|
|
|
پير, 16. جون 2008 |
دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ اور پاک افغان لفظی تنازعہ
دہشت گردوں کے تعاقب میں پاکستان میں اپنی فوج داخل کرنے کے صدر حامد کرزی کے بیان پر پاکستان کے ردّعمل سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک طرح کی لفظی جنگ چھڑگئی ہے ۔پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر حامد کرزئي کے بیان پر ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دے گا انہوں نے کہا کہ ہم یہ لڑائی امریکہ کے لئے نہیں لڑرہے یہ ہماری اپنی جنگ ہے ، وزير اعظم یوسف رضا گیلانی نے دہشت گردی اور شدت پسندی کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس برائي کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ہمیشہ پاکستان پر یہ الزام لگایا ہے کہ دہشت گرد عناصر پاکستانی علاقے سے آکر کارروائیاں کرتے ہیں لہذا ان کے ملک کو اپنے دفاع میں کارروائي کرنے کا حق حاصل ہے ۔پاکستانی رائے عامّہ کے لئے یہ بات تعجب خیز ہے کہ جس وقت دہشت گرد عناصر سرحد عبور کرکے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں وہاں کارروائی کرتے ہیں اور پھر کارروائی کرکے دوبارہ اپنی پناہ گاہوں کی طرف واپس آتے ہیں تو اس وقت ان کے خلاف کارروائي کیوں نہیں کی جاتی ؟ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ افغان فوج کا حق ہے کہ وہ اپنے ملک کے دفاع کے لئے کارروائي کرے لیکن سرحد پار حملے کرنے کی دھمکی کو پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ہرگز اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا چنانچہ پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا ہے کہ اپنی سرحدی حدود میں کسی بھی فوجی کارروائی کا حق صرف پاکستانی فوج کو ہی حاصل ہے ۔بہرحال اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان جو لفظی جنگ ہورہی ہے اس کے پس پردہ بدامنی کے اصل عنصر اور محرک پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور وہ ہے خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگي کہ جس کے پورے خطے پر انتہائی ناگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ امریکہ اور مغربی ملکوں نے جس ریلیف کا وعدہ کرکے افغانستان پر قبضہ کیا تھا افغان عوام آج بھی اس کے منتظر ہیں اور اس صورتحال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مغربی ملکوں کی جانب سے تعمیر نو اور افغان عوام کی سہولیات کے لئے مختص کی جانے والی رقم کا چالیس فیصد سے زیادہ خود مغربی ملکوں کو واپس لوٹ جاتا ہے ۔بہرحال خطے کی مشکل مٹھی بھر دہشت گرد عناصر نہیں ہیں بلکہ وہ نادیدہ قوتیں ہیں کہ جنہیں بیرونی طاقتوں کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہے ،چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملکوں کے حکام الزام تراشی سے قبل اس امر پر توجہ ملحوظ رکھیں، اس لئے کہ دہشت گردی کے خلاف جو نام نہاد جنگ امریکہ نے چھیڑی ہے اس میں مارے جانے والے افراد زیادہ تر عام شہری ہیں کہ جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ تیسری دنیا سے تعلق رکھتے اور مسلمان ہیں ۔( 16 جون 2008)
تہران میں خلیج فارس تعاون کونسل کا اجلاس
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ منوچہرمتکی نے اٹھارہویں خلیج فارس تعاون کونسل میں افتتاحی تقریر کرتے ہوۓخلیج فارس میں اجتماعی تعاون ویکجہتی کی ضرورت پر تاکید کی ۔منوچہر متکی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس مقصد کے حصول کےلۓ تمام وسائل بروۓ کار لانے کیلۓ تیار ہے۔لیکن ساتہ ہی انھوں نے یہ تاکید بھی کی کہ علاقے کے تمام ممالک اپنے مفادات اس طرح معین کریں کہ اس میں سب کی فلاح وبہبود کا خیال رکھا گياہو۔ وزیرخارجہ منوچہر متکی نے اپنے بیان میں علاقے کی سلامتی کو ترقی کا پیش خمیہ قراردیا اور کہا کہ اس وقت خلیج فارس کے علاقے میں سیکورٹی اقتصادی اور سیاسی یونینوں کی تشکیل کیلۓ ماحول بہت سازگار ہے ۔اس بنیاد پر علاقے کے ممالک خلیج فارس کی سلامتی کو خود عملی جامہ پہنا سکتے ہیں کیونکہ امن کو اسلحوں اور بیرونی فوجیوں کی موجودگی سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس حقیقت کا مصداق وہ راستہ ہے جسے گذشتہ برسوں کے دوران درآمداتی امن او ر بیگانہ فوجیوں کی موجودگي میں طے کیا جاچکا ہے۔ جبکہ اس سے نہ صرف یہ کہ امن قائم نہيں ہوا بلکہ مزيد قتل وغارت اور بدامنی پیداہوئی۔اور یہ تجربہ پھر دہراۓ جانے کے قابل نہيں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور خلیج فارس کے تمام پڑوسی ممالک کا مستقبل اور مفادات مشترک ہیں اور اس کی بنیاد تاریخ ثقافت اور دین ہے اس بنا پر ایک دوسرے کے انجام کے تئیں بے توجہی نہيں برتی جاسکتی ۔یہ تعاون و یکجہتی کا وہ حقیقی مفھوم ہے جو تمام میدانوں میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ اور سیکورٹی کے میدان میں یکجہتی کی سمت گامزن ہونا اس کا ایک حصہ ہے۔بلاشبہ خلیج فارس کے ممالک کے پاس انرجی کا عظیم ذخیرہ موجود ہے اور اس میدان میں تعاون طرفین کے درمیان اقتصادی تعاون کا آغاز شمار ہوتا ہے ۔ لیکن اس حقیقت کو نظرانداز نہيں کیا جاسکتا ہے کہ فسیلی ذخائر تمام ہونے والے ہيں اور اس علاقے کے ممالک کو بھی دوسرے بہت سے ملکوں کی ماننداپنی انرجی کی ضرورت پوری کرنے کیلۓ واضح پالیسی اختیارکرنی پڑے گي۔اس بنیاد پر ایران اور خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کو مستقبل کے پیش نظر پرامن ایٹمی انرجی سے استفادے کے تئيں حساس مرحلہ درپیش ہے ۔ایران کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں تعاون بھی مثالی ہونا چاہۓ – اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے گذشتہ برس اپنے دورہ قطر کے موقع پر خلیج فارس تعاون کونسل کے بیسویں اجلاس میں بارہ تجاویز پیش کی تھیں جو اقتصادی ، سیکورٹی ، ثقافتی ،سائنسی ،اورتکنیکی میدانون نیزخلیج فارس کی تاریخ وماحولیات کے تشخص کے تحفظ پر مشتمل تھیں – ان تجاویز کے سہارے اغیار کی مداخلت کرنے
اورتفرقہ ڈالنےکی پالیسوں کے باوجودخلیج فارس کے وسائل اور محل وقوع سے استفادہ کرتے ہوۓ تعاون اور پائدارامن کی جانب قدم بڑھایا جاسکتا ہے۔(16 جون 2008)
پاکستانی علاقوں میں کارروائی کرسکتے ہیں ۔افغانستان
افغانستان کے صدر حامد کرزی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان فوج پاکستان میں گھسکر کارروائی کرسکتی ہے ۔پاکستان میں ان کے اس بیان کو بلاشبہ زیادہ پسندیدگي نظر سے نہیں دیکھا جائے گا تا ہم ابھی تک اس بارے میں پاکستان کا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صدر حامد کرزی نے اس طرح کھل کر پاکستان میں افغان فوج کو بھیجنے کی بات کی ہے ۔اس سے قبل وہ دہشت گردی کے تناظر میں پاکستان پر مختلف سطح کے الزامات لگاتے رہے ہیں ۔مبصرین ان کے اس بیان کو پاکستان کے علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ جن کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں پر فضائی حملے ہوئے اور پاکستانی حکومت کے احتجاج کے بعد پنٹاگون نے اسے اپنے دفاع میں کی جانے والی کارروائی قراردیا اور اس طرح یہ واضح کردیا کہ اس قسم کے حملے آئندہ بھی ہوتے رہیں گے ۔دوسری جانب افغانستان میں چونکہ نیٹو افواج تعینات ہیں اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکہ کا قریبی حلیف شمار ہوتا ہے ۔لہذا حامد کرزی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائي کی مخالفت کرے گا ، صدر حامد کرزی کا یہ خیال کس حد تک درست ہے اس کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے پاکستانی رائے عامّہ کے خیالات پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ پاکستانی علاقوں میں کی جانے والی ہر کارروائی حکومت کے ایما پر ہوتی ہے اور اس پر ردّعمل اور بیان محض ایک رسمی سے چیز ہے کہ جسے امریکہ اور اس کے اتحادی کوئی اہمیت نہیں دیتے بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ حامد کرزی کے اس بیان پر پاکستان کا سرکاری موقف کب اور کیا سامنے آتا ہے؟ (15 جون 2008)
ایرانی حکام سے خاویر سولانا کی ملاقات
اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کو گروپ پانچ جمع ایک کا مجوزہ پیکج پیش کرنے کی غرض سے ایران کے دورے پر آۓ ہوۓ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کے ڈائریکٹر خاویر سولانا نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی اور ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی سے ملاقات کی ہے ۔ ایرانی حکام اور خاویر سولانا کے بیانات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کے مجوزہ پیکج اور گروپ پانچ جمع ایک کے مجوزہ پیکج میں بہت سے مشترکہ نکات پاۓ جاتے ہیں جن کی بنیاد پر باہمی تعاون اور مذاکرات کے نۓ دور کا آغاز کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن اس سلسلے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک نے ابھی تک ایران کے مجوزہ پیکج کا جواب نہیں دیا ہے ۔ اور ایران کے وزیر خارجہ منو چہر متکی نے کہا ہے کہ ایران گروپ پانچ جمع ایک کے مجوزہ پیکج کے سلسلے میں ویسا ہی رویہ اختیار کرے گا جیسا رویہ گروپ پانچ جمع ایک ایران کے مجوزہ پیکج کے بارے میں اختیار کرے گا۔اس کےعلاوہ ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لۓ کسی شرط کو قبول نہیں کرے گا اور وہ یورینیئم کی افزودگی بند کۓ جانے کو مذاکرات کے ایجنڈے میں زیر بحث لاۓ جانے کے قابل نہیں سمجھتا ہے۔ مذاکرات کے آغاز کی منطقی راہ حل یہ ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک ایران کے مجوزہ پیکج کے مندرجات کو تسلیم کرتے ہوۓ مختلف موضوعات سے متعلق مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں اپنی نیک نیتی کا اظہار کرے۔ایرانی وزیر خارجہ منو چہر متکی نے کہا ہے کہ ایران کے مجوزہ پیکج میں سیاسی ، سلامتی ، اقتصادی ایٹمی توانائي اور علاقائي و عالمی تعاون سے متعلق بہت سے مسائل کا ذکر ہے جن کے حقیقت پسندانہ جائزے سے مثبت اور مفید مذاکرات کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک نے اس پیکج کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اس لۓ توقع کی جارہی ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک باہمی احترام اور منطقی رویہ اختیار کرتے ہوۓ ایران کے مجوزہ پیکج کا جائزہ لے گا تا کہ مذاکرات کے نۓ دور کے آغاز کے لۓ ضروری اعتماد کا راستہ ہموار ہوسکے ۔(15 جون 2008)
ایران افغانستان کی مدد کرے گا: منوچہر متکی
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے پیرس میں افغانستان کی امداد کے سلسلے میں بلائی جانے والی ڈونر کانفرنس میں اس بات کی تاکید کی ہے کہ افغانستان کو امداد دینا اور اس ملک کے مسلمان عوام اور حکومت کے ساتھ تعاون ایران کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ جناب منو چہر متکی نے کہا کہ ایران افغانستان کے اقتصادی استحکام ، پناہ گزینوں کی مشکلات میں کمی لانے اور اس ملک کی تعمیر نو میں تیزی پیدا کرنے کے سلسلےمیں کسی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ پیرس میں بلائی جانے والی اس کانفرنس میں ساٹھ ممالک کے نمائندوں اور پندرہ عالمی تنظیموں نے شرکت کی اور یہ کانفرنس افغانستان کو ایک ارب چار سو سولہ ملین ڈالر کے وعدے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ۔حالانکہ سنہ 2006 میں افغانستان کو ملنے والی رقم اس سے آدھی سے بھی کم تھی جس کا اس سے وعدہ کیا گیا تھا۔بہرحال ایران نے گزشتہ پانچ برسوں میں ٹوکیو اجلاس کے تناظر میں افغانستان کو دو سو پچاس ملین ڈالر کی امداد دی اور پھر لندن اجلاس کے بعد 2006 میں افغانستان میں ایک سو ملین ڈالر کی مالیت کے منصوبوں پر عمل درآمد شروع کیا ۔لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ایران یہ سمجھتا ہے کہ عالمی مشارکت ، اقوام متحدہ کی حمایت اور تعمیر نو کا کام افغانستان کی حکومت کو سونپے بغیر افغانستان کی امداد ممکن نہیں ہے ۔ اس وقت افغانستان کو منشیات کی پیداوار اور اس کی اسمگلنگ اور بد امنی جیسے مسائل کا سامنا ہے اور انتہاء پسند عناصر کے ساتھ نیٹو اور امریکی فوجیوں کے خفیہ تعلقات کے منظر عام پر آنے سے کرزئي حکومت کمزور ہوگئي ہے اور افغانستان کا مستقبل مبہم ہوگيا ہے ۔ افغانستان پر قبضے کے سات برسوں کے تجربے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اب تک کی پالیسیاں ناکام رہی ہیں اور افغان عوام کو اغیار کی موجودگی کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے ۔(14 جون 2008)
پاکستانی مرتے ہیں تو مریں ،حملہ جائز تھا ۔ پنٹاگون
پاکستان کے قبائلی علاقے میں امریکی فوجیوں کے حملے میں گیارہ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کو امریکی وزارت جنگ پنٹاگون نے اپنے دفاع میں کی جانے والی ایک کارروائی قراردیا ہے ۔امریکی وزارت جنگ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ خالص دفاعی کارروائی تھی جبکہ امریکی وزارت خارجہ نے گیارہ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے اسے مواصلاتی رابطوں کی کمزوری کا نتیجہ قراردیا ہے ، دوسری طرف پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے ردّ عمل میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے عمل کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ وزير اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی سے خطاب میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خود مختاری کے لئے خطرہ قراردیا ہے اور پاکستانی فوج اس کارروائی کو امریکہ کے بزدلانہ فعل سے تعبیر کیا ہے ۔ پاکستان کے حالات سے با خبر مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے علاقے میں حالیہ فوجی کارروائی نہ تو پہلی کارروائي ہے اور نہ ہی اسے آخری قراردیا جا سکتاہے ۔پاکستانی رائے عامّہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو اپنی ایک ایسی کالونی تصور کرلیا ہے کہ جہاں اقتدار اعلیٰ اور قومی حاکمیت محض رسمی سی چیز ہے ۔جہاں تک تعلق اس بات کا ہے کہ حکومت، دفتر خارجہ اور فوج نے اس کارروائي پر سخت بیانات جاری کئے ہیں تو اس کو بھی عوام محض ایک کاغذی کارروائی سمجھتے ہیں کہ جس کا مقصد لوگوں کے غم و غصے کو ٹھنڈا کرنا ہے تا ہم اس سلسلے میں وزیر اعظم یوسف رضا گيلانی کا یہ بیان کہ پاکستان کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہے ،خاصی اہمیت رکھتا ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ اس طرح کے کسی حملے کے بعد پاکستان کے کسی حکمران نے اتنا سخت بیان دیا ہے ۔بہرحال پاکستانی رائے عامّہ یہ سمجھتی ہے کہ قومی اقتدار اعلیٰ کی جو خلاف ورزی کئی برسوں سے کی جا رہی ہے اس کا تدارک ہونا چاہئے اور حکام کو محض رسمی بیان پر اکتفا کرنے کی بجائے ملک و قوم کے وقار اور مفاد میں قدم اٹھانا چاہئے ۔( 12 جون 2008)
ایران اور سعودی عرب مسلم امّہ کے درمیان اتحاد میں پیش پیش
تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے جو سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی دعوت پر اس ملک کے دورے پر تھے ایران واپس ہونے سے قبل ایک بار پھر امیرعبداللہ سے ملاقات کی ۔ جدہ میں ہونے والی اس ملاقات میں آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے تاکید کی کہ ایران کا سیاسی عزم سعودی عرب سے تعلقات کو فروغ دینا ہے ۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اور سعودی عرب علاقے کے دواہم اسلامی ملک کی حیثیت سے عالم اسلام اور علاقے کے مفادات کے تناظر میں اپنے تعاون کو فروغ دے سکتے ہيں، اس ملاقات میں شاہ عبداللہ نے بھی دونوں ملکوں کے مذہبی اشتراکات کو مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے نظریات کو قریب لانے کیلۓ سعودی عرب اور ایران کے علماء کے درمیان تبادلہ خیال کو سراہا اور ان میں صلاح ومشوروں کو جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔ شاہ عبداللہ نے ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں کو غلط اور سفارتی آداب کے منافی قراردیا اور کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ امریکہ کی غلطیاں اسے بتائي ہيں ۔سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی علاقے کے امن و استحکام میں ایران کے کلیدی کردار پر تاکید بالخصوص امت مسلمہ کے درمیان اتحاد ویکجہتی کی ضرورت اور ایران کے خلاف امریکہ کی پالیسیوں کو غلط سمجھنے پر مبنی واضح بیان علاقے اور عالم اسلام کے مسائل کےسلسلے میں حقائق پر توجہ کی علامت ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ایران اور دنیاء عرب گہرے اشتراکات کے حامل ہيں کہ جس میں مذہبی رابطہ ان میں سے ایک ہے ۔ یہ ایسے حالات میں ہے کہ مشرق وسطی کے علاقے کے مسائل اورعالم اسلام کے مشترکہ دشمنوں کی دھمکیوں نے اختلافات سے اجتناب اور اتحاد کے تحفظ کی ضرورت کو دوچنداں کردیا ہے ۔تجربے سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ علاقے بالخصوص ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات، مسائل کے حل اور عالم اسلام کے موقف کو مضبوط بنانے میں موثر رہے ہیں اس کامیاب تجربے کا عینی مصداق حالیہ دوحہ اجلاس میں لبنان کے مسائل کے حل میں تہران اور ریاض کے درمیان صلاح ومشورہ اور تعاون ہے جس نے ثابت کردیا کہ عالم اسلام کے اندر سیاسی لحاظ سے بھی بھرپور صلاحتیں موجود ہیں کہ اگر انھيں استعمال کیا جاۓ تو علاقے کے مسائل کوبیرونی مداخلت کے بغیر حل کیاجاسکتاہے ۔یہ تعاون عالم اسلام کے مشترکہ مقاصد کو عملی جامہ پہنانے اتحاد بین المسلین کو مضبوط بنانے ، دوسروں کی موجودگي کے بغیرعلاقے میں قیام امن واستحکام اور فلسطین وعراق وافغانستان کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کا دورہ سعودی عرب اور مکے میں اسلامی مذاہب کے درمیان گفتگوکے زير عنوان اجلاس میں، پچاس سے زیادہ اسلامی ملکوں کے دانشوروں اور ماہرین کے سامنے ان کے خطاب نیز ایران و سعودی عرب کے حکام کے درمیان صلاح و مشورے کا اسی نقطہ نگاہ سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ( 12 جون 2008)
ایران کے خلاف یورپ کی حمایت حاصل کرنے کی بش کی آخری کوششیں
امریکی صدربش اپنی صدارت کے آخری مہینوں میں اور یورپ کے ممکنہ آخری دورے میں یورپ کو ایران پر سیاسی واقتصادی دباؤ بڑھانے کیلۓ تشویق دلانے کی کوشش کر رہے ہيں ۔ بش نے اسلوانیہ میں ایک پریس کانفرنس میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کااعلان کرتے ہوۓ دعوی کیا کہ ایران کا ایٹمی انرجی حاصل کرنا دنیا کیلۓ خطرناک ہوگا۔حکومت امریکہ بخوبی جانتی ہے کہ ایران ہرقسم کے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا مخالف ہے اور اس کی تائيد ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی متعدد رپورٹوں سے بھی ہوتی ہے کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں پرامن ہیں ۔ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے انسپکٹروں کے ساتھ ایران کے بھرپور اور تعمیری تعاون کی بنا پر ہی آئي اے ای اے کے سربراہ نے اپنی رپورٹوں میں اب تک بارہ مرتبہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی قسم کا انحراف نہ ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ ایران کی جانب سے عالمی برادری کو سیاسی اقتصادی اور سیکورٹی پیکج نے تہران کے ایٹمی معاملے سمیت مختلف عالمی مسائل کے حل کا موقع فراہم کیاہے ۔ ایران میں یورینیم کی افزودگی روکنے کی امریکہ کی زیادہ خواہی پرمبنی درخواست ایران کے ایٹمی معاملے کے حل کیلۓ ڈپلومیٹک راستے کو بند کرنےکی امریکی کوشش کا ثبوت ہے۔امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ ایران نہ صرف یورینیم کی افزودکی نہيں روکے گا بلکہ مذاکرات کیلۓ بھی کوئي پیشگی شرط قبول نہں کرے گا۔ بش ایسےعالم میں یورپ کو ایران کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہے ہيں کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ خاویر سولانا آئندہ ہفتے گروپ پانچ جمع ایک کا پیکج لے کر تہران آرہے ہيں لیکن اگر گروپ پانچ جمع ایک کے پیکج میں بھی ایران سے یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہوگا تو تہران اسے قبول نہيں کرے گا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے سلسلےمیں کسی سے بھی مذاکرات نہيں کرے گا ۔ بنا برايں ایران کے خلاف پابندیوں میں شدت بھی تہران کویورینیم کی افزودگي روکنے پر مجبورنہيں کرسکتی جبکہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی ممالک امریکہ میں صداتی انتخابات کا انتظار کررہے ہیں اور ایران پر پابندی عائد کرنے میں کوئي دلچسپی نہيں رکھتے اس کے ساتھ ہی ایسا نظرآتاہے کہ امریکہ اور اس کے بعض اتحادی ایران کے ایٹمی معاملے میں غیرمعقول رویہ اختیارکرنے کی وجہ سے ایک طرح سے حیرانی وپریشانی کا شکار ہیں کیونکہ ایک طرف وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہيں اور دوسری طرف ایران کو پرانا اور فریبی اقتصادی پیکج پیش کرتے ہیں ۔ اور ساتھ ہی پابندیوں میں شدت لانے کی بات بھی کررہے ہیں ۔ اس رویے سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کا ایٹمی معاملہ حل کرنے کے سلسلے میں امریکہ اور اس کےاتحادیوں کے قول وفعل میں کوئي سچائي نہيں ہے ۔اور مغرب ایران کا ایٹمی معاملہ پرامن طریقے سے حل کرنے کا خواہاں نہیں ہے ۔اگر مغربی حکومتیں اپنی باتوں میں سچی ہوتیں توایران کے اندریورینیم کی افزودگي کے بین الاقوامی کنسرسیم میں شامل ہوسکتی ہیں تاکہ قریب سے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی نگرانی کریں بالخصوص ایسی صورت میں کہ جب امریکی اخبار بوسٹن گلوب کےمطابق بہت سے امریکی دانشوروں اور سیاستدانوں نے ایران کے اندر یورینیم کی افزودگی میں شامل ہونے کے عالمی منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔(11 جون 2008)
ایران کے خلاف جارحیت کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گي
اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر دفاع نے صیہونی وزير ٹرانسپورٹ کے ایران کے خلاف ایک حالیہ بیان کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی بیرونی حملے کا جواب دینے کے لئے مکمل تیار ہیں ۔وزیر دفاع محمد مصطفیٰ نجار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی وزير شاؤل موفاز کا حالیہ بیان لبنان سے صیہونی حکومت کی شرمناک شکست کا نفسیاتی ردعمل ہے اور اس شکست نے صیہونی حکام کو نفسیاتی امراض میں مبتلا اور ان کے اندر سیاسی انتشار پیدا کردیا ہے ۔ایران کے وزير دفاع نے یہ بات زوردے کر کہی ہے کہ اگر کسی نے ایران کے خلاف کسی قسم کا احمقانہ اقدام انجام دیا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ مبصرین صیہونی وزیر ٹرانسپورٹ کے ایران مخالف بیان کو اس کا ذاتی موقف قرار دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے ان بیانات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے ۔شاؤل موفاز چونکہ صیہونی حکومت کے وزیر جنگ بھی رہ چکے ہیں اور امریکہ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں لہذا بعض صحافتی ذرائع ان کے اس بیان کو ایران کے خلاف ایک عملی دھمکی بھی قراردے رہے ہیں بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک امریکی صدارتی امیدوار باراک اوباما کے ایران مخالف بیانات اور صیہونی وزير کے یہ بیانات ایک ہی سلسلے کی دوکڑیاں ہیں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اسرائیل کو امریکہ کی مکمل پشتپناہی حاصل ہے اور صیہونی حکومت کی ماہیت تو ویسے بھی جنگ پسندی اور تسلط پسندی پر مبنی ہے لیکن دوسری طرف اس میں بھی ذرا برابر شک نہیں ہے کہ اگر کسی طاقت نے ایران کے خلاف گستاخی اور جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔(10 جون 2008)
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی البرادعی کی رپورٹ کے مثبت نکات سے چشم پوشی
امریکہ اور اس بعض اتحادی ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی کی حالیہ رپورٹ کے مثبت اور بنیادی نکات اور عناصر کو نظرانداز کر کے ایران کے خلاف اپنے معاندانہ اقدامات کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ اس قسم کا طرز عمل بین الاقوامی میدان میں آئی اے ای اے کی پوزیشن اور ساکھ کے خراب اور متاثر ہونے کا باعث بنا ہے۔امریکہ اور فرانس ، برطانیہ،جرمنی ، آسٹریلیا ، کینیڈا ، اور جاپان جیسے اس کے اتحادیوں نے نہ صرف ایران کے بارے میں البرادعی کی رپورٹ کے مثبت نکات کو نظرانداز کر کے ایران کے ایٹمی مسئلے کو بین الاقوامی میدان میں باقی رکھنے کی کوشش کی ہے بلکہ وائٹ ہاؤس کے حکام نے جعلی رپورٹیں پیش کر کے اور آئی اے ای اے پر دباؤ ڈال کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ان کا اصل اور اہم مقصد یہ ہے کہ وہ البرادعی کی رپورٹ کو ناکافی ظاہر کر کے اور ایران اور آئی اے ای اے کے تعاون میں رخنہ ڈال کر ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق بحثوں کے حل میں رکاوٹ ڈالیں۔اسی سلسلے میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق تمام بحثوں کے حل ہونے پر مبنی البرادعی کی رپورٹ کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے نئے دعوے کر کے آئی اے ای اے کی سطح پر ایران کے ایٹمی مسئلے کو معمول پر آنے کے راستے میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔امریکہ کا مقصد جیسا کہ صدر بش نے کہا ہے یہ ہے کہ وہ ایران کو حتی ایٹمی علم اور ٹیکنالوجی بھی حاصل نہیں کرنے دیں گے۔یہ ایسے وقت میں ہے کہ ایران نے مقامی افرادی قوت اور داخلی وسائل سے ایٹمی ٹیکنالوجی خصوصا یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کی ہے۔ایران نے حقیقت پسندانہ اور شفاف موقف اپنا کر نہ صرف این پی ٹی معاہدے پر مکمل طور پر عمل کیا ہے بلکہ اس نے آئی اے ای اے کے ساتھ اپنے شفاف اور تعمیری تعاون کے ذریعے امریکہ کو اس کے ناجائز اور توسیع پسندانہ مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا غلط طرزعمل یہ ہے کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ بین الاقوامی میدان میں ایران کے ایٹمی مسئلے کو باقی رکھ کر ایران کو اپنی پرامن ایٹمی سرگرمیاں ترک کرنے پر مجبور کر دیں گے جب کہ ایران نے بارہا یہ کہا ہے کہ وہ کسی بھی حالات میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے اپنے حق سے دسبردار نہیں ہو گا اور آئی اے ای اے ساتھ اپنا تعاون بھی جاری رکھے گا۔ناوابستہ تحریک کے رکن ملکوں سمیت آئی اے ای اے کے اکثر ارکان نے متوازن اور منصفانہ طرز عمل اختیار کیا ہے اور ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کی حمایت کی ہے۔اسی بنا پر آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں آئی اے ای اے میں ناوابستہ تحریک کے رکن ملکوں کے موقف کی تعریف کی ہے۔(9جون2008)
شہباز شریف اور پاکستان کی آئندہ سیاسی صورتحال
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے آج پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھالیا اطلاعات کے مطابق انہوں نے حلف لینے کے بعد اپنی پندرہ رکنی کابینہ کا بھی اعلان کردیا نو سال کے بعد بلا مقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونا اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ شریف برادران کو میدان سیاست باہر رکھنے کی پالیسی بری طرح سے ناکام رہی ہے ۔قاف لیگ جسے صدر پرویز مشرف کی بھر پور حمایت حاصل رہی ہے اپنی حریف جماعت یعنی مسلم لیگ ن کو دیوار سے لگانے کی کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں کرسکی ۔میاں شہباز شریف کے وزیر اعلیٰ بن جانے کے بعد پاکستان کے سب بڑے صوبے پنجاب میں سیاست کا رخ یکسر بدل گیا ہے اور یوں دکھائي دے رہا ہے کہ جن انتخابی نعروں کے ساتھ میدان سیاست میں مسلم لیگ ن اتری ہے ان کو عملی شکل دینے کے لئے اس جماعت کا موقف مضبوط ہوتا جارہا ہے اور اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی کو اتحادی جماعت کی حیثیت سے مسلم لیگ ن کے مطالبات کے سامنے مزيد لچک دکھانی پڑے گی مسلم لیگ ن کے اہم مطالبات میں صدر پرویز مشرف کا استعفیٰ اور برطرف شدہ ججوں کی بحالی کے علاوہ اب ایک اور مطالبہ یہ شامل ہوگیا ہے کہ کرگل سانحے کو لے کر صدر پرویز مشرف پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے ۔ادھر صدر پرویز مشرف نے اپنے ایک انٹرویو میں واضح کردیا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور یہ کہ وہ کہیں نہیں جارہے ہیں ۔صدر پرویز مشرف نے اختیارات میں کمی سے متعلق ممکنہ اقدام کی صورت میں جوابی کارروائی عندیہ دیا تا ہم انہوں نے کہا کہ وہ اٹھاون بی دو کا استعمال کرکے ملک کو بحران سے دوچار کرنے کا کوئي ارادہ نہیں رکھتے مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں اگر چہ عام انتخابات کے بعد حکومت عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں آگئی ہے اور صدر پرویز مشرف فوجی عہدہ بھی چھوڑ چکے ہیں لیکن پاکستان کے سیاسی میدان میں آنے والی تبدیلیاں ملک کو ایک نئے بحران کی طرف لے جاتی نظر آرہی ہیں ۔( 8 جون 2008)
صیہونی حکومت کی دھمکیوں پر ایران کا احتجاج
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صیہونی حکومت کے حکام کے دھمکی آمیز اور گستاخانہ بیانات کے بعد اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط میں ان بیانات کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے محمد خزائی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ ایک آزاد اور اقوام متحدہ کے رکن ملک کے خلاف صیہونی حکومت کے دھمکی آمیز بیانات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے کہ جو اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی ترین اصول کے منافی ہے۔اس بنا پر اس قسم کے بیانات پر اقوام متحدہ خصوصا سلامتی کونسل کو واضح اور ٹھوس ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔
صیہونی حکومت کے وزیر ٹرانسپورٹ شاؤل موفاز نے جمعہ چھ جون کو ایک دھمکی آمیز بیان میں ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کو ناگزیر قرار دیا۔
یہ بیانات صیہونی حکومت کی جارحانہ ماہیت اور پالیسیوں کے پیش نظر کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن کئی باتوں کے لحاظ سے یہ قابل توجہ دکھائی دیتے ہیں۔یہ دھمکی آمیز بیانات ایک ایسے وقت میں دیے جا رہے ہیں کہ جب امریکہ ایران کو بین الاقوامی میدان میں الگ تھلگ کرنے اور علاقے کے ممالک کو ایران کے خلاف بھڑکانے میں ناکام رہا ہے۔دوسری طرف ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں وائٹ ہاؤس اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کا جعلی ہونا اور امریکی دعووں کا جھوٹا ہونا ایک بار پھر ثابت ہو چکا ہے۔صیہونی حکام کے گستاخانہ بیانات کے سلسلے میں ایک اور اہم بات سلامتی کونسل کی معنی خیز خاموشی ہے کہ اس نے صیہونی حکومت کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے دوسری طرف امریکہ نے بھی صیہونی حکام کے بیانات کی تائید کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت علاقے اور دنیا کی سلامتی کے لیے اصل خطرہ ہیں۔اس بنا پر اسلامی جمہوریہ ایران اسرائیل کی دھمکیوں کے مقابل سلامتی کونسل کی خاموشی کو اس حکومت کے مزید جری اور گستاخ ہونے کا سبب سمجھتا ہے اور جیسا کہ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے کے خط میں کہا گيا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے دفاع کے حق کی بنیاد پر کہ جس کا ذکر اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 میں بھی ہوا ہے ، ملت ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور ضروری دفاعی اقدامات کرنے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لے گا۔(8جون2008)
جناب ہاشمی رفسنجانی کا دورۂ سعودی عرب
تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ کی باضابطہ دعوت پر ایک سیاسی اور مذہبی وفد کے ہمراہ جدہ پہنچے ہیں۔وہ اپنے اس دو روزہ دورے کے دوران سعودی حکام سے ملاقات کرنے کے علاوہ اسلامی مسائل پر تبادلۂ خیال کے موضوع پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں تقریر بھی کریں گے۔یہ بین الاقوامی کانفرنس منگل کے روز سے شروع ہو رہی ہے اور اس میں دنیا کے پچاس سے زائد اسلامی ممالک سے آٹھ سو سے زائد دانشور اور سیاسی شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اس سے قبل بھی جب وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ملک کے صدر تھے تہران اور ریاض کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ایران اور سعودی عرب کے تعلقات اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی برسوں میں اغیار کے پروپیگنڈے اور علاقے میں امریکہ کی اشتعال انگیزیوں کے باعث متاثر ہوئے تھے ۔ایران پر صدام حکومت کی مسلط کردہ جنگ اور سعودی عرب سمیت علاقے کے بعض عرب ممالک کی جانب سے اسی کی دہائی کے دوران صدام کی حمایت وہ عوامل تھے جو ایران اور عرب ملکوں کے درمیان تعمیری تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بنے۔لیکن یہ صورت حال نوے کی دہائی میں اور کویت پر قبضے کے بعد علاقے میں عراق کی جارحانہ پالیسیوں کی ماہیت واضح و روشن ہونے کے بعد بدل گئی۔علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں سے تہران اور ریاض کے تعلقات دوطرفہ اور علاقائی تعاون کی بنیاد پر بتدریج ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے اور ان میں کشیدگي میں کمی آنے لگي اور یہ باہمی اعتماد کے راستے پر آگے بڑھنے لگے۔یہ تعلقات صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے گزشتہ سال کے دورۂ سعودی عرب کے بعد زیادہ تیزی سے فروغ پانے لگے ہیں۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور سعودی عرب علاقے اور عالم اسلام کے دو اہم ملک ہونے کی حیثیت سے علاقائی اور عالم اسلام کی تبدیلیوں میں اہم کردار کے حامل ہیں اور عالم اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے اور عالم اسلام کی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں دونوں ملکوں کے تعلقات کے کردار کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔دوحہ اجلاس کو کامیاب بنانے اور اوپیک کی تیل کی پیداوار کو کنٹرول کرنے میں بھی دونوں ملکوں نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔جناب ہاشمی رفسنجانی ایک ایسے موقع پر سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں کہ جب مشرق وسطی کے علاقے کو نسلی و مذہبی اختلافات اور شیعہ و سنی کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے سلسلے میں اغیار کی سازشوں کا سامنا ہے۔اس بنا پر ان کے اس دورے کے موقع پر مکہ میں بین الاقوامی اسلامی کانفرنس کے انعقاد اور آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی اس کانفرنس میں شرکت نے اس دورے کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔(2جون2008)
ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز میں ناوابستہ تحریک کے گروپ کے ارکان نے ویانا میں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ایک بیان جاری کر کے اس ایجنسی پر سیاسی دباؤ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ناوابستہ تحریک کے ان ارکان نے ویانا میں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے تیسرے روز کہا کہ آئی اے ای اے کی سرگرمیوں خصوصا ایران سے متعلق مسائل سمیت اس ایجنسی کے دیگر امور میں بےجا مداخلت یا کسی بھی قسم کا دباؤ دباؤ قابل قبول نہیں ہے اور مسائل کو ٹیکنیکل اور قانونی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے اور اسی بنیاد پر عالمی ایجنسی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کے دائرے میں ایران کے ایٹمی مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گيا ہے کہ جب گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ اور بعض یورپی ملکوں نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کر کے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کا نیا دور شروع کر دیا ہے۔اس پروپیگنڈے میں مغرب کے سیاسی حلقوں نے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی کی ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں رپورٹ کے مثبت نکات پر توجہ دیے بغیر کہ جو ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے کو ظاہر کرتی ہیں،البرادعی کی رپورٹ کو تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یہ رپورٹ ایران پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت کی تائید کرتی ہے۔اس پروپیگنڈے میں بورڈ آف گورنرز کا اجلاس شروع ہوتے ہی مزید اضافہ ہو گيا ہے اور اس اجلاس کے تیسرے روز امریکہ اور بعض یورپی ملکوں نے مختلف بیانات جاری کر کے ایران پر بے بنیاد الزامات لگائے۔آئی اے ای اے میں امریکہ کے نمائندے گریگوری شولٹی نے ایک بیان میں دعوی کیا کہ ہر دن گزرنے کے ساتھ ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی ایران کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جرمنی فرانس اور برطانیہ نے بھی ایران پر تنقید کرتے ہوئے اس سے مطالبہ کیا کہ اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایجنسی کے سوالات کے جواب دے۔ایران کے خلاف اس قسم کا پروپیگنڈہ کوئی نئي بات نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل بھی آئی اے ای اے پر اس قسم کا دباؤ پڑتا رہا ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض موقع پر البرادعی نے بھی اسی دباؤ اور پروپیگنڈے سے متاثر اور مجبور ہو کر ایران کے بارے میں غیرحقیقت پسندانہ اور دوغلا موقف اختیار کیا ہے۔مارچ کے مہینے میں ہونے والے بورڈ آف گورنرز کے گزشتہ اجلاس میں بھی جب البرادعی نے اپنی رپورٹ میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق کر دی تھی ، امریکہ اور برطانیہ نے آئی اے ای اے پر دباؤ ڈال کر اس کی رپورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی اور اب ایک بار پھر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو اسی دباؤ کا سامنا ہے اور بورڈ آف گورنرز میں ناوابستہ تحریک کا بیان اس سلسلے میں پیدا ہونے والی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔(5جون2008)