آمد ،سے مقابلے کے نتیجے میں خلیج فارس کے علاقے میں مجموعی طورپر سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آيئ ہے ۔خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک اور ایران مشترکہ منڈی سمیت مشترکہ تنظیمیں قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں بنابریں ایران اور سعودی عرب کا سکیورٹی تعاون نہایت اہمیت اختیار کرجاتا ہے خاص طورسے منشیات اور مصنوعات کی اسمگلنگ سے مقابلہ کرنے میں اس تعاون کوخاص اہمیت حاصل ہے ۔اس وقت خلیج فارس منشیات اور مصنوعات کی اسمگلنگ کا ایک اہم راستہ بن چکا ہے جس سے علاقے کے ملکوں پر سماجی اور اقتصادی لحاظ سے منفی اثرات پڑسکتے ہیں اس کے علاوہ دہشتگرد اور شر پسند گروہوں کو سرگرم عمل ہونے کا بھی موقع مل سکتا ہے اور عراق کی صورتحال بھی اس امر پر اثر انداز ہوسکتی ہے کیونکہ عراق پر ا مریکہ اور اس کے اتحادیوں کے قبضے کے بعد سے اس ملک میں بہت سے دہشتگرد گروہ سرگرم عمل ہوچکے ہيں اور ان میں بہت سے گروہوں کو امریکہ اور برطانیہ کی حمایت بھی حاصل ہے اور اس حمایت کو ثابت کرنےکے لئے ثبوت و شواہد بھی موجود ہیں ۔اس صورتحال کے پیش نظر علاقائي ملکوں کے مابین سکیورٹی امور مین تعاون سب کے لئے مفید ہے ۔ایران اور سعودی عرب کا سکوریٹی اجلاس اور نئے معاھدوں کا طے کیا جانا اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ (1 مئی 2008)
استقامت اور پائیداری پر رہبر انقلاب اسلامی کی تاکید
رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شیراز میں عظیم عوامی اجتماع سے خطاب میں ایران کی اسلامی حکومت اور عوام پر سامراجی ملکوں کے دباو کی وجوہات پرروشنی ڈالی اور اس دباو سے مقابلہ کرنے کی راہوں کی نشاندھی فرمائي۔قائد انقلاب اسلامی کی نظر میں ایرانی قوم کے خلاف دشمن کے دباو اور دھمکیاں کوئي نئي چیز نہیں ہیں بلکہ انقلاب کی کامیابی سے ہی شروع ہوچکی تھیں۔اسلامی انقلاب جو بیسویں صدی کا عظیم ترین واقعہ ہے دنیا میں بڑی تبدیلیوں کا باعث ہوا ہے اور اس نے ہمیشہ امریکہ کی سرکردگي میں سامراجی نظام کی مخالفت کی ہے اور قومون کو حریت پسندی اور حق حاصل کرنے کا سلیقہ سکھایا ہے ۔تسلط پسند طاقتوں نے جو ایران کے خلاف پابندیوں کی قرادادیں منظور کرکے اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچارہی ہیں یہ بات فراموش کردی ہے کہ ایرانی قوم گذشتہ تین دہائیوں سے سیاسی اوراقتصادی دباو کا مقابلہ کررہی ہے اور اس نے اپنی راہ نہیں بدلی ہے ۔ملت ایران نے یہ ثابت کردیا ہےکہ وہ دشمنوں کی دھمکیوں اور پابندیوں کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس امرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن کے وسیع سیاسی اور تشہیراتی اقدامات کا ھدف ملت اریان کو پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کا حق استعمال کرنے سے محروم کرنا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سامراجی نظام ملت ایران کو صرف پرامن ایٹمی ٹکنالوجی سے استفادہ کرنے کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہتا ہے بلکہ امریکہ کی سرکردگي میں مغرب اسلامی انقلاب کی نابودی اور ایران کو تسلیم اور وابستہ کرنے سےکم پرراضی نہيں ہے ۔اگر ایران اپنے ایٹمی حقوق سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹ جائے تو اسے مغرب کے دباو میں سربلندی ،آزادی و خود مختاری حق خود ارادیت یہانتک کہ سائنسی پیشرفت کے حق سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔بنابریں امریکہ نے ایران پر دباوجاری رکھنے کے لئے ایٹمی پروگرام کو بہانہ بنالیا ہے اوراگر یہ بہانہ کسی بھی وجہ سے ختم ہوجاے تو امریکہ اوراس کے اتحادی ایران پر دباو ڈالنے کے لئے کوئي اور بہانہ تلاش کرلیں گے لھذا امریکہ کی سامراجی ماھیت کو نظر میں رکھتے ہوئے رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا ہےکہ ملت ایران کی سربلندی اور آزادی استقامت و پائداری ہی میں مضمر ہے ۔ (1 مئی 2008)