|
|
|
جمعه, 30. مئ 2008 |
کلسٹر بموں پر پابندی کے معاھدے کی مخالفت
امریکہ نے کلسٹر بموں پر پابندی کے معاھدے کی مخالفت کی ہے۔قابل ذکرہے ڈوبلین میں ایک سو سے زائد ملکوں نے کلسٹر بمون پر پابندی کا معاھدہ منظورکیا ہے ۔امریکی وزارت خارجہ کےترجمان نے کہا کہ یہ معاھدہ امریکہ کے مو قف مین کسی تبدیلی کا باعث نہین بنے گا۔دنیا میں سب سے زیادہ کلسٹر بم بنانے والے ملکوں میں امریکہ ،صیہونی حکومت ، روس اور چین ہیں ان ملکوں نے کہا ہےکہ وہ ڈوبلین معاھدے کی حمایت نہین کریں گے ۔عالمی ریڈ کراس کمیٹی نے ڈوبلین معاھدے کا خیرمقدم کیا ہے ۔صیہونی حکومت نے دوہزار چھے میں لبنان پر جارحیت کے دوران نہتے عوام پر بے پناہ کلسٹر بم گرائے تھے ۔اس جارحیت میں صہیونی حکومت کو حزب اللہ کے ہاتھوں شکست فاش ہوئي تھی۔(30 مئ2008)
بے جا دھمکیوں پر آئي اے ای اے کے ساتھ تعاون پر نظر ثانی
تہران کے خطیب جمعہ نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کےبارےمیں آئي اے ای اے کی تازہ رپورٹ کے بارےمیں کہا ہےکہ آئي اے ای اے کی جانب سے مخاصمانہ رپورٹیں اس کی ساکھ کو خراب کردینگي ۔آيت اللہ رفسنجانی نے کہا کہ آئي اے ای اے کی اس تاکید کے باوجود کہ ایران نے اس کے ساتھ مثبت تعاون کیا ہے اس ایجنسی نے امریکہ سمیت بعض ملکوں کے بے بنیاد دعووں کے زیر اثر کہا ہےکہ ایران کو گذشتہ برسوں کے تعلق سے کئے گئے سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔آيت اللہ رفسنجانی نے کہاکہ ایران سائنس دانوں نے محنت کرکے ایٹمی ٹکنالوجی حاصل کی ہے اور اگر آئي اے ای اے بے جا دھمکیاں دیے گي تو ایران اس کےساتھ تعاون پر نظر ثانی کرے گا۔خطیب جمعہ تہران نے بحران عراق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام کے مسائل کا اصل سبب جاری افواج کی موجودگي ہے اور قابض افواج جب تک رہیں گي تباہی پھیلتی رہے گي ۔(30 مئ2008)
ہماری قوم احسان فراموش نہیں،ڈاکٹر عبد القدیر خان
پاکستان کےایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ قوم قائد اعظم کے بعد مجھ سے محبت کرتی ہے۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے جوکچھ کیاملک کی بہتری کیلئے کیا محب وطن کون ہے کون نہیں،قوم سب جانتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے خلاف سازش انہیں لوگوں نے کی ہے جو نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان ایٹمی طاقت بنے۔ انہوں نے کہا تیسری دنیا کے ممالک کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ باہر کے لوگ جب سازشیں کرتے ہیں تو اپنے بھی اس میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ڈاکٹر عبد القدیر خان نے مزید کہا کہ یہاں لوگ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں میرے معاملے میں سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ہماری قوم احسان فراموش نہیں ہے،میں شکر گزار ہوں کہ قوم مجھ سے محبت کرتی ہے۔ ایک سوال پر ڈاکٹر قدیرنے بتایا کہ وہ حکومت کی نہیں فوج کی تحویل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کیلئے مشکلات نہیں چاہتے امید ہے کہ میرا مسئلہ بھی جلد حل ہوجائے گا۔ اس سے قبل اپنے ایک اور انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر وہ یہ انکشاف کر دیں گے کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیوں کیا تھا۔
(30 مئ2008)
ایران پراٹھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائےگا
صدر مملکت جناب احمدی نژاد نے کہا ہےکہ اسلامی جمہوری نظام کے دوران ملک کی تعمیر کا کام نہایت تیزی سے آگے بڑھا ہے۔صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے آج ملک بھر کی رضا کارفورسس کے کمانڈروں سے خطاب میں گذشتہ تیس برسوں کے دوران انقلاب اور اسلامی نظام کو نقصان پہنچانے کے لئے دشمنوں کے مختلف ہتھکنڈوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے فضل و کرم سے اور رہبر و ملت کی استقامت سے آج نام نہاد بڑی طاقتیں زوال کی طرف بڑھ رہی ہیں اور ان کا زوال یقینی ہوگيا ہے ۔صدر جناب احمدی نژاد نے ایران کو ڈرانے دھمکانے اور نقصان پہنچانے کے امریکی صدر کے خیال خام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج اور ایرانی قوم ہراس ہاتھ کو قلم کردیگي جو ایران کے خلاف اٹھے گا۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کا بہت جلد شیرازہ بکھر جائے گا اور ہمیں دنیا کا انتظام چلانے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔(30 مئ2008)
صدر مشرف کو استعفی دینا ہی ہوگا
پاکستان کے سابق وزیرداخلہ ریٹائرڈ جنرل معین الدین حیدرنے کہا ہے کہ صدرمشرف کے پاس مستعفی ہونے سوااورکوئی راستہ نہیں ہے ۔معین الدین حیدرنے جونوازشریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد ایک مرحلے پر ملک کے وزیرداخلہ بھی رہ چکےہيں کہا کہ جب پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتیں صدرمشرف کے استعفے کا مطالبہ کررہی ہوں اورعوام بھی تبدیلی کے خواہشمند ہوں توانھيں اپنے عہدے سے استعفاء دینا ہی ہوگا ۔معین الدین حیدرنے ریڈیوتہران کی اردوسروس سے ٹیلی فونی گفتگومیں کہاکہ امریکہ نے بھی صدرمشرف سے اپنی حمایت کا ہاتھ کھینچ لیا ہے اورعوام کا ایک بڑاطبقہ انھیں آئینی صدرتسلیم نہیں کرتا ۔ایک سوال کے جواب میں سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ پرویزمشرف اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ اٹھاون دو (بی) استعمال کرسکیں کیونکہ موجودہ صورت حال انھیں اس بات کی اجازت نہيں دے گی ۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ لوگ ایسے ہیں جویہ سمجھتے ہیں کہ اس سال کے آخرتک مشرف اپنے عہدے سے مستعفی ہوں گے لیکن میں سمجھتا ہوں کی جون کے اوائل میں بحٹ اجلاس کے موقع پر ہی وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائيں گے ۔ایک سوال کے جواب میں معین الدین حیدرنےکہا کہ پرویزمشرف کا پاکستان کے اندررہنا سیکورٹی کے لحاظ سے بہت ہی مشکل ہوگا کیونکہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ان کے ذاتی دشمن قبائلی علاقوں اوربلوچستان کے علاوہ لال مسجد سے وابستہ افراد بہت ہيں انھوں نے کہا کہ ایسی افواہيں گردش کررہی ہيں کہ وہ ترکی چلے جائیں گے مگرایک خبر آج ہی یہ بھی آئی ہے کہ ان کے ایک قریبی دوست نے لندن میں ان کے لئے ایک مکان تیارکرلیا ہے ۔ریٹائرڈجنرل معین الدین حیدرنے کہا کہ جب سے آصف علی زرداری نے بھی ان کے استعفے کی مانگ شروع کردی ہے اس کے بعد سے مشرف پردباؤبڑھ گیا ہے اورخود مشرف کا یہ کہنا ہے کہ وہ استعفا نہيں دیں گے اس میں کوئی زیادہ وزن نہیں ہے کیونکہ ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں کہ ایمرجنسی نہيں لگے گی مگرفوراوہ لگ جاتی ہے ۔(30 مئ2008)
مجوزہ سکیورٹی معاھدہ پر گفتکو ناکام
عراق کی مجلس اعلائے اسلامی اور متحدہ عراقی اتحاد کے سربراہ سید عبدالعزیز حکیم نے کہا ہےکہ عراق اور امریکہ کے درمیان مجوزہ سکیورٹی معاھدہ پر گفتکو ناکام ہوگئي ہے ۔العالم کی رپورٹ کے مطابق سید عبدالعزیزحکیم نے کہا کہ عراق کی نیشنل سکوریٹی کونسل کی سیاسی کمیٹی اور متحدہ عراقی اتحاد اس معاھدے کے مسودے کی اکثر شقوں کا مخالف ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاھدے کی اکثر شقوں کی مخالفت پر قومی اتفاق پایا جاتاہے کیونکہ ان سے عراق کے اقتدار اعلی کی مخالفت ہوتی ہے ۔قابل ذکر ہے عراق کے مذھبی اور سیاسی رہمناوں نے امریکہ کے مجوزہ سکیوریٹی معاھدے کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے عراق کے اقتدار اعلی کے خلاف قراردیا ہے ۔(30 مئ2008)