پير, 09. جون 2008

امریکیوں کا خواب شرمندہ تعبیرنہيں ہوگا ۔رہبرانقلاب اسلامی

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ عراق کے بارے میں امریکیوں کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیرنہيں ہوسکے گا ۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق کے  وزیرا‏عظم نوری مالکی سے ملاقات میں فرمایا کہ عراقی عوام اپنے اتحاد اورعزم وارادے کی بدولت تمام تردشوارحالات سے گذرجائیں گے اوراپنے اس مقام پرپہنچ جائیں گے جو ان کے شایان شان ہے ۔

رہبرانقلاب اسلامی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران عراقی عوام اورحکومت کی مدد کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھتا ہے اس امید کا اظہار کیا کہ  جناب  نوری مالکی کادورہ تہران اوراس دورے میں انجام پانے والے سمجھوتے ایران وعراق کے غیرمتزلزل تعلقات کواوربھی مستحکم بنائيں گے  ۔رہبرانقلاب اسلامی نے عراق میں مختلف اقوام ومذاہب کے درمیان اتحاد اوران کے درمیان اتحاد کی ضرورت کے بڑھتےہوئے  احساس کے سلسلے میں نوری مالکی کی باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا عراق میں اتحاد ویکجہتی کی سمت لوگوں کا تیزی سے بڑھتا ہوارجحا ن ایک بڑی کا میابی ہے لیکن اس اتحاد کے بہت سے دشمن بھی ہيں اوریہ دشمن دراصل عراقی عوام اورحکومت کے دشمن ہيں۔

 

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق میں غاصب افواج بالخصوص امریکی فوج کی موجودگی اورعراقی عوام کے درمیان ہرطرح کے اتفاق رائے کوسب تاژکرنے کے لئے ان کی سازشوں کوعراق میں اتحاد کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بتا یا اورفرمایا غاصب طاقتيں جو اپنی فوجی اورسیکورٹی طاقتوں کے سہارے عراق میں مداخلت کررہي ہیں اورکسی معمولی حق کے بغیر عراقی عوام حکومت اوراس ملک کے ممتازدانشوروں پر رعب جمانے کی کوشش کرتی ہيں اس وقت عراق کی سب سے بڑی مشکل ہيں ۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ایک غیرملکی قوت جوعراق کے تمام امورمیں بتدریج مداخلت کرنا چاہتی ہے اورعراقی عوام کے تمام شعبہ ہا ے زندگی پر اپنا تسلط جماناچاہتی ہے عراق کے عوام کی ترقی وپیشرفت کی راہ میں سب سے  بڑی رکاوٹ ہوگی  ۔( 9 جون 2008)

 

 

 

 

 

ہندوستان ترک اسحلہ کا پابند ہے ۔من موہن سنگھ

ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ایٹم ترک اسلحہ کے لئے عالمی سطح پر ھماھنگ کوششیں ہوني چاہیں اور معینہ وقت کے تحت ایٹمی عدم پھیلاو کو موثر بنانے کی سعی کی جانی چاہیے ۔ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا کہ عالمی سطح پربغیر کسی امتیازی سلوک کے  ایٹمی ترک اسلحہ کے سلسلے میں ان کا ملک سنجیدہ ہے تاکہ اس راستے میں تمام ملکوں کی سلامتی  کویقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کسی بھی ملک کے ساتھ ایٹمی اسلحوں کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کڑوا سچ نہایت تکلیف دہ ہے کہ بلاتعصب اور عالمی سطح پر ترک اسلحہ کے اھداف حاصل کرنا ایک خواب دکھائي دیتا ہے ۔ہندوستانی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے خبر دار کیا کہ دہشت گردوں اور انتھا پسندوں کے ہاتھوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے پڑنے کا خدشہ برھتا جارہا ہے اور تمام ملکوں کو یقینی بناناچاہیے کہ ایٹمی مواد خطرناک ہاتھوں تک نہ پہنچ جائے ۔( 9 جون 2008)

 

 

  

 

برطانوی وزیر خارجہ لبنان کے دورے پر

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیویڈ ملی بینڈ نے دعوی کیا ہے کہ مقبوضہ شبعا فارمز کا مسئلہ جلد ہی حل ہوجائے گا۔بیروت سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ ملی بینڈ نے جو لبنان کے دورے پرہیں لبنانی صدر میشل سلیمان سے ملاقات کے بعد کہا کہ لبنان شبعا فارمز کی ملکیت کے کاغذات اقوام متحدہ کو پیش کرے ۔یادرہے لبنان نے سن دوہزار میں ہی  شبعا فارمز کی ملکیت کی اسناد اقوام متحدہ کو بھیج دی تھیں ۔اسی سال لبنان کی بیشتر اراضی صیہونی قبضے سے آزاد کرائي گئي تھی۔اس کے بعد اقوام متحدہ نے ایک قرارداد میں اسرائیل سے شبعا فارمز سے پسپائی اختیارکرنے اور اس علاقے کو اقوام متحدہ کے تحت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔تاکہ ان فارمز کو اصلی مالکین تک لوٹایا جاسکے ۔قابل ذکرہے برطانوی وزیر خارجہ ، فرانسیسی صدر کےدورہ لبنان کے بعد بیروت پہنچے ۔( 9 جون 2008)

 

 

 

 عراق میں دوامریکی فوجی ہلاک

عراق کے شمالی شہر تکریت کے قریب ایک کاربم دھماکے میں ایک امریکی فوجی ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوگئے ۔امریکی فوج کے مطابق یہ بم دھماکہ تکریت کے قریب امریکی فوجیوں کے اڈے کے پاس ہوا ۔اس بم دھماکے میں دوعراقی فوجی بھی زخمی ہوئےہیں ۔قابل ذکر ہے اس سے پہلے  ایک اور  امریکی فوجی عراقی مزاحمت کاروں کی نصب کی ہوئي بارودی سرنگ کے دھماکے میں ماراگيا یہ بارودی سنگ بغداد کے مشرقی علاقے میں امریکی فوجی گاڑیوں کے راستے میں بچھائي گئي تھی ۔اس طرح عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چار ہزار ترانوے ہوگئي ہے ۔جبکہ آزاد ذرایع کا کہنا ہےکہ عراق میں تیرہ ہزار سے زائد امریکی فوجی مارے گئےہیں .( 9 جون 2008)

 

 

 

 

 

ایران ایٹمی حقوق پر قائم رہے گا . علی اصغر سلطانیہ

ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے ویانا میں ایک پریس کانفرنس میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں اور دیگرملکوں کے ذریعہ  پرامن ٹکنالوجی  سے استفادے کے حق کی حمایت  پر مبنی ناوابستہ تحریک کے موقف کی تعریف کی ہے ۔علی اصغر سلطانیہ نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران اپنے ایٹمی حقوق منجملہ یورینیم کی افزودگی سے دستبردارنہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اگر بعض ممالک یہ تصورکرتے ہیں کہ وہ ایران کے ایٹمی معاملے کو طول دیکر اور ایران کےایٹمی پروگرام کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرس میں رکھ کر ایران کو یورینیم کی افزودگي سے دستبردار ہونے پر مجبور کرسکتے ہیں تو وہ غلطی پرہیں ۔تاہم سلطانیہ نے کہا کہ اگر ایران کا ایٹمی  پروگرام بورڈ آف گورنرس کے ایجنڈے سے نکل جائے اور سیف گارڈ معاھدے پر معمول کے مطابق عمل ہونے لگے تو ایران اپنی طرف سے لچک کا مظاہرہ کرسکتاہے اور رضاکارانہ اقدامات انجام دے سکتاہے لیکن جب تک موجودہ صورتحال جاری ہے ایران معاھدوں کے مطابق اپنا تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ بعض ممالک یہ کوشش کررہے ہیں کہ ہر قرارداد کے بعد ایران این پی ٹی معاھدے سے نکل جائے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔( 9 جون 2008)

 

 

 

 

 

 

 

 فلسطینی گروھوں نے صیہونی حکومت کو خبردار کیا ہے 

فلسطین کے جہادی اور مزاحمتی گروہوں نے غزہ پر وسیع حملے کی بابت سے صیہونی حکومت کو  خبر دار کیا ہے ۔خبروں کے مطابق حماس کی فوجی شاخ کے ترجمان ابوعبیدہ نے غزہ پر حملے کےبارےمیں صیہونی حکومت کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر حملہ صیہونیوں کا غلط اقدام ہوگا جسکی انہیں بھاری قیمت ادارکرنی پڑے گي ۔ابو عبیدہ نے کہا کہ صیہونی حکام اپنی داخلی مشکلات پر پردہ ڈالنے کے لئے غزہ پر حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ادھر فلسطین کے جمہوری محاذ کی فوجی شاخ کے ترجمان ابو سلیم نے کہا ہےکہ غزہ پر حملہ کرنے کی صیہونی حکومت کی دھمکیوں کا مقصد فلسطینی قوم کے مستحکم عزم و ارادے کو کمزوربنانا ہے ۔( 9 جون 2008)

 

 

 

 

 

 اتحاد مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت ۔ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی

اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ  امت اسلامیہ کا اتحاد سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ اسلام کو اس مقام تک لے جایا جائے جہاں خدا اسے دیکھنا چاہتاہے ۔آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے مدینہ منورہ میں ایک امام بارگاہ میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمان اختلافات و تنازعات میں الجھ جاتے ہیں اور اس طرح خدا کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کو کھودیتے ہیں ۔آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ اگر اسلامی ممالک متحد  ہوجائیں تو سب سے بڑی طاقت کے طور پر ظاہرہونگے ۔انہوں نے سعودی عرب کے اپنے دورے کا مقصد امت مسلمہ کے اتحاد کی کوششوں میں شریک ہونا بتایا ۔آيت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ مکے اجلاس کا مقصد ديگرادیان سے گفتگو کےلئے آمادہ  ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اتحاد کےساتھ دیگر ادیان سے گفتگو شروع کریں تو ہمیں کامیابی ملے گي اور اگر ہم میں اختلافات باقی رہیں تو ہم اپنی رہی سہی  بھی کھودیں گے ۔( 9 جون 2008)