جمعرات, 05. جون 2008
مکہ مکرمہ کے بین الاقوامی سمینارسے جناب ہاشمی رفسنجانی کاخطاب
تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے مکہ مکرمہ میں منعقدہ اسلامی مذاہب کے درمیان گفتگوکے زیرعنوان ایک بین الاقوامی سیمینارمیں کہا کہ تمام الہی ادیان اوران تمام تہذیبوں کے ساتھ جو ادیان آسمانی کی تعلیمات سے ہی متاثرہیں اسلامی مذاہب کی بات چیت ہونی چاہئے ۔جناب ہا شمی رفسنجانی نے کہا کہ امت اسلامیہ تمام آسمانی ادیان کے ساتھ گفتگو کرسکتی ہے اوراسے ایسا کرنا بھی چاہئے اورانھیں اپنا پیغام پہنچاسکتی ہے ۔آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ آج دنیا کی کل آبادی کا چارحصہ مسلمانوں پرمشتمل ہے پوری دنیا کی بیس فیصد دولت صرف مسلمانوں کے پاس ہے اوربین الاقوامی اداروں میں ان کی ستاون نشستیں ہیں بنابریں یہ ممالک ہرطرح کے عالمی فیصلے پراثراندازہوسکتے ہيں اوراپنی بات پوری قوت کے ساتھ پیش کرسکتے ہيں ۔تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے کہا کہ دنیا کے سب سے اہم اوراچھے سوق الجیشی اوراسٹریٹیجک علاقے ، سب سے اہم آبی گذرگاہيں اورآبنائے ، اوراسی طرح جغرافیائی اعتبارسے سب سے بہترین علاقے اورسب سے بڑی منڈیا ں مسلمان ملکوں کے پاس ہيں اوران کی یونیورسٹیاں بھی تیزی کے ساتھ ترقی کررہی ہيں بنابریں ان حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان عظیم سرمایوں کی جوخداوندعالم نے ہمیں عطاکیا ہے حفاظت کریں ۔جناب ہاشمی رفسنجانی نے کہاکہ صیہونیسم ایک بہت ہی خطرنا ک عامل کی حیثیت سے عالمی کفر کے ہاتھوں میں اوراسلامی ملکوں وامت اسلامیہ کے مدمقابل ہے ۔ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے علاقے میں آشوب اورشیطنت کے مراکزبہت زیادہ ہوگئے ہيں اوریہ بہت ہی خطرناک بھی ہیں کہا کہ فلسطین اس وقت ظالموں کا اصلی چہرہ دکھانے کا ایک المنا ک منظربن چکا ہے اورلبنان اس وقت ایک پیچیدہ تفرقہ اورمشکلات سے گھراہوا ہے ، عراق پر قبضہ ہے اوراس ملک پر غاصبانہ قبضہ جاری رہنے کی صورت میں دوسرے علاقائی ملکوں میں بھی غاصبوں کی طرف سے خطرات لاحق ہیں اوریہاں تک کہ امریکی حکام یہ کوشش کررہے ہیں کہ دباؤ ڈال کرعراقی حکومت کے ساتھ ایک ایسا سمجھوتہ کرلیں جس کے تحت وہ طویل میعاد تک عراق میں رہ سکیں لیکن عراق کے مسلمان عوام اورحکام اوراسی طرح امت اسلامیہ اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ امریکہ اس دورمیں کیپچولیشن کوعراق جیسے ایک ترقی یافتہ اسلامی ملک پر مسلط کرے ۔جناب ہاشمی رفسنجانی نے کہاکہ آج جوکچھ سوڈان صومالیہ اورافغانستان میں ہورہا ہے وہ ایسے مسائل ہيں جوہم پر ذمہ داری عائد کررہے ہيں اورعلماء اسلام پوری گہرائی کے ساتھ اس طرح کے خطرات کودرک کررہے ہيں اورسامراج وصیہونیسم کا خطرہ آج علماء اسلام بخوبی سمجھ ر ہے ہيں جناب ہاشمی نے آخر ميں اس امید کا اظہارکیا کہ تمام مسلمان اپنی پوری توانائی اورصلاحیت آپسی اختلاف اورجھگڑے کے بجائے دنیا کی اصلاح اورترقی کے لئے صرف کريں گے ۔(5جون2008)
پاکستان کی لاہورہائی کورٹ کے بینچ نے نوازشریف اورشہبازشریف کوانتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے خلاف دائردرخواست پرمیاں نوازشریف اورشہبازشریف کواٹھارہ جون کوعدالت میں حاضرہونے کوکہا ہے لاہورہائی کورٹ کے فل بینچ نے شریف برادران کوالیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے بعد ان دونوں کونوٹس جاری کئے ہيں تاہم کورٹ نے شریف برادران کوتاحکم ثانوی انتخابات میں حصہ لینے سےروکنے کی درخواستیں منظورنہيں کیں ۔لاہورہائیکورٹ کے فل بینچ نے شہبازشریف کوپنچاب اسمبلی کی رکینت کا حلف اٹھانے سے روکنے کی درخواست بھی مسترد کردی واضح رہے کہ شہبازشریف پنچاب کی ایک اسمبلی سے پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں ۔(5جون2008)
پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ، تین ریاستوں میں ہڑتال
ہ
ندوستان میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف بائيں بازوکی جماعتوں نے تین ریاستوں مغربی بنگال ، تری پورا اورکیرالا میں آج ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔ ان تینوں ریاستوں میں بائیں بازوکی ہی حکومت ہے اوربائیں بازوکی جماعتیں مرکزی حکومت کی باہرسے رہ کرحمایت بھی کررہيں ہیں ۔بائیں بازو کی جماعتوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کل جمعہ کوپورے ملک میں عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے ان جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اپنے فیصلے کوواپس لے ۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضا فے کے فیصلے کوصحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور اس کا اثر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوگا۔ہڑتال کے دوران سڑکوں پررکاوٹیں کھڑی کی گئیں اورٹرینوں کی آمدورفت کوبھی متاثرکرنے کی کوشش کی گئي جبکہ جگہ جگہ احتجاجی مظا ہرے بھی کئے گئے ۔ بائیں بازوکی جماعتوں نے تیلگودیشم پارٹی اورسماج وادی پارٹی سے بھی کہا ہے کہ وہ بھی اس ہڑتال میں اس کا ساتھ دیں ۔مغربی بنگال میں ترنول کانگریس نے بھی کل جمعہ کوپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔اس درمیان ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ اگرچہ سخت تھا مگرایسا کرنا ضروری تھا ۔(5جون2008)
عراق میں پچاس فوجی اڈوں کا قیام، صدر بش کی آرزو
عراقی پارلیمنٹ کے اکثر اراکین نے امریکی کانگریس کو ایک خط میں تاکید کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی اصل شرط عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلاء ہے ۔موصولہ رپورٹ کے مطابق عراقی پارلیمنٹ کے اکثر اراکین نے امریکی کانگریس کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کۓ جانے والے ہر اس سیکورٹی، فوجی ، اقتصادی، تجارتی اور سیاسی سمجھوتے کی شدید مخالفت کریں گے جس میں عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی تاکید نہ کی گئی ہو۔ عراق کے ارکین پارلیمنٹ نے اس خط میں واضح طور پر لکھا ہے کہ امریکی فوجیوں کو عراق سے نکل جانا چاہۓ اور طویل المیعاد سیکورٹی معاہدے سے متعلق واشنگٹن اور بغداد کے مذاکرات عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء تک ملتوی کۓ جانے چاہییں۔امریکی صدر جارج بش عراق کے ساتھ سیکورٹی معاہدے میں عراق میں پچاس فوجی اڈوں کے قیام ، عراق کی فضائی حدود کی نگرانی اور تمام امریکی فوجیوں اور ٹھیکیداروں کے قانونی تحفظ کے خواہاں ہیں اخبار انڈی پینڈنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ عراق کے ساتھ امریکہ کے نئے سمجھوتے کی شرائط کے مطابق امریکی فوجی عراق میں طویل مدت میں پچاس سے زیادہ فوجی اڈوں سے فائدہ اٹھائیں گے اور امریکی مذاکرات کار اس بات کے خواہاں ہیں کہ امریکی ٹھیکے داروں اور فوجیوں پر عراق کے قوانین لاگو نہیں ہوں گے ، البتہ امریکی فوجیوں کو عراقی باشندوں کی گرفتاری کی مکمل آزادی حاصل ہوگی اور وہ بغداد حکومت کے مشورے کے بغیر فوجی کارروائیاں انجام دیں گے ۔ اخبار انڈی پینڈنٹ نے مزید لکھا ہے کہ ابھی تک امریکی مطالبات کو خفیہ رکھا گیا ہے اور ان کے فاش کۓ جانےسے عراق کے اندر یقینا سخت ردعمل سامنے آۓ گا۔ (5جون2008)
انتخابی نتائج صدر پرویز مشرف اور امریکاکی توقع کے برخلاف
پاکستان کے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ اٹھارہ فروری کو عام انتخابات کے نتائج صدر پرویز مشرف اور امریکا کی توقع کے برعکس نکلے ۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق مرزا اسلم بیگ نے لاہور میں وکیلوں سے خطاب کرتے ہوۓ کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں اور اب ہمیں مستقبل کی جانب دیکھنا ہوگا ۔ مرزا اسلم بیگ نے مزید کہا کہ امریکہ نے پاکستان میں جس انقلاب کا فیصلہ کیا ہے وہ تحریک سے نہیں سازشوں سے آۓ گا۔ مرزا اسلم بیگ نے انکشاف کیا کہ نواز شریف نے جب ایٹمی دھماکہ کیا تھا تو فیصلہ ہوگیا تھا کہ نواز شریف کو جانا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اگر یہ ٹوٹ گیا تو ظلم ہوگا۔ (5جون2008)
کوئٹہ میں بم دھماکہ، دو بچے جاں بحق
پاکستان کے شہر کوئٹہ میں ایک بم دھماکے میں کم از کم دو بچے جاں بحق ہو گۓ ہیں ۔ارنا کی رپورٹ کے مطابق آج صوبۂ بلوچستان اور صوبۂ سندھ کے درمیان واقع کالی زرین ریلوے اسٹیشن میں بم کا ایک دھماکا ہوا ۔ اس دھماکے میں دو بچے جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوگۓ ہیں ۔دو زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ دھماکے میں ریل کی پٹری کا کچھ حصہ بھی اڑ گیا ۔ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔(5جون2008)
سری لنکا، پینتیس تامیل چھاپہ مار ہلاک
موصولہ رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے شمالی علاقوں واوونیا ، منار ، ویلیویا اور جفنا میں فوج کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں پینتیس تامیل چھاپہ مار ہلاک ہوگۓ ہیں ۔ واوونیا میں چھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی ایک جھڑپ میں تامل چھاپہ ماروں نے دس فوجیوں کو ہلاک اور اٹھارہ کو زخمی کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ تامیل چھاپہ ماروں نے اپنے جانی نقصان کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا۔ سری لنکا کی فوج کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔ (5جون2008)
فائو اجلاس بے نتیجہ
اٹلی میں بلاۓ جانے والے فائو کے اجلاس میں شریک ممالک کے سربراہ دنیا کو خوراک کے عالمی بحران سے نکالنے کے لۓ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے ہیں ۔موصولہ رپورٹ کے مطابق فائو کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک کے سربراہوں نے صرف یہ بات تسلیم کی ہے کہ دنیا میں اشیاۓ خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمت دنیا کے دو ملین سے زیادہ افراد کے لۓ ایک بڑی مشکل میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے اس اجلاس میں مسئلے کا حل پیش کۓ بغیر کہا کہ اس بحران سے نکلنے کے لۓ سالانہ پندرہ سے بیس ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور سن دو ہزار پچاس تک خوردنی اشیاء کی پیداوار دوگنی کی جانی چاہۓ ۔ اس رپورٹ کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک اور حکومتوں نے دنیا میں خوراک کے عالمی بحران پر قابو پانے کے لۓ کوئی حل پیش نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ اٹلی کے شہر روم میں واقع فائو کے مستقل ہیڈ کوارٹر میں بلاۓ جانے والے اس تین روزہ اجلاس میں تیس سے زیادہ ممالک کے سربراہ شریک ہوئے ۔ (5جون2008)