جمعرات, 12. جون 2008

 بوش ماضي کی غلطیوں کا ازالہ نہیں کرسکتے ۔ایران

اسلامی جمہوریہ ایران نے ایرانی عوام کے مسلمہ حقوق کے سلسلے میں امریکی صدر بش کے یکطرفہ مخاصمانہ اقدامات کو غیر موثر قراردیا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی نے بش کے حالیہ بیان پر رد عمل ظاہرکرتے ہوئے جو انہوں نے یورپ میں دیا کہا کہ ایرانی عوام کے مسلمہ حقوق کے سلسلےمیں بش کی یکطرفہ اور دشمنانہ پالیسیوں سے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے حقائق پرکوئي اثر نہیں ہوگا۔وزارت خارجہ کےترجمان نے کہا کہ امریکی صدر بش اپنے دورہ صدارت کے باقی بچے مختصر عرصے میں اپنے جھوٹے اور غیر حقیقت پسندانہ بیانات کے ذریعےماضی کی غلطیوں کا ازالہ نہیں کرسکتے ۔انہوں نے کہا کہ بش کے غیر ذمہ دارانہ بیانات درحقیقت امریکہ کے نوقدامت پسند دھڑوں کی طرف سے مصنوعی بحران پیدا کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہے جو یہ کوشش کررہے ہیں کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے پر مبنی آئي اے ای اے کی صریحی رپورٹوں کے باوجود جھوٹے پروپگينڈوں اور بے بنیاد الزامات لگاکر ایرانی عوام کے عزم و ارادے کو متزلزل کریں ۔اسلامی جہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر کی مایوس کن کارکردگي سے ایرانی عوام کے ارادے اور بھی مستحکم ہونگے ۔انہوں نے امریکیوں کو نصیحت کی کہ وہ عالمی معاھدوں اور بین الاقوامی اداروں کا احترام کرنا سیکھیں تاکہ اس سے زیادہ عالمی سطح پر امریکہ کو گوشہ نشین ہونےسے بچاسکیں ۔(12 جون 2008) 

 

 

 

 

صیہونی فوج کی وحشیانہ کاروائیاں تین فلسطینی شہید

غزہ پٹی پر صیہونی فوج  کے تازہ حملے میں تین  فلسطینی مجاھد شہید ہوگئے  ۔غزہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بیت لاھیا پر صہیونیوں کے حملے کے بعد صیہونی غاصبوں کےساتھ فلسطینی مجاھدین کی جھرپیں  ہوئي جنمیں تین  فلسطین شہید ہوگئےجمہوری محاذ برائي آزادی فلسطین کی فوجی شاخ کے ترجمان ابو سلیم نے تین فلسطینیوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ ان جھڑپوں میں صہیونیون کو بھی نقصان پہنچاہے انہوں نے کہا کہ بیت لاھیا میں فلسطینی گروہوں کی مزاحمت سے ظاہرہوتا ہےکہ جنگ بندی قبول کرنا ان کی کمزوری  کی  علامت نہیں ہے ۔گذشتہ روز بھی غزہ میں صہیونیوں کے ساتھ جھڑپوں میں چار فلسیطینی مجاھد شہید ہوئے تھے۔ ادھر صیہونیوں نے غرب اردن کے مختلف علاقوں پر حملے کرکے تین فلسطینیوں کو مجاھدین کےساتھ تعاون کرنے کےالزام میں اغواکرلیا۔صیہونی فوجی ہرروز غزہ پٹی اور غرب اردن پر حملے کرکے کئي فلسطینیوں کو اغواکرلیتے ہیں ۔اطلاعات کے مطابق فلسطینی مجاھدین نے صیہونی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے صیہونی فوجیوں کے ٹھکانوں اور صیہونی کالونیوں پر راکٹوں سے حملے کئےہیں۔ ( 12 جون 2008)

 

 

 

 

 

مہمند ایجنسی میں لشکر کی تیاری

پاکستان میں مہمند ایجنسی میں قبائل نے سرحدوں کی حفاظت کے لیے لشکر تیار کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جنگ آن لائن نے ذرائع کے حوالے سےلکھا ہے کہ مہمند ایجنسی میں صافی قبائل اور موسیٰ خیل قبائل کا اجتماع ہوا۔جس سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی عمایدین نے کہا کہ گذشتہ روز پاک افغان سرحد پر اتحادی فوج کے حملے کا جواب حکام نے بر وقت نہیں دیا۔ جس کے باعث وہ مجبوراً سرحدوں کی حفاظت کے لیے بڑا لشکر تشکیل دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اعلان کے بعد مسلح قبائل پاک افغان سرحد پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور لشکر کی تیاری کا کام جاری ہے۔دوسری طرف مہمند ایجنسی میں گذشتہ روز کے اتحادی فوجی حملے کے بعد سوگ کی کیفیت ہے اور دشوار گزار سرحدی علاقے سے13 زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کو مختلف اسپتالوں میں پہنچادیاگیا ہے ۔ ( 12 جون 2008)

 

 

 

 

صیہونی حکومت غیر قانونی ہے ۔متکی

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے کہا ہےکہ غاصب صیہونی حکومت کو گذشتہ ساٹھ برسوں سے یہ قلق ہے کہ اس کی حیثت غیرقانونی ہے ۔ارنا کی رپورٹ کے مطابق منوچہر متکی نے پیریس میں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ صیہونی حکومت کو قانونی حیثیت حاصل نہ ہونا حزب اللہ کے  ہاتھوں تینتیس روزہ شکست کے زخم سے کہیں گہرزخم ہے ۔ انہون نے کہا کہ فلسطین تمام فلسطینیوں کا ہے خواہ وہ مسلمان ہوں یہودی ہوں یا پھر عیسائي ۔وزیر خارجہ منوچہر متکی نے کہا کہ صیہونی حکومت کو اب بھی تینتیس روزہ جنگ میں شکست کے جھٹکے لگ رہے ہیں ایسی شکست جوکلاسیکل فوج کے ہاتھوں نہیں بلکہ حزب اللہ نامی مزاحمتی گروہ کے ہاتھوں ہوئي تھی ۔ منوچہرمتکی نے کہا کہ اس جنگ نے صیہونی حکومت کے ناقابل شکست ہونے کا بت پاش پاش ہوگیا ہے منوچہر متکی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ  صیہونی حکومت کے وحشیانہ اقداما ت کی روک تھام کے لئے اس کے خلاف اقدام کرے  انھوں نے کہا کہ قدس کی غاصب حکومت نے تمام قوانین اور عالمی قراردادوں کواعلانیہ طورپر پامال کیا ہے ۔وزیر خارجہ منوچہر متکی نے دوحہ میں لبنانی گروہوں کے معاھدے پر اطمئنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاھدے سے تمام لبنانی گروہوں کے مطالبات  پورے ہوئے ہيں اور ملک میں امن و استحکام کی زمین  ہموار ہوئي ہے ۔انہوں نے کہا کہ لبنان کے تعلق سے یہ مسئلہ درپیش تھا کہ کچھ ممالک لبنان کے بارےمیں لبنانی قوم کے بجائے خود فیصلے کرنا چاہتے تھے لیکن لبنان میں گذشتہ بیس ماہ سے جاری حالات سے پتہ چلتا ہےکہ یہ کوششیں ناکام ہوگئي ہیں ۔(12 جون 2008)

 

 

 

 

متکی وقریشی ملاقات

اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے وزراء خارجہ نے پیریس میں افغانستان کے لئے ڈونرکانفرنس کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں علاقائی صورت حال بالخصوص افغانستان کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ نے اسی طرح باہمی دلچسپی کے امورپربھی بات چیت کی ۔

ایران کے وزیرخارجہ منوچہر متکی اورپاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی اس ملاقات میں ایران پاکستان اورافغانستان کے وزراء خارجہ کی مشترکہ میٹنگ کے وقت اورتاریخ کے بارے میں بھی گفتگوکی ۔افغانستان کی مدد کے زیرعنوان ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس آج پیریس میں ہورہی ہے جس میں دنیا کے اسی سے زائد ملکوں کے اعلی نمائندے اوراسی طرح اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کون شریک ہیں ۔پیریس میں ایک پریس کانفرنس میں وزیرخارجہ منوچہرمتکی نے کہا کہ افغانستان کی مدد کےلئے جووعدے کئے گئے تھے ان پرابھی تک عمل نہیں کیا گیا اورجومددکی گئی ہے وہ افغانستان کی ضرورت کے اعتبارسے بہت ہی کم ہے ۔انھوں نے امدادینےوالے ملکوں سے کہا کہ وہ اپنے وعدے پرعمل کريں ۔(12 جون 2008)

 

 

 

 

مہمند ایجنسی پرامریکی حملہ، پاکستان کا شدید احتجاج

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں امریکی و اتحادی طیاروں کی بمباری میں ایک پاکستانی  میجر اورایف سی کےمتعدد  اہلکاروں سمیت 20 افراد کی ہلاکت کے بعد اسلام آبادمیں متعین امریکی سفیر کودفترخارجہ طلب کر کے سخت احتجاج کیا گیا  ہے  پاکستانی دفتر خارجہ نے حملے کو پاکستان اور افغانستان  کے مابین عالمی سرحدی معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیااوراتحادی افواج کے حملے کوجارحانہ اقدام قراردیا اس درمیان پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے ایک بیان میں  کہا کہ ملکی سالمیت کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرینگے جبکہ افغانستان میں موجود امریکی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں اس حملے کی تصدیق کی ہے مگراس سے زیادہ کچھ نہیں کہا البتہ پاکستان کے ذرا‏ئع نے خبردی ہے کہ  افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس حملے سے قبل پاکستان کو مطلع کردیا گیا  تھا ادھر  امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ مہمند ایجنسی پر حملہ اپنے دفاع کے لیے کیاگیا ہے  ۔ایک اوراطلاع یہ ہے امریکی فوج نے رات گئے 24گھنٹے کے اندر پاکستانی سرحد پر دوسرا حملہ کیا یہ وزیرستان میں کیا گیا اس حملے میں مارٹر گولوں کا استعمال کیا گیا  اور ر شمالی وزیرستان میں امریکی  جاسوس طیاروں کی پروازیں جاری رہیں۔واضح رہے کہ امریکی و اتحادی فوج نے  منگل اور بدھ کی درمیانی شب مہمند ایجنسی کے علاقے گورا پرائی میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر فضائی بمباری کی اور میزائل فائر کیے، جس کے نتیجے میں میجر اکبر اورایف سی کے متعدد اہلکاروں سمیت بیس افراد جاں  بحق ہوگئے جن کی نمازجنازہ اداکردی گئی ہے 40اس حملے میں چالیس افرادابھی تک لاپتہ ہیں پاکستان کی  فوج کے ترجمان نےپاکستانی  سیکورٹی فورسس کے اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی وا تحادی فورسز کے مہمند ایجنسی پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمّت کی ہے اورکہا ہے کہ اس دہشت  گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے عمل کونقصان پہنچ سکتا ہے  پاکستان کی فوج کےترجمان نے مزید کہا کہ اتحادی فورسز کی اس بزدلانہ کاروائی کے خلاف سخت احتجاج کیا جائیگا ۔(12 جون 2008)