اتوار, 15. جون 2008

ترکی انجرلیک چھاؤنی میں امریکہ کے نوے ایٹم بم

ترکی میں ایک سیاسی تنظیم کے ترجمان نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے ترکی میں انجرلیک فوجی چھاؤنی میں کم ازکم نوے ایٹمی وارہیڈزنصب کررکھے ہیں ۔

ترکی کے اخبار واکیت نے لکھا ہے کہ ترکی کی  سیاسی تنظیم پیس اینڈ جسٹس الائنس کے ترجمان تائفون ماترنے کہا ہے کہ امریکہ نے انجرلیک فوجی چھاونی میں جوامریکہ سے باہر امریکی فوج کی تیسری  سب سے بڑی چھاؤنی ہے اڑتالیس جنگی طیاروں کی تعیناتی کے علاوہ نوے ایٹمی وارہیڈزبھی نصب کررکھے ہيں ۔

تائفون ماتر نےاسی طرح اعلان کیا کہ افغانستان اورعراق پر حملوں کے دوران اوراس  کے بعد انجرلیک فوجی چھاؤنی میں تعینات امریکہ کے جنگی طیاروں نے چارہزارسات سومرتبہ پروازیں کیں اورعراق وافغانستان پربمباری کی ۔

ترکی کی اس سیاسی تنظیم کے ترجمان نے ترکی کی انجرلیک فوجی چھاؤنی میں امریکی فوج کی موجودگی کے نتیجے میں ترکی کے لئے ممکنہ سیکورٹی خطرات کا ذکرکرتے ہوئے ترک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس چھاؤنی کوامریکی فوج سے خالی کرائے ۔(15 جون 2008)

 

 

 

 

وکلاء اپنے رہنماؤں سے سخت ناراض

پاکستان میں وکلاء نے اس بات پرشدید برہمی کا اظہار کیا ہے کہ اتنے طویل لانگ مارچ کے بعد وکلاء رہنماؤں نے اسلام آباد میں لانگ مارچ صرف تقریروں پرہی ختم کردیا ۔

وکلاء نے وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں پرالزام لگایا کہ انھوں نے حکومت سے مل کرسودے بازی کرلی ہے ۔ان وکلاء کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دھرنا دے کر معزول ججو ں کی بحالی کے مطالبے کواورزیادہ قوت کے ساتھ اٹھایا جاسکتا تھا دھرنے میں شریک وکلاء اورسول سوسائٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے یہ لانگ مارچ اپنے وہ مقاصد نہيں حاصل کرسکا جس کی توقع کی جارہی تھی ۔ان وکلاء کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ميں صرف تقریروں کے بعد وکیلوں کو اپنے اپنے گھروں کولوٹ جانےکے وکلاء رہنماؤں کے بیان پر حیرت ہوئی ہے اوراس سے اس شبہہ کوتقویت کوملتی ہے ان وکلاء رہنماؤں نے مالی مفادات کے لئے ایسے فیصلے کئے ۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں جب سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدراعتزازاحسن تقریرکررہے تھے اوریہ کہہ رہے تھے کہ لانگ مارچ ختم ہوگیا ہے اورسب اپنے گھروں کولوٹ جائيں اسی وقت اجتماع میں شریک لوگوں نے ان کے خلاف نعرے لگائے تھے اورانھيں غداربھی قراردیاتھا ۔اعتزازاحسن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں دھرنے کے لئے انتظامات نہیں ہيں اورنہ ہی ان کے پاس اتنے وسائل ہيں ۔(15 جون 2008) 

 

 

 

 

برطانیہ میں دو راہبوں کی آپس میں شادی

برطانیہ میں ایک کلیسا نے ایک کفرآمیزاقدام کے تحت دومرد راہبوں کی ایک دوسرے سے شادی کردی ہے ۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف نے اپنی آج کی اشاعت میں لکھا ہے کہ دوراہب مردوں کی آپس میں یہ شادی لندن کے ایک کلیسا میں ہوئی البتہ  اخبارنے شاد ی کی تاریخ کا کوئی ذکرنہیں کیا ہے اس شادی کے دوران دونوں راہب مردوں نے ایک دوسرے کوانگوٹھیاں پہنائیں اورآنگلیکن کلیسا کے رواج کے مطابق اپنا عقد پڑھا ۔

برطانوی کلیسا کے قدامت پسندوں نے اس اقدام کوکفرآمیزقراردیا ہے برطانوی کلیسا کے ترجمان نے کہا کہ اس دستورالعمل کے مطابق جو برطانوی کلیسا کے اسقف اعظم نے جاری کیا ہے راہبوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں کا عقد پڑھیں بنابریں جب عقدپڑھنے کی اجازت نہيں ہے تواس صورت میں خود دومرد راہب کیسے آپس میں شادی کرسکتے ہيں ۔برطانیہ اورامریکہ سمیت متعدد مغربی ملکوں میں کلیسا کے اندراخلاقی بدعنوانی کی خبریں تیزی کے ساتھ منظرعام پرآرہی ہيں ۔(15 جون 2008) 

 

 

 

 

 

حامد کرزئی کی پاکستان کے اندرازخود کاروائی کرنے کی دھمکی

افغانستان کے صدرحامد کرزئی نے دھمکی دی ہے کہ وہ طالبان کے سرکردہ رہنماؤں کوگرفتار کرنے کے لئے اپنی فوج پاکستان کے اندربھی بھیج سکتے ہيں ۔

دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ افغان فورسسزکواپنے ملک کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے انھوں نے کہا کہ اگرپاکستان کے اندرسے دہشت گرد افغانستان میں داخل ہوتے رہے تواس صورت میں افغانستان کی فوج اس طرح  کی کاروائیوں کا منہ توڑجواب دیےگی افغان صدرنے پاکستان میں مقامی طالبان کے رہنما بیت اللہ محسو کوبھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی فورسسزانھيں بھی ڈھونڈھ نکالیں گی اوران کا خاتمہ کردیا جائے گا

افغان صدرحامد کرزئی نے اسی طرح طالبان کے لیڈرملا عمر کے بارے میں بھی کہا کہ وہ بھی محفوظ نہيں رہ سکتے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بارہے جب افغانستان کے صدرنے پاکستان کے اندرازخود کاروائی کرنے کی دھمکی دی ہے اس سے پہلے وہ عالمی برادری سے اپیل کرتے رہے تھے کہ وہ پاکستان پر اس سلسلے میں دباؤ ڈالے ۔(15 جون 2008) 

 

 

 

 

 

پیکج کا ہوشیاری کے ساتھ جائزہ لیں گے ۔ اسپیکرلاریجانی

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکرنے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پوری ہوشیاری اورمکمل نگرانی کے ساتھ پانچ جمع ایک گروپ کی جانب سے  پیش کردہ پیکج کا جائزہ لے گی ۔

ڈاکٹر علی لاریجانی نے آج پارلمینٹ کے عام اجلاس میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے شعبے کے سربراہ خاویرسولانا کے دورہ تہران کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ سولانا اوران کے ہمراہ وفد  نے مجوزہ پیکج اورپانچ جمع ایک گروپ کے وزراء خارجہ کا خط پیش کیا اوراپنی بھی کچھ باتيں کیں ۔ پارلیمنٹ کے اسپیکرنے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاملات کومذاکرات کے ذریعہ حل کئے جانے کا خیرمقدم کرتا ہے اوراس سلسلے ميں ایرانی عوام کا مطالبہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہی ہے ۔ڈاکٹرلاریجانی نے کہا کہ ہم پانچ جمع ایک گروپ کے ملکوں کویہ نصیحت کرتے ہيں کہ وہ ایران کوالگ تھلگ کرنے کی کوششوں سے بازآجائیں کیونکہ اس سے صرف وہ اپنا وقت ہی برباد کریں گے  ۔(15 جون 2008) 

 

 

 

 

 

اپنی فوج عراق سے واپس نہ بلائے ، برطانیہ کوبش کی دھمکی 

امریکی صدربش نے برطانیہ کوخبردار کیا ہے کہ وہ عراق سے اپنی فوج واپس نہ بلائے  ۔

امریکی صدربش نے جو یورپی ملکوں کے دورے کے آخری مرحلے میں ہیں برطانوی اخبار آبزرور سے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات پرتشویش ظاہر کی کہ برطانیہ اپنی فوجيں جلد اوروقت سے پہلے واپس بلارہا ہے ۔ بش نے کہا کہ اگربرطانیہ نے ایسا کیاتو اس صورت میں اتحادیوں کی کا میابی شکست میں تبدیل ہوجائے گی ۔

جارج بش نے ساتھ ہی اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکہ اوربرطانیہ پر اپنی اپنی عراق سے واپس بلانے کے لئے بہت زیادہ دباؤ ہے تاہم انھوں نے کہا کہ ہم عراق سے اپنی فوج واپس بلانے کے لئے کسی طرح کا نظام الاوقات وضع نہيں کرسکتے  ۔(15 جون 2008) 

 

 

 

پانچ جمع ایک گروپ کا پیکج تکراری ہے ، ماہرین 

یورپی یونین کے امورخارجہ کے سربراہ خاویرسولانا نے پانج جمع ایک گروپ کا جوپیکج ایران کوپیش کیا ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ مغرب کے سابقہ غیرقانونی مطالبات کو ہی نئے الفاظ ولب ولہجے میں پیش کیا گیا ہے ۔

یورپ کے اس نام نہاد مراعاتی پیکج میں جسے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خاویرسولانا نے نامہ نگاروں کوبھی دکھایا اوراس کی کا پیاں پیش کیں پرامن مقاصد کےلئے ایٹمی ٹکنالوجی کے حصول پر مبنی ایران کے مسلمہ حق کونظراندازکرتے ہوئے کچھ باتوں کو ایران کے ساتھ تعاون کی زمین کے طورپر پیش کیا گیا ہے اوریوں اس پیکج میں مغرب کے سابقہ مراعاتی پیکج کے مقابلے میں کوئی نئی بات شامل نہیں کی گئی ہے  ۔

اس پریس کانفرنس میں خاویرسولانا نے اسی طرح پانچ جمع ایک گروپ کے خط کی وہ کاپی بھی نامہ نگاروں کودکھائی جو،ان ملکوں کے وزراء خارجہ کی طرف سے ایران کے وزیرخارجہ کے لئے لکھا گیا تھا اس خط ميں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ ان کے پیکج کا بغورجائزہ لے ۔ اس درمیان پانچ جمع ایک گروپ کے اس پیکج کا مضمون عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکزبنا ہوا ہے

اس مضمون کے مطابق ایران سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے ، جو ایک تکراری بات ہے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیکج میں کوئی بھی نئی  بات نہيں ہے اوریورینییم کی افزودگی روک دینے کی درخواست ایک دوسرے طریقے سے کی گئی ہے اس کے باوجود خاویرسولانا نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پانج جمع ایک گروپ کا پیکج ایران کے ساتھ حقیقی مذاکرات کا آغازثابت ہوگا ۔انھوں نے کہا کہ پانج جمع ایک گروپ پرامن مقاصد کے حصول کے لئے ایران کے حق کوتسلیم کرنے کے لئے پوری طرح سے تیار ہے انھوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ چند مہینوں میں ایران کے ساتھ مذاکرات شروع ہوں گے ۔خاویر سولانا نے اسی طرح دنیا کے اہم ملکوں کوپیش کئے گئے ایران کے پیکج کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پیکج اورتجاویزمیں متعدد مشترکہ باتیں ہیں جن پر مل کرکام کیا جاسکتا ہے ۔سولانانے اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری سعید جلیلی سے ملاقات میں بھی کہا کہ ایران کے پیکج کے بارے میں پانج جمع ایک گروپ کا نظریہ مثبت ہے ۔

پانج جمع ایک گروپ کے ذریعہ پیش کئے گئے نام نہاد مراعاتی پیکج کے سلسلے ميں مغربی ذرائع ابلاغ میں نشرکی جانے والی خبریں ایک ایسے وقت لوگوں کی توجہ کا مرکزبنائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایران نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کے تعلق سے مذاکرات کے لئے ہروقت تیار ہے لیکن وہ اپنے مسلمہ حقوق سے ہرگزدستبردارنہيں ہوگا۔

ایران کا کہنا ہے کہ یوریینم کی افزودگی ریڈلائن ہے اور اس موضوع پر کسی بھی طرح کی کوئی بات نہيں ہوسکتی  ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے ترجمان غلام حسین الہام نے کہا ہے ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں مگراپنے مسلمہ حقوق سے دستبرداری کی صورت میں نہيں اوریورینیم کی افزودگی کوروکنے کا موضوع ختم ہوچکا ہے اوراس پر کوئی بات نہيں ہوگی ۔(15 جون 2008)