|
|
|
جمعه, 13. جون 2008 |
عراق امریکہ سیکورٹی معاہدہ عراق کے دامن پر شرمناک دھبہ: امامی کاشانی
تہران کی مرکزی نماز جمعہ کے خطیب آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا ہے کہ اگر عراق اور امریکہ کے درمیان سیکورٹی معاہدہ ہوتا ہے تو یہ عراق کے دامن پر ایک شرمناک دھبہ ہوگا ۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے آج تہران میں لاکھوں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوۓ نماز جمعہ کے خطبوں میں امریکہ اور عراق کے سیکورٹی معاہدے کی بعض شقوں کی جانب اشارہ کیا اور عراق کی حکومت اور ملت کو خبردار کیا کہ اگر اس معاہدے پر دستخط ہوگۓ تو یہ ان کی پیشانی پر ایک رسوا کن داغ بن کر رہ جاۓ گا۔ اور عراق کی آئندہ نسل اس معاہدے کے سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے والوں اور اسے قبول کرنے والوں سے باز پرس کرے گی۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے اس معاہدے کو قبول کرنے کو عراقی ملت اور حکومت کے اقتدار اعلی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ جیسا کہ آیت اللہ سیستانی نے کہا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں تب تک اس معاہدے پر دستخط اور عمل درآمد نہیں ہونے دوں گا ، عراقی عوام کو بھی اس شرمناک معاہدے کو تسلیم نہیں کرنا چاہۓ اور نہ صرف ملت عراق بلکہ تمام مسلمان اقوام کو اس معاہدے کے خلاف احتجاج کرنا اور اس پر دستخط کۓ جانے کے سدراہ ہونا چاہۓ۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے مزید کہا کہ تمام مسلمان اقوام امت واحدہ ہیں اور سب کو امریکہ کے ناجائز مطالبات کے مقابلے میں عراقی حکومت اور ملت کی حمایت کرنی چاہۓ۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے امریکہ کو عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک قرار دیا اور اسلامی جمہوریہ ایران سے متعلق امریکہ کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوۓ امریکی صدر بش کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ تم ہو جو ہر روز اپنے ہتھیاروں کے گودام بڑھا رہے ہو اور غاصب اسرائیل کی حمایت کے ذریعے کہ جو اقوام کے لۓ خطرہ ہے اور جس کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ، دنیا کے لۓ خطرہ پیدا کررہے ہو۔(13 جون 2008)
ایران افغانستان کی تعمیر نو میں مدد دے گا: منو چہر متکی
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ منو چہر متکی نے افغانستان کی تعمیر نو میں مدد دینے کے ایران کے عزم کی تاکید کی ہے۔جناب منو چہر متکی نے پیرس میں فرانسیسی ٹی وی چینل فرانس چوبیس کو انٹرویو دیتے ہوۓ پیرس میں افغان حکومت ، اقوام متحدہ اور حکومت فرانس کی مشترکہ کوششوں سے بلائی جانے والی ڈونر کانفرنس اور اس میں اپنی شرکت کو افغان حکومت اور اداروں کی حمایت کے مترادف قرار دیا ۔ جناب منوچہر متکی نے افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی وسیع موجودگي کے بارے میں کہا کہ دوسروں کی جانب سے افغانستان کے لۓ کی جانے والی امداد سنجیدہ ، ہمہ گیر اور افغانستان میں جلد از جلد استحکام پیدا ہونے اور ترقی کرنے کے مقصد سے ہونی چاہۓ۔ جناب منو چہر متکی نے مزید کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ گزشتہ سات برسوں سے یورپی ممالک نے افغانستان میں جو پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں وہ ناکام ہوچکی ہیں اور افغانستان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ممالک نے افغانستان کی تعمیر نو میں مدد دینے کے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔(13 جون 2008)
کویت ایران کے ایٹمی معاملے کے پرامن حل کا خواہاں
کویت کی وزارت حارجہ کے دفتر براۓ ایشیاء کے ڈائریکٹر محمد البدر نے ایران کے ایٹمی معاملے کے پر امن حل پر زور دیا ہے۔محمد البدر نے کویت سے شائع ہونے والے جریدے الانباء سے گفتگو کرتے ہوۓ ایران کے ساتھ کویت کے دیرینہ تعلقات کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ کویت ایران کے ایٹمی معاملے کے پرامن حل کا خواہاں ہے۔ محمد البدر نے زور دے کر کہا ہم عالمی برادری سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے قوانین کے تناظر میں ایران کے ایٹمی معاملے کو حل کرے گی۔ محمد البدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات دوستانہ ہیں اور ہم نے ہمیشہ ان تعلقات کے استحکام کی کوشش کی ہے ۔(13 جون 2008)
پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے: حیدر خان ہوتی
پاکستان کے صوبۂ سرحد کے وزیر اعلی حیدر خان ہوتی نے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر نظر ثانی کۓ جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی پر امریکہ کے حملے کے بعد کہ جس میں گیارہ پاکستانی فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہۓ ۔ واضح رہے کہ امریکی طیاروں نے بدھ کے دن پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی مہمند ایجنسی پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں گیارہ پاکستانی فوجی مارے گۓ ۔ پاکستانی حکام نے اس حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوۓ اس پر شدید تنقید کی ہے جبکہ امریکہ نے اس حملے کو جائز کہا ہے۔(13 جون 2008)
صیہونی فوج کے فضائی حملے میں ایک اور فلسطینی شہید
غزہ پٹی پر صیہونی فوج کے فضائی حملے میں ایک اور فلسطینی شہید ہو گیا ہے ۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جنگی ہیلی کاپٹروں نے آج غزہ کے جنوب میں واقع خان یونس پر بمباری کی ۔ جس میں ایک فلسطینی شہید اور تین زخمی ہوگۓ ہیں ۔صیہونی فوجیوں نے آج قلقیلیہ ، رام اللہ اور الخلیل کے علاقوں پر حملے کر کے کم از کم پانچ فلسطینیوں کو فلسطینی مجاہدین کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد تفتیشی مراکز میں منتقل کردیا ہے ۔فلسطینی مجاہدین نے صیہونی فوجیوں کے حملوں کا جواب دیتے ہوۓ اس حکومت کے فوجی اڈوں اور صیہونی کالونیوں پر راکٹ برساۓ ہیں۔دریں اثناء صیہونی حکومت کی وزارت جنگ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے مصر کو غزہ میں موجود فلسطینی گروہوں کے ساتھ جنگ بندی کی اپنی شرائط سے آگاہ کردیا ہے ۔موصولہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت جنگ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اسرائیل کے نائب وزیر جنگ براۓ سیاسی اور سیکورٹی امور عاموس گلعاد نے قاہرہ میں مصر کے حکام کو فلسطینیوں کے ساتھ جنگ بندی کے لۓ اپنی شرائط تحریری طور پر پیش کردی ہیں۔ اس ذریعے نے صیہونی فوجی اڈوں اور صیہونی کالونیوں پر فلسطینیوں کی جانب سے راکٹوں کے حملے بند کۓ جانے اور اسرائیلی فوجی گلعاد شالیت کی آزادی کو اسرائيل کی اصل شرائط بتایا ہے۔(13 جون 2008)
شمالی وزیرستان کے چار باشندے طالبان کے ہاتھوں ہلاک
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے چار باشندوں کو طالبان نے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے ۔ہماری پشتو سروس کی رپورٹ کے مطابق ان چار افراد کو طالبان نے دتہ خیل شہر کے خرسیل علاقے میں امریکیوں کے لۓ جاسوسی کرنے کے الزام میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا ہے ۔ ہلاک ہونے والوں میں شمالی وزیرستان کے ایک بڑے قبیلے کا ایک سردار بھی شامل ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں طالبان جنوبی اور شمالی وزیرستان کے علما اور رہنماؤں سمیت سینکڑوں افراد کو امریکہ کے لۓ جاسوسی کرنے کے الزام میں ہلاک کر چکے ہیں۔(13 جون 2008)
امریکہ میں گرمی کے باعث تیس افراد ہلاک
امریکہ کے مشرقی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث تیس افراد ہلاک ہوگۓ ہیں۔موصولہ رپورٹ کے مطابق فیلاڈلفیا کے ہسپتال کے ذرائع نے کہا ہے کہ اس علاقے میں شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے سات افراد ہلاک ہوگۓ ہیں جبکہ آٹھ افراد کی لاشیں ملی ہیں ۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ شدید گرمی کی وجہ سے نیویارک میں چھ ، ویرجینیا میں سات اور میری لینڈ میں دو افراد ہلاک ہوگۓ ہیں۔ واضح رہے کہ ہفتے کے دن سے منگل تک امریکہ کے مشرقی علاقوں میں درجہ حرارت چالیس سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا ۔(13 جون 2008)