|
|
|
پير, 16. جون 2008 |
سلامتی کونسل میں اسلامی ملکوں کی ایک نشست مختص ہونی چاہئے ، رہبرانقلاب اسلامی
رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسلامی ملکوں کی ایک دائمی نشست کوضروری قراردیا ۔
رہبرانقلاب اسلامی نے جزائرکومورکے صدراحمد عبداللہ سامبی سے ملاقات میں فرمایا کہ عالم اسلام کے پاس بے شمار وسائل وذرائع ہيں اوراس کے پاس اپنے دفاع کے لئے کافی قوت وطاقت بھی موجودہے اس کےباوجود وہ اپنے دفاع سے محروم ہے اور اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی ممالک عملی قدم اٹھائيں اور تخیلاتی رکاوٹوں، جغرافیائي اختلافات اور نسلی اور مذھبی اختلافات کو فراموش کردیں ۔آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ عالم اسلام کے پاس بے شمار قدرتی ذخائر ہیں اور اسکی جغرافیائي پوزیشن انتھائی حساس و ممتاز ہے اس کا جغرافیائي رقبہ وسیع وعریض ہے اور اس کی افرادی قوت بھی انتھائي سرگرم ہے بنابریں وہ ایک عظیم طاقت میں تبدیل ہوسکتا ہے ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے سائنس و ٹکنالوجی کے میدانوں میں اسلامی ملکوں کی حالیہ پیش رفت منجملہ پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کے حصول میں ایران کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عالم اسلام کے دشمن یہ جانتے ہوئے کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں پرامن مقاصدکے لئے ہیں اس کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ ایران عوام کا یہ کارنامہ انتھائي شاندار اور آگے کی سمت بڑھتاہواایک قدم شمار ہوتا ہے ۔(16 جون 2008)
امریکی ٹھکا نے پرطالبان کا حملہ
طالبان کے ترجمان نے صوبہ ننگر ہارمیں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کرنے کا دعوی کیا ہے ۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاھد نے ریڈیو تہران کی پشتوسروس کو ایس ایم ایس بھیج کربتایا کہ طالبان جنگجووں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب میں ننگرہار کے آچین شہر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا تاہم امریکیوں کے ممکنہ نقصانات کےبارے میں کوئي رپورٹ نہیں ملی ہے ۔انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ صوبہ کاپیسا کے شہر تکاب میں درہ افغانیہ میں طالبان جنگجووں نے امریکی ٹینکوں پر حملے کئے جنمیں ٹینکوں پرسوار افراد مارے گئے ۔ذبیح اللہ مجاہد نے اسی طرح یہ بھی دعوی کیا ہے کہ طالبان کے افرادنے صوبہ لوگرمیں امریکی فوج کے ٹھکانوں پرچاراکٹ فائر کئے مگراس حملے میں بھی ہوئے جانی نقصانات کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی ۔(16 جون 2008)
افغان سفیردفترخارجہ اسلام آباد ميں طلب
پاکستان نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے بیان پراسلام آباد میں متعین افغان سفیر انور انور زئی کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا ہے ۔پاکستانی دفترخارجہ میں حکام کا کہنا تھا کہ پاکستانی حدود میں صرف پاکستانی فوج ہی کارروائی کرسکتی ہے کسی غیرملکی فوج کو کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پاکستانی حکام کا کہنا تھا اگر افغانستان کی حکومت کو کوئی شکایت ہے تو وہ اسے سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں اٹھائے اور ایسے اشتعال انگیز بیانات دینے سے باز رہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے گزشتہ روز کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں پاکستان کے اندر داخل ہوکر طالبان رہنماؤں کیخلاف کارراوائی کرنے کی دھمکی دی تھی انھوں نے کہا تھا کہ اگرپاکستان کے اندرسے طالبان ، افغانستان میں داخل ہوتے رہے اوراورافغان ٹھکانوں کونشانہ بناتے رہے تواس صورت میں افغانستان کی فوج پاکستان کے اندرداخل ہوکر طالبان کے خلاف کاروائی کرے گی ۔تاہم پاکستان کے دفترخارجہ کے ترجمان محمد صادق نے ان کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا تھا ۔ اوروزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے اپنے ایک بیان میں کہاتھا کہ ہم اپنی سالمیت کا پورے طورپر دفاع کریں گے ۔
اس درمیان آج یہ اطلاعات ہيں کہ افغانستان کے صوبے پکتیامیں سیکڑوں افراد نے ایک اجتماع کرکے افغانستان کے صدرحامد کرزئی کے گذشتہ روزکے بیان کی حمایت کی ہے اورپاکستان سے آکرافغانستان میں حملہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی ضرورت پرزوردیا ہے ۔(16 جون 2008)
عراق کوایران کی حمایت درکار ہے ۔زیباری
عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے کہا ہےکہ عراقی حکومت کوجو ایک جمہوری حکومت ہے ایران کی حمایت کی ضرورت ہے ہوشیار زیباری نے جوامریکہ کے دورے پرہیں سی این این سے انٹریو میں کہا کہ اگر ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو اسے عراق کی سرزمیں سے ایران کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ایران و عراق کے تعلقات دوستانہ ہیں اور دونوں ملکوں کے اقتدار اعلی کے اصولوں پر استوار ہیں۔ہوشیار زیباری نے امریکہ کے مجوزہ سکیوریٹی معاھدے کےبارےمیں کہا کہ امریکی فوجیوں کے لئے عدالتی تحفظ اور عراق میں امریکی فوجیوں کی کاروائياں اوراس جیسے ديگرمعاملات اس معاھدے میں اختلافی مسائل ہیں ۔(16 جون 2008)
صیہونی فوج کی جارحیت تین فلسطینی شہید
غزہ پٹی میں صیہونی فوجیوں نے تین فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے ۔فلسطینی ذرایع کے مطابق صیہونی فوج نے غزہ میں خان یونس کےقریب فلسطینیوں پر حملہ کیا جس کا فلسطینیوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اس جھڑپ میں تحریک جھاد اسلامی کے تین مجاھدین شہید ہوگئے۔صیہونیوں کی ہلاکتوں کےبارے میں کوئي رپورٹ موصول نہیں ہوئي ہے ۔اطلاعات کے مطابق صیہونی فوجیوں نے اسی طرح آج بیت لحم شہرپر حملہ کرکے دوفلسطینیوں کو اغواکرلیا ۔(16 جون 2008)
ہم اپنی سلامتی کوخود یقینی بنائيں گے ۔ متکی
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہرمتکی نے خلیج فارس کے ملکوں سے کہا ہےکہ ہمیں اپنے مفادات کا تعین اس طرح کرنا چاہیے کہ دوسرے ہمسایوں کےمفادات کونقصان نہ پہنچے بلکہ سب سے لئے سلامتی ،خوش حالی ،اور امن واستحکام فراہم ہو۔وزیر خارجہ منوچہرمتکی نے آج تہران میں اٹھارہويں خلیج فارس بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ علاقے کا کوئي بھی ملک تنہا اپنی سلامتی کی ضمانت نہیں دےسکتا۔انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں سکوریٹی صرف علاقائی ملکوں کے ہاتھوں قائم ہوسکتی ہے اور بیرونی ملکوں کے سہارے سلامتی قائم کرنا بے معنی ہے۔ وزیر خارجہ منوچہرمتکی نے کہا کہ بڑی طاقتوں کی فوجی طاقت کے سہارے قائم کی گئي سکیوریٹی کا نتیجہ اختلافات ،جارحیت ، بدامنی ، برادر کشی اور قتل و غارت اور علاقے کی موجودہ اور آيندہ کی نسلوں کے ذخائر کی لوٹ کھسوٹ کے علاوہ اورکچھ نہیں نکلا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیج فارس میں اقتصادی سیاسی اور سلامتی کی یونینیں بنانے کا ماحول نہایت سازگار ہے اور علاقے میں امن و صلح و ثبات قائم کرنے کے ایران کے تجربوں سے واضح ہے کہ ایران پر خلیج فارس میں امن قائم کرنے کے سلسلے میں مکمل طورپر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔(16 جون 2008)