|
|
|
بدھ, 11. جون 2008 |
صیہونی فوج کے وحشیانہ اقدامات چارفلسطینی شہید
غزہ میں صہونی فوج کے ہوائی حملے میں تین فلسطینی شہید ہوگئے ہیں ۔ فلسطین سےموصولہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ صیہونی فوج کے طیاروں نے آج مشرقی جبالیا میں ایک سولین کار پرحملہ کیا جس کے نتیجے میں محمد عسیلہ نامی ایک فلسطینی شہید اوردوبچے زخمی ہوگئے صیہونی فوج نے غزہ کے ہی علاقے خان یونس کے ایک محلے القرارہ پربھی ہوائی حملہ کیا جس میں محمود سعد نامی ایک فلسطینی شہید ہوا اس سے پہلے القرارہ میں ہی صیہونی فوج نے توپخانے سے حملہ کیا تھا جس میں ایک دس سالہ فلسطینی بچی شہید ہوگئی تھی اس حملے میں ایک ہی گھر کے تین افراد زخمی بھی ہوگئے
ایک اورواقعے میں صیہونی فوج نے ایک ساٹھ سالہ فلسطینی خاتون جوبیمارتھی اسے صیہونی فوج نے اسپتال نہ جانے دیا اوروہ بیماری کی وجہ سے دم توڑگئی ۔غزہ میں صیہونی فوج کے ذریعہ بیماروں کواسپتال منتقل کرنے سے روکنے کے غیرانسانی اقدام کے نتیجے میں اب تک ایک سواٹھہتر فلسطینی مریض جاں بحق ہوچکے ہيں ۔(11 جون 2008)
لانگ مارچ ،وکلاء کے قافلے لاہورروانہ
پاکستان میں معزول ججوں کی بحالی کیلئے وکلاء کے لانگ مارچ کے تحت قافل ملتان سے لاہور کی جانب روانہ ہوچکے ہيں اس لانگ مارچ میں سول سوسائٹی اورسیاسی تنظیموں کے کارکنان کی بھی بڑی تعداد موجود ہے ۔ملتان سے روانگی سے قبل معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی تحریک اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، سفر کٹھن اور طویل ہے اور وقت بھی کم ہے،مجھے یقین ہے کہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونگے اور آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ قانون تمام لوگوں کو انصاف کے حصول کا حق دیتا ہے . جسٹس افتخار چوہدری نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالتے ہی ميں نے فیصلہ کیا تھا کہ لوگوں کو انصاف ان کی دہلیز پر فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا لوگوں کو سمجھ میں آگیا ہے کہ انصاف ان کا حق ہے اور اسے ہر صورت حاصل کریں گے،ہماری بقاء صرف آئین کی بالادستی اورآزاد عدلیہ میں ہے۔ اس دوران پاکستان پیپلزپارٹی شریک چئرمین آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کوجانے والے راستوں پر کنٹینر کی شکل میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کوہٹالینے کی ہدایت جاری کردی ہے اس سےپہلے گذشتہ جب وکلاء کا جلوس سکھر سےملتان کے لئےروانہ ہواتھا اسلام آباد میں شاہراہ دستوراورپارلیمنٹ کوجانے والی سڑکوں کوبند کردیا تھا ۔ دریں اثناء پاکستان سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدراعتزازاحسن نےکہا ہے کہ ہم احتجاج ہی کرسکتے ہیں ہم خونین انقلاب نہیں لاسکتے اورنہ ہی ہم وکیلوں سے اس کی توقع کی جائے انھوں نے کہا کہ ہماری اس تحریک اورلانگ مارچ کا کیا مقصداورہدف ہے یہ تواسلام آباد پہنچنے پرہی واضح ہوسکے گا۔
دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نوازشریف لندن سے پاکستان پہنچ گئے ہيں انھوں نے اسلام آباد پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی تحریک پوری قوم کی آوازہے اورہم اس کی پوری حمایت کرتے ہيں ۔(11 جون 2008)
صیہونی حکومت شام کی شرطین قبول کرے
شام کے نائب وزیر فیصل مقداد نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت سے براہ مذاکرات قبل ازوقت ہیں ۔فیصل مقداد نے کہا کہ جب صیہونی حکومت ساز باز صلح معاھدے کےلئےشام کی شرطیں قبول کرلے گی تو شام اس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرےگا۔انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لئے شام کی سب سے اہم شرط جولان پہاڑیوں سے صیہونی قبضے کا خاتمہ ہے ۔شام کر نائب وزیر خارجہ نے ترکی کی ثالثی سے صیہونی حکومت کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی تصدیق کی اور امید کا اظہار کیا کہ صیہونی حکومت امن معاھدے کے لئے سنجیدگي کا مظاہرہ کرے گي ۔(11 جون 2008)
جنوبی کوریا امریکہ مخالف عظیم مظاہرہ
جنوبی کوریا میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے عظیم ریلی نکال کر امریکہ سے گائے کے گوشت کی درآمدات کی شدید مذمت کی۔سئول سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے شمعیں اٹھارکھی تھیں ،امریکہ سے گائے کے گوشت کی درآمدات پر احتجاج کرتے ہوئے صدر لی میونک باک کے استعفی کا مطالبہ کیا۔یہ مظاہرہ ایسے عالم میں ہوا ہےکہ جنوبی کوریا کی کابینہ استعفی دیے چکی ہے ۔ جنوبی کوریا کے صدر لی میونک باک نے جوامریکہ نواز اور قدامت پسند ہیں گذشتہ اپریل میں امریکہ سے گوشت درآمد کرنے کی اجازت دی تھی ۔(11 جون 2008)
وزیر خارجہ منوچہر متکی افغانستان ڈونرس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے پیریس پہنچے ہیں ۔افغانستان ڈونرس کانفرنس کل جمعرات کو پیریس میں ہوگي جسمیں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون ،افغانستان کے صدر حامد کرزئي اور اسی ملکوں کے نمائندے اور بین الاقوامی تنظیمیں شرکت کررہی ہیں ۔اس نشست میں افغانستان کےصدر حامد کرزئي اسٹراٹیجک قومی ترقیاتی منصوبہ پیش کرین گے اور اس پرعمل درآمد کے لئے پچاس ارب ڈالر کی امداد کی درخواست کریں گے ۔قابل ذکرہے افغانستان کئي برسوں سے امریکہ اور نیٹو کی فوجوں کے تحت ہے اس دوران صرف اور صرف غربت میں اضافہ ہوا ہے ۔(11 جون 2008)
صیہونی دھمکی اس کے بحرانوں کی غماز
فلسطین کے عوامی وزیر اعظم اسماعیل ہنيہ نے کہا ہےکہ غزہ پٹی پر وسیع حملے کی صیہونی دھمکی قدس کی غاصب حکومت کو درپیش بحرانوں کی نشان دہی کرتی ہے ۔قدس نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ غزہ پٹی پر وسیع حملے کرنے کی صیہونی دھمکیاں کھوکھلی دھمکیاں ہیں اور ا یہود اولمرٹ کی حکومت کے بحرانوں کو ظاہرکرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تحریک حماس اور فلسطین کی منتخب حکومت فلسطین کے قومی مذاکرت کے لئے سازگار ماحول بنانے میں کسی کوشش سے دریغ نہیں کرے گی ۔(11 جون 2008)
ایران کے خلاف دشمنوں کی سازشیں بچگانہ حرکت ہے ۔صدراحمدی نژاد
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرجناب احمدی نژادنے ایرانی قوم کے خلاف دشمنوں کی سازشوں کوایک بچگانہ حرکت قراردیا ۔
صدرجناب احمدی نژادنے آج ایران کے شہر، شہرکرد میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے اپنے خطاب ميں کہا کہ عالمی استکبار نے گذشتہ دوبرسوں میں اپنےتمام تروسائل کے ساتھ منفی پروپیگنڈوں ، تخریبی اقدامات اوربین الاقوامی اداروں پراثراندازہوکر ایران کے خلاف سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائدکیں اورجنگ کی دھمکیاں دے کرایران کے عوام پر نفسیاتی جنگ مسلط کی اورشدید دباؤ ڈالا ۔
صدرمملکت نے اس بات کاذکرکرتے ہوئے کہ یہ سال ایرانی عوام کے خلاف دشمنوں کی سازشوں اورگھناؤنے منصوبوں کاسال ہے اوریہ کہ اس طرح کی سازشیں بچگانہ حرکتیں ہیں کہاکہ امریکہ اوراس کے ساتھی انتہائی بزدلانہ طریقوں سے ایرانی عوام کے مدمقابل اٹھ کھڑے ہوئے ہيں ۔ صدرجناب احمدی نژاد نے اس بات کاذکرکرتے ہوئے کہ ایران کی قوم نے بہت سے سخت اوردشوارمراحل کوطے کیا ہے اورآج ایٹمی ٹکنالوجی کی ترقی کے زینے کوطے کرچکی ہے کہا کہ دشمن ایران کی عزت وسربلندی کی راہ میں حائل نہيں ہوسکتے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ گذشتہ تیس برسوں ميں خاص طورپر امریکہ کے موجود ہ صدربش کے دورصدارت میں امریکی حکام نے بہت ہی کوشش کی کہ ایران کونقصان پہنچائیں کہا کہ بش نے افغانستان اورعراق پر حملہ کیا اوراعلان کیا کہ تیسرا ہدف ایران ہے جبکہ بش کا پہلا ہدف ایران تھا ۔صدرجناب احمدی نژادنے کہا کہ بش نے صیہونی حکومت کوخوش کرنے کے لئے اپنے فوجی کمانڈروں سے کہا تھا کہ کم ازکم ایران کی فضا میں ساؤنڈ بیریر ہی کراس کردیں لیکن امریکی فوجی کمانڈروں نے اس سلسلے میں بش کو خبردارکیا اورکہا کہ یہ کام غیرممکن ہے ۔
صدرجناب احمدی نژادنے کہا کہ آج کل امریکی صدربش دوبارہ اس فکرمیں لگ گئے ہیں اوروہ یورپ کے ملکوں کے سربراہوں سے ملاقات کررہے ہيں لیکن ان کا زمانہ گذرچکا ہے اورایران کے دشمن ایران کے عوام کے اندراختلاف و تفرقہ پھیلانے اورانھیں مایوس کرنے کی حسرت لئے ہی درگورہوجائیں گے۔ (11 جون 2008)
سوڈان طیارہ حادثے پر ایران کی ہمدردی
اسلامی جمہوریہ ایران نے سوڈان میں طیارے حادثے پر افسوس کیا اور سوڈان حکومت اور اس حاد ثے میں جان بحق ہونے والوں کےاھل خانہ کے ساھت ہمدردی کا اظہار کیا ۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید محمد علی حسینی نے کہا کہ سوڈان میں طیارے کے حادثے پر ایرانی عوام اور حکومت کو شدید دکھ ہواہے ۔قابل ذکرہے گذشتہ روزشام کے وقت سوڈان کا ایک مسافر طیارہ جو عمان سے آرہاتھا خرطوم ایئرپورٹ پراترتے وقت آتش زدگي کا شکارہوگيا ۔اس حادثے میں ایک سو سے زائد مسافروں کے جان بحق ہونے کی اطلاع ہے ۔(11 جون 2008)
تہران کے خلاف واشنگٹن اور یورپ کے الزامات
اسلووینیا میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں امریکہ اور یورپی حکام نے ایک بارپھر یہ الزام لگایا ہےکہ ایران کا ایٹمی پروگرام دنیا کے لئے خطرہ ہے اور ایران سے ایٹمی پروگرام بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی صدر بش نے اس اجلاس میں ایران کو مزید سخت پابندیوں کی دھمکی دی اور کہا کہ امریکہ اور یورپ ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام بند کردےورنہ بصورت دیگر ان کے الفاظ میں ایران کو مزید سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔بش نے یورپ کے دورے پرروانہ ہوتے ہوئے کہاتھاکہ وہ ایران کے خلاف سخت پابندیاں لگانے کے لئے یورپ کی حمایت حاصل کرنے کی آخری کوشش کریں گے ۔ان کے اس یورپی دورے کو الوادعی دورہ کہا جارہا ہے۔بش نے اسلوینیا میں یہ الزام بھی لگایا کہ ایران نے آئي اے ای اے کے مطالبات مسترد کردئےہیں اور یورینیم کی افزودگی کے بارےمیں ایران کے دعووں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ قابل ذکر ہے امریکہ ایسے عالم میں ایران پرالزامات لگارہے کہ آئي اےای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہےکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اور اس میں کسی طرح کی فوجی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی ہے ۔(11 جون 2008)
پاکستان کے سرحدی علاقے مہمند ایجنسی پر امریکی حملہ تیرہ جاں بحق
پاکستان کے قبائلی علاقے پر امریکی طیاروں کی بمباری میں فوجیوں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہوئےہیں ۔اسلام آباد سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے بتایا ہےکہ امریکی طیاروں نے گذشتہ شب مہمند کے قبائیلی علاقے پر بمباری کی جسمیں فوجیوں سمیت تیرہ افراد مارے گئے ہلاک ہونے والے فوجیوں میں ایک میجر بھی ہے ۔مقامی ذرایع کے مطابق بمباری سے قبل نیٹو اور افغان فوج نے اس علاقے میں ایک چک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی تھی ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق نیٹو اور افغان فوج نے مہمند علاقے میں شیخ بابا نامی سرحدی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا ہے ۔یہ متنازعہ علاقہ ہے ۔ادھر پاکستان کے ایک مقامی عھدیدارنے نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں حالات کشیدہ ہيں ۔(11 جون 2008)